بھارت، داعش کے گٹھ جوڑ سے عالمی سطح پر دہشت گردی کی کارروائیوں کا انکشاف

207

دنیا بھر میں دہشت گردی، خصوصاً دہشت گردی تنظیم داعش کی کاروائیوں، کے سلسلے میں اہم انکشاف ہوا ہے اور بھارت کے داعش سے ایشیا سمیت دنیا بھر کے ممالک میں روابط اور حملوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

امریکی ادارے فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اب داعش کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے شدت پسندوں میں سے اکثریت کا تعلق بھارت اور وسطی ایشیا سے ہے۔

افغانستان میں طالبان ان دنوں حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف ہیں لیکن دوسری جانب داعش کی شدت پسند کارروائیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں۔

حال ہی میں اگست میں افغانستان کے صوبہ خراسان میں داعش نے جلال آباد کی جیل پر حملہ کیا تھا تاکہ اپنے قید ساتھیوں کو رہا کرا سکیں اور اس حملے میں سب سے دلچسپ امر یہ تھا کہ اس میں افغان، بھارتی ور تاجک باشندوں نے شرکت کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ اس طرز کے حملوں کی ایک نئی اور خطرناک ترین عمل ہے جس میں بھارت سمیت مختلف ممالک کے باشندوں نے مل کر ایک ہی جھنڈے تلے حملہ کیا ان حملوں میں 2019 میں ایسٹر کے موقع پر چرچ میں کیا گیا حملہ بھی شامل ہے جس میں 300 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔