کملہ اور اوبامہ میں مماثلت

261

سابقہ امریکی سیاہ فام صدر باراک حسین اوبامہ کے بعد دوسری سیاہ فام سابقہ اٹارنی جنرل اور سینیٹر کملہ دیوی ہیرس نائب صدر کی امیدوار بنی ہیں جن کے والد محترم سیاہ فام جمیکن امریکن ڈونلڈہیرس اور والدہ بھارتی نژاد امریکن شملہ کپلان ہیرس جو اپنے آبائی ملکوں سے پچاس کے عشرے میں امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے تشریف لائے، کملہ ہیرس کے والد پروفیسر ڈونلڈ حارث ایک ماہر معاشیات ہیں جبکہ والدہ شملہ کپلان ہیرس نیوٹریشن ہیں دونوںپی ایچ ڈی ہیں، دونوں برکلے کیلیفورنیا سے گریجوایٹ ہیں، دونوں بائیں بازو کے نظریات کے حامل ہیں جن کی بدولت کملہ دیوی ہیرس ترقی پسند سوچ کی مالک ہیں جس کی وجہ سے وہ امریکہ کی سب سے بڑی ریاست کیلیفورنیا سے بطور ایک سیاہ فام خاتون پہلے ڈسٹرکٹ اٹارنی، اٹارنی جنرل اور سینیٹر منتخب ہو چکی ہیں، کملہ دیوی ہیرس کی دوسری بہن مایا ہیرس بھی وکیل ہیں جبکہ شوہر یہودی النسل ڈگلسن ایف ہاف بھی وکیل ہیں جن کے پہلی شادی سے دو بچے ہیں مگر دونوں نوجوان بچے اپنی سوتیلی ماں کملہ ہیرس سے بہت پیار کرتے ہیں، کملہ دیوی ہیرس کے والد جمیکن سیاہ فام عیسائی والدہ بھارتی ہندو اور شوہر یہودی جس طرح صدر باراک اوبامہ کے والد کا تعلق کینیا افریقہ اور والدہ امریکن سفید فام تھیں جو عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی تھیں یہی وجوہات ہیں کہ اوبامہ کا نام باراک( وہ گھوڑا جو حضور پاک ﷺ کو آسمانوں پر لے گیا تھا) اور حسین حضرت امام حسین ؑ کی نسبت جبکہ اوبامہ خاندانی نام تھا۔اسی لئے کملہ دیوی ہیرس اور باراک اوبامہ میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔
مزید برآں کملہ ہیرس کے والدین میں پانچ سال بعد 1969ء میں طلاق ہو گئی جس طرح اوبامہ کے والدین کے درمیان بہت جلد طلاق ہو گئی تھی، کملہ ہیرس اور بہن مایا ہیرس کے والدین میں بچوں کی کسٹوڈی میں عدالتی جنگ ہوئی جس کے اثرات بچوں پر پڑے جس کے باوجود دونوں بہنوں نے قانون کی تعلیم حاصل کر کے پیشہ ور بن کر اپنی تمام ماضی کی تلخیوں پر قابو پا لیا، والدہ کے پاس رہنے سے بچوں میں رنگ سیاہ فام ہے مگر کلچر ایشیائی پایا جاتا ہے جس کے اثرات سیاہ فاموں کے علاوہ ایشیائی باشندوں پر بھی پڑیں گے، تاہم کملہ دیوی ہیرس نے زندگی میں بڑی جدوجہد کی جنہوں نے بطور عورت اور سیاہ فام قانون کی تعلیم کے بعد کامیاب وکیل بنیں جس کی بنا پر ڈسٹرکٹ اٹارنی، اٹارنی جنرل اور بعدازاں سینیٹر منتخب ہوئیں جن کے نظریات امریکی سینیٹر برنی سینڈر سے ملتے جلتے ہیں، یہی وجوہات ہیں کہ برنی سینڈرز نے صدر اور نائب صدر جوبائیڈن اور کملہ کی حمایت کر دی ہے تاکہ امریکہ پر قابض فاشٹ صدر ٹرمپ کا مقابلہ کیا جائے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں وہ نظریہ سیاسی، معاشی اور سماجی پروان چڑھے گا تاکہ عام امریکن کو مفت تعلیم، مفت صحت، یونیورسل اصلاحات نافذ ہوں ،امریکہ میں وہ دائیں بازو کے حامی جو ترقی پسندوں کو باغی اور غدار قرار دیا کرتے تھے وہ آج مزاحمت کا ر اور احتجاجی جدوجہد کے نام سے پکاررہے ہیں یا پھر لبرل کا لقب دے رہے ہیں جو جدیدیت کا پرچار کررہے ہیں کہ ملک کو فرسودیت سے نکالا جائے تاکہ ہر شخص کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہو۔
علاوہ ازیں ماضی میں امریکہ میں بائیں بازو کے ساتھ بہت زیادتی ہوتی رہی ہیں جس میں درسگاہوں، طلباء، اساتذہ اور محنت کشوں کو بری طرح سیاسی اور معاشی اور سماجی نقصانات پہنچائے گئے جس کا مظاہرہ پاکستان میں ہوتا رہا ہے کہ انگریز کے پیدا کردہ جاگیرداروں، وڈیروں، رسہ گیروں کو مضبوط کیا گیا جو ملکی اسٹیبلشمنٹ کا اتحاد ی ہے جو جمہوری نظام کا دشمن ہے، جس کا پیدا کردہ نظام سقہ حکمران بنا ہوا ہے جس نے ملک کو تباہ و برباد کر ڈالا ہے جس کے بڑے بھیانک نتائج برآمد ہورہے ہیں، بہرکیف کملا ہیرس بھارتی نژاد ماں اور سیاہ فام والد کی بیٹی ہے جن کے اندر امیگرینٹس کے بارے میں قدرتی ہمدردیاں ہیں جن کو صدر ٹرمپ نشانہ بنائے ہوئے ہیں، جن سے امید رکھی جا سکتی ہے کہ آئندہ اپنے دور حکومت میں امریکہ میں بسنے والے پندرہ ملین بنا کاغذات امیگرینٹس کے بارے میں اوبامہ کی طرح وسیع پیمانے پر عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے مجوزہ طبقہ کو قانونی درجہ دے جو امریکی کی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں جن کے بغیر امریکی کھیتی باڑی، صفائی ستھرائی اور دوسرے نچلے کام کاج کرنا ناممکن بن چکا ہے جو ہر سال اربوں ڈالر ٹیکس ادا کرتے ہیں مگر اس ملک کے شہری نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ تمام انسانی مراعات اور سہولیات سے محروم ہیں جس میں تعلیم اور صحت سرفہرست ہیں جس کی وجہ سے امریکہ میں کرونا سے زیادہ تر لاطینی کمیونٹی متاثرہوئی ہے جو ڈر کے مارے گروہوں اور گروپوں میں رہائش پذیر تھے جو ہر طرح کی میڈیکل سہولت سے محروم تھے جس کی وجہ سے کرونا کے ہاتھوں مارے گئے۔
بہرحال جوبائیڈن اور کملا کا واسطہ ایک جرمن نژاد سے پڑا ہے جو نازی ازم، نسل پرست، فسطائیت کا حامی ہے جس کے دور حکومت میں نسل پرستی ابھر کر سامنے آئی ہے جس کا مظاہرہ اور مشاہدہ پولیس کے ہاتھوں سیاہ فاموں کی قتل و غارت گری ہے جو باقی ماندہ رنگداروں کے خلاف بھی کھلے عام بکواس کرتا نظر آتا ہے جس سے امریکی اقلیت خوف زدہ ہے، ایک طرف ٹرمپ میکسیکو کے سامنے دیوار نفرت تعمیر کررہا ہے دوسری طرف مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا نظر آتا ہے جس سے آج نہیں تو کل قتل عام ہو سکتا ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ امریکی اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کی اپنی ڈیوٹی سمجھ کے ووٹنگ میں حصہ لینا ہو گا خاص طور پر سائوتھ کی ریاستوں میں ٹرمپ کو شکست دینا ہو گی جہاں وہ خوفناک نازی قاتل پیدا کررہا ہے اس لئے بعض حضرات خاص طور پر پاکستان امریکن کے دلوں اور دماغوں سے یہ سب کچھ نکالنا ہو گا کہ کملہ حارث ایک بھارتی ماں کی بیٹی ہے جو شاید نہیں جانتے کہ وہ ایک ترقی پسند ہے جس طرح بھارت میں ارون دھتی رائے ترقی پسند ہے جو مسلمانوں اور کشمیریوں کے حقوق کے لئے دن رات پرچم بلند کئے ہوئے ہے، لہٰذا ہمیں کملہ حارث کو بلاتفریق جتوانا ہو گا جس کے لیے ہمیں امریکہ کی گلی کوچوں میں ووٹ مانگنے ہونگے تاکہ اقلیتوں پر ظلم و ستم کے بادل ٹل جائیں۔