انڈیا سب سے آگے!!

216

اس میں شک نہیں کہ انڈیا کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہر چیز میںآگے آگے رہے، انڈیا آبادی میں آگے ہے اور تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو کئی ایسی باتیں ملیں گی جس میں ہندوستان آگے رہا۔
شطرنج جو کہ بہت ہی دماغ لڑانے والا بورڈ گیم ہے اور سارے جہاں میں اس کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں، انڈیا میں روشناس ہوا اور پھر پھیلتا چلا گیا، صرف بورڈ گیم ہی نہیں الجبرا، ٹرگنامیٹری اور Calulasکی جائے پیدائش بھی سنا ہے انڈیا ہی ہے، Digitزیرو، صفر ہونے کے باجوود نہایت اہم ہے، انڈیا کی ہی پیدائش ہے، ڈیموکریسی کی بات کریں تو آج انڈیا سب سے بڑی ڈیموکریسی ہونے کا دعویدار ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم ترین تہذیبوں کی نشانیاں بھی انڈیا میں پائی جاتی ہیں۔
انٹرنیٹ تو ابھی بیس، پچیس سال پہلے آیا ہے لیکن ا سے قبل ڈاک خانے ترسیل اور خط و کتابت کی خدمات انجام دیتے تھے اور ان کی سب سے زیادہ تعداد انڈیا میں ہے، آج بھی اسی طرح Emplymentمیں بھی انڈیا آگے ہے، انڈین ریلوے دنیا کا سب سے بڑا Emplyerہے جن کے ایک ملین ملازمین ہیں جس کی مثال دنیا کے کسی ملک میں نہیں ملتی۔
’’آیووید‘‘ دنیا کی سب سے پرانی ادویات کی شکل ہے جو انسان کے علم میں ہیں ’’چارکا‘‘ جو فادر آف میڈیسن کہلاتے تھے ڈھائی ہزار سال پہلے انہوں نے آیوویدک دوائیں بنائی تھیں۔
امریکہ سے بہت پہلے انڈیا تھا، یہ وہ ملک تھا کہ جو سترہویں صدی میں یعنی انگریز قبضے سے پہلے امیر ترین ملک تھا ہر جگہ سے لوگ انڈیا آنے اور پیسہ کما کر بہتر زندگی گزارنے خواہاں تھے۔
کرسٹوفر کولمبس انڈیا کی تلاش میں نکلے اور امریکہ دریافت کر لیا تو اگر انڈیا پہلے نہ ہوتا تو پھر امریکہ، امریکہ نہیں ہوتا۔میتھس میں جو ویلیو ’’PI‘‘ہیں وہ بھی ’’بدھیانا‘‘ نامی انڈین حساب داں نے چھٹی صدی میںمتعارف کروائی تھی یعنی یورپین حساب دانوں سے کہیں پہلے۔
’’ہیرے‘‘ بھی ہندوستان سے آئے تھے بلکہ 1896تک پوری دنیا میں انڈیا ہی ہیروں کی سپلائی کیلئے واحد ملک سمجھا جاتا تھا۔
کمپیوٹرز میں بھی انڈیا آگے ہے، ہر سال سب سے زیادہ سافٹ ویئر انجینئر یہیں سے نکلتے ہیں۔’’یوگا‘‘ بھی پانچ ہزار سال پہلے انڈیا سے نکلا اور مقبول ہوا، مارشل آرٹس کا منبع بھی انڈیا تھا جہاں سے انڈین بدھسٹ مشنریز کے ذریعے یہ دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچا۔
انڈیا کی مختلف شعبوں میں آگے رہنے کی لسٹ بہت لمبی ہے، آج بھی انڈیا کی یہی کوشش ہے کہ وہ ہر میدان میں آگے رہے چاہے وہ سافٹ ویئر ہو، مووی پروڈکشن، مینو فیکچرنگ اور شاید کرونا بھی۔
جی ہاں انڈیا جس طرح ہر چیز میں آگے ہے اسی طرح کرونا میں بھی آگے ہے، کچھ ہی دن پہلے انڈیا میں ایک دن میں 98,000کیسز رجسٹرد ہوئے ہیں، یہ عالمی ریکارڈ ہے، کسی بھی ملک میں ایک دن میں رجسٹرڈ ہونے والے کرونا کیسز کا۔
انڈیا میں فی الوقت 5.1ملین کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں اور یہ نمبر دو پر ہے، نمبر ایک پر امریکہ ہے لیکن پچھلے ایک آدھ دن میں جس تیزی سے کرونا کا نمبر بڑھا ہے اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ انڈیا نہایت تیزی سے نمبرون کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ایک اچھی بات یہ ہے کہ انڈیا میں شرح اموات کم ہے ہر ایک ملین مریضوں میں اکسٹھ (61) کی موت ہورہی ہے، روس میں ایک ملین میں سے 131افراد لقمۂ اجل بنے، 609یو ایس اے میں اور ایک ملین میں سے 631برازیل میں۔
ایک مسئلہ یہ ہے کہ انڈیا میں ہر پانچ میں سے صرف ایک موت رجسٹرڈ کروائی جاتی ہے، ایکسپرٹس کا خیال ہے کہ انڈیا میں کرونا کے کیسز کو صحیح طور پر رجسٹرد نہیں کیا جارہا ہے، انڈین اتھارٹیز کا کہنا ہے کہ شرح اموات کے کم ہونے کی وجہ انڈیا میں کم عمر کے لوگوں کی زیادہ مقدار ہے یعنی وہ لوگ جو آس پاس (28)سال کی عمر کے ہیں ان کو اگر کرونا ہو بھی جائے تو ان کے Surrivalکے مواقع زیادہ ہوتے ہیں، یہ خبر انڈیا کے میڈیا پر عام ہے اور اس لئے لوگوں نے خاص طور سے نوجوانوں نے کرونا کو ہلکا لینا شروع کردیا ہے۔
حکومت پر بھی پریشر ہے کہ انڈیا کو کھولو اس لئے پھر سے جم، بارز اور زیادہ تر دفاتر کھول دئیے گئے ہیں، ابھی تک ٹیسٹ کے نام پر پورے انڈیا میں ساٹھ ملین ٹیسٹ ہونے ہیں، کرونا کی جانچ کیلئے۔
انڈین حکومت اس وقت معیشت کو فوقیت دے رہی ہے، اسے اس ڈوبتی معیشت کو بچانا ہے کیونکہ خبر ہے کہ معاشی صورتحال انڈیا میں 24%ابتر ہو گئی ہے، اس لئے وہاںانسانی جان سے زیادہ اہمیت معیشت کو دی جارہی ہے، اب ایسے میں انڈیا کو نمبرون ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، کرونا کی ریس میں، وہ اس میں بھی ہسٹری بنائے گا اور سو سال بعد جب کوئی انڈیا کے بارے میں لکھے گا تو ضرور بتائے گا کہ ’’انڈیا کرونا میں بھی سب سے آگے تھا‘‘۔