نواز شریف کی کچھڑی

209

پاکستان میں کہاوت کے مطابق کبھی کوئی ایسا لمحہ تو آتا ہی نہیں جب کوئی ہلچل نہ مچی ہو۔ تو اس اعتبار سے وطنِ مرحوم میں ہر گھڑی تاریخ رقم ہوتی رہتی ہے لیکن اس کی تاریخ جب آئندہ لکھی جائے گی اور اس مورخ کے قلم سے تحریر ہوگی جس کے دامن پر جذبات میں کھو جانے کا کوئی داغ نہیں ہوگا تو وہ یہ لکھے گا کہ عجیب و غریب ملک تھا پاکستان کہ جہاں بار بار چوری کرتے ہوئے پکڑے جانے والے اور ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے ڈاکو بھی ان کے چہروں سے نقاب اتر جانے کے بعد بھی عوام کی آنکھوں کے تارے بنے رہے اور اس کے علاوہ وہ ملک کی عدالتوں کو بھی چکر پہ چکر دیتے رہے اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے!
یہ جو چور اور عدالت کا کھیل ایک عرصہ سے ملک میں جاری ہے اس کی بہترین یا بدترین مثال تو زرداری اور نواز شریف کی ہے۔ یہ دونوں ایک مدت دراز سے قانون کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے آ رہے ہیں اور اس عمل میں ایسے منجھ چکے ہیں اور ان کے حوصلے اتنے بلند ہوچکے ہیں کہ یہ سمجھتے ہیں کہ قانون ان کا بال بھی بانکا نہیں کرسکے گا۔ اور ہاں، کل کا مورخ یہ بھی ضرور کہے گا کہ پاکستان کے سیاسی اور سماجی کلچر پر اس سے بڑی لعنت کیا ہوسکتی ہے کہ یہ دونوں ملک کے اعلا ترین سیاسی عہدوں پر فائز رہے۔ زرداری ملک کا پانچ برس صدر رہا اور پورے نظام نے اس کے عہدے کی مدت پوری ہونے پراسے باعزت اس کے گھر بھجوایا۔ اور نواز کا تو کیا کہنا کہ اس جیسی فہم و فراست والا ، نیم خواندہ انسان، ایک دو بار نہیں بلکہ تین بار ملک کا وزیرِ اعظم رہا اگرچہ اس کی چوری ہر بار پکڑی گئی اور تینوں بار وہ اپنی آئینی مدت اقتدارپوری نہیں کرسکا لیکن ان تمام تر تلخ حقائق کے باوجود یہ دونوں آج بھی پاکستانی سیاست میں برابر کے شریک ہیں اور قانون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہے ہیں کہ ہمت ہو تو ہمیں سلاخوں کے پیچھے ڈال کے دکھاؤ۔
ان دونوں میں زرداری یا تو نواز کے مقابلے میں زیادہ بہادر ہے یا زیادہ چالباز کیونکہ وہ کراچی میں ہی بیٹھا ہوا ہے اور اپنے خلاف مقدمات کی پیروی کررہا ہے لیکن نواز ملک سے فرار ہے اور جیسے فرار ہوا ہے وہ سب جانتے ہیں کہ کیسے بیماری کا بہانہ بناکر وہ عدالتوں کے تعاون سے عمران حکومت کی آّنکھوں میں دھول جھونک کے لندن سدھارے اور اب وہاں سے عمران اور فوج کے خلاف باقائدہ مہم چلا رہا ہے!
ہم نے اپنے گذشتہ کالم میں اس تقریر کا ذکر کیا تھا جو نواز نے حال ہی میں ہونے والی حکومت مخالف چنڈال چوکڑی کی بیٹھک کیلئے لندن سے لی تھی اور عمران نے اسے نشر ہونے کی اجازت دیکر نواز کے غبارہ میں سے ہوا نکال دی تھی۔ لیکن اب لگتا ہے کہ نواز اور حواری ایک باقائدہ مہم چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو بظاہر ملک کو ، ان کی نظروں میں معتوب اور ناکام حکومت سے عوام کو نجات دلوانے کی غرض سے چلائی جائیگی لیکن جس طرح کی بیان بازی نواز لندن سے اور ان کی نورِ نظر صاحبزادی مریم پاکستان میں شروع کرچکی ہیں اس سے اس ادراک کو تقویت ملتی ہے کہ اس مہم کا مقصد اس ایجنڈے کو فروغ دینا ہے جو پاکستان دشمن طاقتوں نے تیار کیاہے، اور ہر سمجھدار پاکستانی جانتا ہے کہ اس مہم کا سرغنہ نریندر مودی کا حواس باختہ بھارت ہے اور بھارتی جنتا پارٹی کا وہ جنونی منشور جو نہ صرف بھارت ورش کو صرف ہندوؤ ں کیلئے رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کے ناپاک ارادوں میں پاکستان کے حصے بخرے کرنا بھی شامل ہے تاکہ ہندوتوا کی بالادستی کو یقینی بنایا جاسکے!
پاکستان کو کمزور اور منتشر کرنا بھارت کے ہندو جنونیوں کا بہت پرانا خواب ہے جو مودی سرکار کی آمریت سے پہلے ممکن ہے صرف دیوانے کا خواب رہا ہو لیکن جب سے بھارتی جنتا پارٹی کی قیادت مودی جیسے موذی کے قبضہ میں گئی ہے یہ باقاعدہ بھارت سرکار کا علاقائی ایجنڈا بن چکا ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے جہاں ہر طرح کے حربے آزمائے جارہے ہیں وہیں اس میں اب جدید دورِ ٹیکنالوجی کا وہ ہتھیار بھی شامل ہوگیا ہے جسے ففتھ جنریشن جنگ کہا جاتا ہے۔ آسان لفظوں میں اس ہتھیار کا ہدف مخالف کو نفسیاتی طور پر کمزور اور بے دست و پا کرنا ہوتا ہے جس کیلئے اسی ملک کے بغلی گھونسوں کو استعمال کیا جاتا ہے جسے توڑنا یا کمزور کرنا مقصود ہوتاہے۔
ہندوستان میں فرنگی راج کو پنجے گاڑنے کیلئے جو سب سے کامیاب ہتھیار ملا تھا وہ یہی بغلی گھونسے تھے جنہوں نے مال و منال اور زمینوں کے انعام کے عوض اپنے ملک کو فرنگیوں کے ہاتھوں بیچ دینے میں کسی قسم کی اخلاقی قدروں کو حائل نہیں ہونے دیا تھا۔ کھل کے ملت فروشی کی تھی انہوں نے جن کی اولادیں آج پاکستان میں بڑے کرو فر اور تفاخر کے ساتھ بزعمِ خود پاکستان پر حکومت کرنے والی اشرافیہ اپنے آپ کو کہتی ہیں۔
فرنگی حربے اب مودی سرکار کی پاکستان کو کمزور کرنے کی مہم میں آزمائے جارہے ہیں اور اس کیلئے ان سیاستدانوں کو بطورِ خاص استعمال کیا جارہا ہے جو آسانی سے بک جاتے ہیں یا بک سکتے ہیں۔ نواز شریف اور اس کا خاندان مودی کی پاکستان دشمن تحریک میں ہراول کے دستے کا کام کررہے ہیں۔
نواز شریف دھوکہ دیکر پاکستان سے بھاگا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے منصوبوں میں پاکستان واپسی ترجیحات میں کہیں نہیں ہے۔ پاکستان کی عدالتیں، وہی جن کی ہمدردی اور مدد سے یہ جعلساز پاکستانی حکومت کو جل دینے میں کامیاب رہا تھا اسے مفرور قرار دے چکی ہیں۔ وہ اب اشتہاری ملزم بھی ہے۔ اب اسے نظر آرہا ہے کہ پاکستان میں اس کا سیاسی کیرئیر ختم ہونے کو آرہا ہے۔ برادرِ خورد، شہباز جو اپنی اہمیت جتانے کو بار بار یہ پروپیگنڈا خود بھی کرتے رہے تھے اور لفافہ صحافیوں کے قلم اور آوازوں سے بھی کروا چکے تھے کہ انہیں وزارتِ عظمی کی پیشکش تھی، انہیں کی طرف سے جنہیں برادرِ کلاں، میاں نواز، خدائی مخلوق یا جانے اور کیا کچھ کہہ چکے ہیں، اگر وہ بڑے بھائی سے اپنا سیاسی قبلہ بدل لیں لیکن، ان کے بقول انہوں نے انکار کردیا جس کی پاداش میں وہ بیچارے اب معتوب ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شہباز، جو نواز سے کہیں زیادہ چالاک اور مکار ہے، گلے گلے تک کرپشن کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور اس کی حالیہ گرفتاری کے بعد اب نہیں لگتا کہ وہ پاکستانی سیاست میں اپنا کھویا ہوا مقام کبھی واپس پا سکے گا۔ نواز کا اہداف اب یہ ہیں کہ، سب سے پہلے تو وہ حکومتِ پاکستان کو بے بس کردے اس مہم میں کہ اس بھگوڑے اور مفرور نواز کو برطانیہ کی مدد سے پاکستان واپس لایا جائے تاکہ سزا یافتہ مجرم اپنی سزا پاکستان میں کاٹے۔ سو نواز اب ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے جس میں وہ اپنے آپ کو برطانوی قانون کی نظر میں سیاسی مظلوم بنا کر پیش کرسکے جو پاکستانی حکومت کے انتقام کی
پالیسی سے بچنے کیلئے برطانیہ میں رہنا چاہتا ہے۔ برطانیہ کی شخصی آزادیوں کے قوانین سے یہ مفرور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تاکہ وہ پاکستانی قانون کی گرفت سے دور رہے۔ پاکستانی قانون کی دسترس سے محفوظ رہنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اربوں ڈالر جو نواز اور کنبے نے پاکستان سے لوٹے ہیں وہ محفوظ رہینگے اور حکومت پاکستان ان تک رسائی نہیں پاسکے گی!
یہ نواز اس نچلے طبقے کا فرد ہے جس نے آنکھ کھول کے دولت تو کیا خوشحالی بھی نہیں دیکھی تھی۔ اب اس کی حیات کا سب سے بڑا ہدف اور ارمان ہی یہ ہے کہ بے ایمانی کی کمائی کی ایک پائی بھی اس نامی چور کے قبضہ سے نہ نکلنے پائے۔ کم ظرف کی سب سے بڑی پہچان یہی ہوتی ہے کہ اس کیلئے چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے ہی زندگی کا ماحصل ہوتا ہے۔ نواز کا تیسرا ہدف یہ ہے کہ دخترِ نیک اختر مریم کسی طرح باپ کی طرح حکومت کو جل دیکر یا بلیک میل کرکے پاکستان سے فرار پاجائے۔ مریم کا بینظیر بننے کا خواب تو اب پورا ہوتا نظر نہیں آرہا تو والدِ بزرگوار ہر قیمت پر اپنی لاڈلی کو عمران حکومت کی پہنچ سے بہت دور لیجانا چاہتے ہیں۔
تو اس مذموم ایجنڈا کے حصول کیلئے ایک طرف نواز لندن میں اپنی پناہ گاہ سے تیر چلارہا ہے تو دوسری طرف مریم اندرونِ ملک ان کی مدد سے جو سیاسی طور پر یتیم ہوچکے ہیں اور جن کا سیاست میں آنے کا سارا فلسفہ ہی یہ رہا ہے کہ اس کے ذریعہ لوٹ مار اور بے ایمانی سے دولت جمع کی جائے حکومت کو بلیک میل کرنے کی مہم پر کاربند دکھائی دیتی ہیں۔ سیاسی بلیک میلنگ کے گھناؤنے کھیل میں پیش پیش وہ فاسق اور فسادی ملا فضل الرحمان ہے جس کی لوٹی ہوئی دولت کا صحیح تخمینہ نیب کا ادارہ بھی ابتک حتمی طور پر نہیں لگا سکا ہے لیکن یہ رقم بھی اربوں کی ہے۔ مکان، کوٹھیاں، اراضی، ڈیزل کے درجنوں پمپ اور نہ جانے کیا کیا اس دین فروش ملا کے نام سے یا اس کی اولاد کے نام سے ہے۔ ایک بیٹا قومی اسمبلی کا رکن ہے تو دوسرا پاکستان سے ہزاروں میل دور فوجی کے جزیروں میں نائٹ کلب چلارہا ہے اور ہزاروں ایکڑ اراضی کا بھی مالک ہے۔ ملا یوں اور بلبلا رہا ہے کہ نیب نے اسے بھی آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں طلب کرلیا ہے جس پر مفسد ملا بہت چیں بہ چیں اور چراغ پا ہے۔ تو اب یہ سب سیاسی یتیم، بھانڈ ، مسخرے اور بلیک میلرز ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں اور ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے اجتماع سے حکومت بوکھلا جائے گی اور بدحواسی میں وہ کچھ کربیٹھے گی جو ان کے ناپاک ہاتھ مضبوط کرسکیں گے۔ سو اگلا قدم کوئٹہ میں ۱ اکتوبر کو جلسہ کرنے کا ہے جسمیں یہ سب بھانڈ جمہوریت کو بچانے اور جمہور کی گلو خلاصی کیلئے اپنے گلے پھاڑینگے۔
لیکن مودی سرکار کے ان گماشتوں کے واویلا یا سینہ کوبی سے نہ عمران حکومت خوفزدہ ہونے والی ہے اور نہ ہی لندن میں چھپے ہوئے نواز کی افواجِ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی سے عسکری قیادت کے ہاتھ پیر پھولنے سے رہے۔ مودی اس مہم سے بہت خوش ہو تو اسے حق ہے کہ اس کے زرخرید پاکستانی سیاسی شعبدہ باز اس کی دھن پر کیسے بے سدھ ہوکے ناچ رہے ہیں۔ لیکن کتوں کے بھونکنے سے راہگیر اپنا رستہ تو نہیں چھوڑتے اور نہ ہی رخ بدلتے ہیں۔ ہاں اس مذموم مہم سے ملت فروشوں کے داغدار چہرے بے نقاب ضرور ہورہے ہیں اور پاکستان کے عوام اب اچھی طرح سے جان جائینگے کہ ان کے حقوق اور مفادات کے نعروں کی حقیقت کیا ہے اور سیاسی جعلساز ان کی آڑ میں کس بے شرمی سے قوم کی آزادی اور حریت کا سودا کرنا چاہ رہے ہیں۔ یہ سیاسی گماشتے آج وہی کھیل کھیل رہے ہیں جس کیلئے میر جعفر اور میر صادق بدنام ہیں۔