ایک خواب کی تعبیر نے شاہد آفریدی کی تقدیر بدل دی

162

کراچی: ایک خواب کی تعبیر نے شاہد آفریدی کی تقدیر بدل دی جب کہ نیروبی میں نیند میں جو دیکھا 2 روز بعد میدان میں ویسا ہی کردکھایا۔

شاہد خان آفریدی دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو اپنی ہارڈ ہٹنگ سے محفوظ کرکے انٹرنیشنل کیریئر کو الوداع کہہ چکے، وہ اب صرف چند گنی چنی لیگز میں ہی ایکشن میں دکھائی دیتے ہیں مگر عالمی کرکٹ پر ان کے نقوش مدتوں یاد رکھے جائیں گے، ان میں 37 بالز پر سنچری بھی شامل ہے جو محض اپنے دوسرے ہی انٹرنیشنل میچ میں اسکور کی تھی۔

اگرچہ بعد میں یہ ریکارڈ پہلے نیوزی لینڈ کے کورے اینڈرسن کے ہاتھوں ٹوٹ چکا اور بعد میں جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ویلیئرز نے صرف 31 بالز پر تھری فیگر اننگز سے ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کیا، مگر جو شہرت شاہد آفریدی کو اس اننگز سے حاصل ہوئی وہ کسی کے حصے میں نہیں آئی اور اسی نے ان کی قسمت بدل کر رکھ دی۔

شاہد خان آفریدی 1996 میں انڈر 19 ٹیم کے ساتھ ویسٹ انڈیز کے دورے پر تھے جب انھیں مشتاق احمد کے انجرڈ ہونے کی وجہ سے 4 ملکی ٹورنامنٹ کیلیے بطور لیگ  اسپنر ٹیم میں شامل کیا گیا، نیروبی میں انھوں نے نیٹ پریکٹس میں جب اپنی بیٹنگ کے جوہر دکھائے تو وسیم اکرم اور وقار یونس بھی حیران رہ گئے، پہلا میچ کینیا سے تھا۔