کل جماعتی کانفرنس

243

امید یہی تھی کہ نواز سیاست میں لوٹ آئیں گے مگر یہ اندازہ کم تھا کہ ARMY BACKEDعمران کی حکومت اتنی کھوکھلی نکلے گی، بوکھلاہٹ ایسی کبھی دیکھی نہیں گئی، بظاہر مولانا فضل الرحمن کی APCکامیاب تھی، اعلامیہ بھی احتیاط سے تیار کیا گیا ہے، مطالبات میں بہت سے سوراخ ہیں، صاف پتہ چل رہا ہے کہ جو مطالبات کئے گئے ہیں ان کے لئے اپوزیشن سنجیدہ نہیں ہے، اور خوف میں مبتلا ہے، جو ماسٹر پلان دیا گیا ہے اس سے تو پتہ چل رہا ہے کہ عمران کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں اور یہ بھی کہ گیارہ میں سے تین جماعتوں کی متحرک نمائندگی تھی اور ان تینوں کے درمیان بھی اختلافات کی خلیج ہے، پی پی پی، مسلم لیگ اور فضل الرحمن کا اپنا اپنا نکتہ نظر ہے، فضل الرحمن تیز دوڑنا چاہتے ہیں، پی پی پی اپنی سندھ حکومت باقی رکھنا چاہتی ہے اور مسلم لیگ نے اپنی پرانی روش پہ رہتے ہوئے ANTI ESTABLISHMENTرویہ کی تجدید کی ہے، نواز نے کہا کہ ان کو عمران اور عمران کی حکومت سے مسئلہ نہیں ان کو مسئلہ ان سے ہے جوان کو لے کر آئے ہیں، ان کا واضح اشارہ فوج کی جانب تھا، ہر چند کی تینوں اپوزیشن کی جماعتیں عمران کو سلیکٹڈ ہی کہتی ہیں، مگر فوج کے خلاف پی پی پی اس قدر سخت STANDلینا نہیں چاہتی، جمعیت علماء اسلام بھی فوج کو ناراض کرنا نہیں چاہتی، اس کا مطلب ہے کہ جب احتجاج شروع ہو گا تو وہ پی پی پی پہلے مرحلے میں شریک نہیں ہو گی، جلسے جلوس پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے میں ہونگے اس کا مطلب پہلے مرحلے میں پی پی پی شریک احتجاج نہیں ہو گی، لانگ مارچ ہوا تو اس میں مولانا ہی اپنے مدرسوں کے طلباء کو استعمال کرینگے، اس میں پی پی پی اور مسلم لیگ کی شرکت بہت واجبی ہو گی، مسلم لیگ انیسویں ترمیم کی ووٹنگ کے موقع پر اپنی کمزوری دیکھ چکی ہے تو اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ جو، ان ہائوس تبدیلی کا خواب دیکھا جارہا ہے وہ تو شرمندہ تعبیر ہو گا نہیں اور نواز کو اچھی طرح معلوم ہے کہ فوج کو جماعتیں تتربتر کرنا آتی ہیں، پی پی پی تیسرے مرحلے میں اسمبلی سے احتجاج استعفوں میں بھی شریک نہیں ہو گی، یہ عجیب بات ہے کہ زرداری ،بلاول، نواز اور فضل الرحمن کے ذریعے پریشر تو بڑھانا چاہتے ہیں مگر اپنے حصے کا احتجاج کرنا نہیں چاہتے، میرا خیال ہے کہ یہ ایک فضول سی EFFORTتھی جو ظاہر کرنے کے لئے کی گئی کہ عوام کو دکھایا جائے کہ ان کی سیاست زندہ ہے، اس کا سب سے زیادہ فائدہ پی پی پی کو ہوا جس نے ثابت کیا کہ وہ سندھ میں اپنی انتہائی کمزور PERFORMANCEکے باوجود مضبوط ہے اور فوج سندھ پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتی ہے۔
مسخرہ پن یہ بھی ہوا کہ اے پی سی میں یہ بھی اعلان ہوا کہ وہ ایک TRUTH FINDING COMMISIONبھی بنائیں گے جو یہ معلوم کرے گا ۱۹۴۷ سے آج تک کیا ہوتا رہا ہے، میں تو اس کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ گیارہ سیاسی جماعتوں کو ابھی تک معلوم ہی نہیں تھا کہ ۱۹۴۷ سے اب تک سیاسی میدان میں کیا ہوا، عجیب بات یہ ہے کہ اس پورے عرصے میں دینی جماعتیں اقتدار میں شریک رہیں اور عوام کو یہ بتایا کہ اقتدار اعلیٰ اللہ کا ہے، جبکہ اس دوران دین کا حلیہ اسلام کے نام پر ہی بگاڑا گیا اور پاکستان پر اللہ کی رحمت برسی ہی نہیں جس کے خواب عوام کو دکھائے گئے تھے اور اس کے بعد وہ وقت بھی آیا جب ۱۹۷۰کے بعد یہی سیاسی جماعتیں برسراقتدار تھیں اور یہ سب مولوی تو فوج کے ہی پالے ہوئے ہیں اور مسلم لیگ بھی تو فوج کی نرسری میں ہی نوجوان ہوئی ہے جنرل ضیاء کی کرم فرمائیاں، فوج کے دیگر جنرلز کی دوستیاں اور عدلیہ تو نواز پر سو جان سے نثار تھی، جہاں کبھی عدلیہ نے کبھی اپنا زور دکھایا وہاں طاقت کا مظاہرہ بھی ہوا، بہرحال یہ دینی جماعتیں اور مسلم لیگ انکار تو کر نہیں سکتیں کہ یہ حقائق نہیں ہیں، اب سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ TRUTH COMMISSIONکیا کرے گا اور کیا حقائق بتائے گا جو لوگوں کو معلوم نہیں اور اگر کوئی ایسے حقائق ہیں جو عوام سے چھپائے گئے ہیں تو ان کے چھپانے کا مجرم کون ہے اور ان حقائق کو چھپانے کی کیا سزا ہونا چاہیے۔
نواز نے اپنی تقریر میں فوج کو للکار کر فوج کو چوکنا کر دیا ہے اور فوج کو شائد اس کی توقع بھی تھی،سو اس کو پلاننگ کا خاصا وقت مل جائے گا اوروہ اپنی صفیں درست کر سکتی ہے اورعمران کوزیادہ منظم سپورٹ مل سکتی ہے، مگر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عالمی طاقتوں نے ایک اشارہ دے دیا ہے یہ اشارہ فوج کے لئے ہے، عمران نے احمقانہ طور پر سعودی عرب سے بگاڑ کر ترکی کا ہاتھ پکڑنا چاہا اور سعودی عرب نے اپنا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے، یہ عمران کی بہت IMMATURED MOVEتھی جس کے نتائج تو بھگتنا پڑیں گے ،سعودیہ کا مطلب امریکہ بھی لیا جا سکتا ہے، یا یہ کہ سعودیہ کو امریکی حمایت حاصل ہے، عمران کے سیاسی وژن کا پول تو کھل چکا ہے اور اس بات کا بھی ملک کی خارجہ پالیسی فوج کے پاس ہے آرمی چیف ایک بڑا فولڈر پکڑ کر سعودیہ گئے تھے مگر بات چیت کے کیا نتائج نکلے یہ تو کبھی معلوم نہیں ہوتا ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ دو طرفہ تعلقات پر بات چیت ہوئی اور یہ تذکرہ ضرور آتا ہے کہ فوج نے جس دلیری سے دہشتگردی کا قلع قمع کیا ہے اس کے سب معترف ہیں، ممکن ہے فوج نے سعودیوں کو اپنے مستقبل کے پلان سے آگاہ کر دیا ہو اور سعودیوں نے اپنا لائحہ عمل مرتب کر لیا ہو مگر یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ سعودیہ نے پاکستان کی تالیف قلب تو نہیں کی ہو گی، نواز نے اپنی تقریر میں یہ بھی تاثر دے دیا ہے کہ وہ پاکستان نہیں آئیں گے اب اس APCکے بچونگڑے کو پی پی پی اور مولانا کیسے پالتے ہیں یہ دیکھنا ہے۔