دشمنوں کا منہ کالا، پاکستان کا بول بالا

221

شرم تم کومگر نہیں آتی۔ راقم پاکستان کے بے شرم سیاستدانوں اور میڈیا کے لفافی صحافیوں اور اینکرز سے مخاطب ہے۔ جب پاکستان کی پارلیمنٹ کی سینیٹ میں حزب مخالف نے ایک ایسے بل کو پاس کرنے سے انکار کر دیا جس پر پاکستان کے مستقبل اور دنیا میںاقتصادی اور سیاسی ساکھ کا انحصار تھا۔ صرف اس لیے کہ عمران خان کی حکومت کو ہر ممکن نیچا دکھانا تھا۔ان ظالموں نے عمران خان کی حکومت اور پاکستان کی ریاست میں کوئی فرق نہیں سمجھا۔یہ بل پاکستان کی سلامتی کا تھا، اور حب الوطن عناصر کی پوری حمایت کا خواہاں تھا، لیکن لندن میںبیٹھے مجرم اور پی پی پی کے کرپٹ لیڈرز کے احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے انہوںنے وہ کام کیا جو دشمنا ن پاکستان کی دلی خواہش تھی۔آخر کار حکومت کو آخری حربہ استعمال کرنا پڑا، یعنی پارلیمنٹ اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا جس میں الحمدوللہ وہ بل پاس ہو گیا۔ اور حزب مخالف میں صف ماتم بچھ گئی۔اس شرمناک شکست کے بعد میڈیا پر اینکرز نے ایسے ایسے مہمانان گرامی بلائے جو دل و جان سے حکومت کے مخالف تھے اور انہوں نے اپنے سیاہ چہروں کی سیاہی عمران خان پرالزام تراشی سے صاف کرنے کی کوشش کی جو اور زیادہ گہری ہوتی چلی گئی۔اخباروں نے اتنی بڑی خبر کو ایسے صفحہ اول سے غائب کر دیا جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس راقم نے ، دنیا نیوز،ڈان، ٹریبیوں، خبریں، جیسے اخباروں کی آج کی اشاعت کو دیکھا، کہیں پر اس خبر کا ذکر تک نہیں تھا۔ البتہ دنیا میں یہ خبر آناًفاناً جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی۔نیویارک کے اردو ٹائمز نے با قاعدہ اپنے اداریئے میں اس خبر کو سیاق و سباق کے ساتھ شائع کیا۔اور اس ہفتہ کے دن شہزاد اکبر صاحب نے ایک پریس کانفرنس میں اس قانون سازی کی وضاحت کی۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے: ؎ پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے۔ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔
بھارت کا میڈیا چیخ چیخ کر شہ سرخیاں لگا رہا تھا کہ پاکستان کو ہر حال میں FATF کی بلیک لسٹ میں ڈالا جائے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس سے پاکستان کی اقتصادی حالت تباہ ہو جائے گی۔بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن میں ایک بڑا نام حافظ سعید کا ہے۔ اگر چہ حکومت نے حافظ سعید کو کچھ عرصے سے جیل میں بند کر رکھا ہے۔ یہ کیسی افسوس ناک بات ہے کہ نون لیگ، پی پی پی ، کے ساتھ ساتھ جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی بھی اس قانو ن سازی کے خلاف تھے جوحکومت اس امکان سے بچنے کے لیے کرنا چاہتی تھی۔ ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف ، جو بھارت کے اشاروں پر ایک مدت سے ناچ رہے ہیں، انہوں نے ، بھارت کے اکسانے پر، پاکستان میں اپنے چمچے فضل الرحمن اور اپنی جماعت کے ذریعہ، اس قانون سازی کی مخالفت کروائی۔ اس بات کو ثابت کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اور اس کو ثابت کر کے نواز شریف پر ملک کے خلاف بغاوت ( treason ) کا مقدمہ چلانا چاہیے۔
Financial Action Task Force (FATF) کی بلیک لسٹ میں ان ملکوں کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کرتے ہیں۔اس لسٹ میں جو ممالک آ جائیں ان پر بدنامی کا داغ تو لگتا ہی ہے، ان پر FATF کے رکن ممالک اور ادار ے اقتصادی پابندیاں لگا سکتے ہیں۔سن ۲۰۰۰ء میں جب یہ ادارہ بنا تو اس وقت ۱۵ ممالک اس لسٹ میں شامل تھے۔اور اب بھی اس میں ایران اور شمالی کوریا کے نام موجود ہیں۔ پاکستان ابھی تک ایک کم درجے کی لسٹ میں شامل ہے جسے گرے لسٹ کہتے ہیں۔ اس لسٹ میں شامل ممالک پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے، کہ اگرچہ ان پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا شبہ ہوتا ہے ، لیکن یہ ممالک ان حالات کو درست کرنے کا بیڑہ اٹھا چکے ہوتے ہیں۔اور اس کا ایک عملی منصوبہ پیش کر چکے ہوتے ہیں۔اس لسٹ میں ہونے کا مطلب ہے کہ ایسے ممالک پر آئی ایم ایف اورعالمی بینک اقتصادی پابندیا ںلگا سکتے ہیں، اور ان کی تجارت پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
گذشتہ روز پارلیمنٹ میں منی لانڈرنگ اور FATF سے متعلقہ جو دوسرے قوانین پاس ہوئے ان کی تفصیل چین کی مشہور زمانہ اخباری ایجنسی، شنوا، نے، ۱۷ ستمبر ۲۰۲۰ء کی تاریخ کودی ، اس خبر کی اہمیت کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے، لکھا:
FATF سے متعلق تین بل پاس کر کے اسمبلی پاکستان نے جو اہم اقدام لیے ہیں ان کی وجہ سے نہ صرف ملک بلیک لسٹ سے بچ سکے گا، ان قوانین کا اثرملک کی معاشی تصویر پر پڑے گا اور دنیا میں اس کا تاثر بہتر ہو گا۔پاکستان کو دو سال پہلے گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا اور اور اسے اس کے منصوبے کے ۲۷ میں سے ۱۳ نقاط پر جون ۲۰۲۰ء تک کاروائی کرنے کا کہا گیا تھا۔لیکن کو وِڈ کی وجہ سے آخری تاریخ کو ستمبر تک بڑھا دیا گیا تھا۔ ان حالات کے پیش نظر ، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے کئی بل پاس کروائے گئے تا کہ جن سے ملک نہ صرف FATF کی بلیک لسٹ سے بچ سکے بلکہ گرے لسٹ سے بھی نکل جائے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ آخری تین قوانین جو اب پاس ہوئے ہیں وہ ہیں: اینٹی منی لانڈررنگ بل ۲۰۲۰ء دوسری ترمیم؛ دہشت گردی کے خلاف بل، تیسری ترمیم، اور اسلام آباد وفاقی علاقہ میں وقف جائدادوں کا بل۔
شنوا کی رپورٹر راحیلہ ناظر کو اسلام آباد کے ایک معتبر ادارے کے رئیس ، جناب احسن حمید درانی نے بتایا کہ ان قوانین کا لاگو ہونا پاکستان کی دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے، کیونکہ ان قوانین کی مدد سے تحقیقات کے طریقوں کو بہتر بنایا جا سکے گا، اور پاکستان کی منی لانڈرنگ کے اقدامات کو FATF کی ہدایات سے اور بہتر طور پر ہم آہنگ کیا جا سکے گا۔
درانی صاحب نے کہا ان قوانین کے پاس ہونے سے پاکستان کے دہشت گردی کی مالی معاونت کے اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کے عزم اور ثابت قدمی کا تاثر ملتا ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ اس کا شمار دنیا کی ایک ذمہ وار ریاست کے طور کیا جائے ۔اور اس قانون سازی کی یہی وجہ تھی تا کہ ان اقدامات سے پاکستان گرے لسٹ سے نکلے اور اس کی اقتصادی حالت صحیح سمت پررواں دواں ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی دنیا میں، دوسرے ملکوں کی طرح، پاکستان کی معیشت بھی بیرونی سرمایہ کاروں کی ضرورت رکھتی ہے۔ ایسی سرمایہ کاری پاکستان کو چاہیے، اور یہ تب ہو گا جب پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ اور پاکستان نئی حکمت عملی اختیار کرے گا جس سے بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی۔
رکن قومی اسمبلی، سلیم رحمان نے کہا کہ ملک کے وسیع مفاد کے لیے ان قوانین کا پاس ہونا ایک تاریخی مقام رکھتا ہے۔کیونکہ اب حکومت کو لازماً اقتصادی فیصلے قلم بند کرنے ہونگے، اور لوگ احتساب کے عمل سے گذریں گے۔اور مالی لین دین میںحساب کتاب کا خیال رکھنا پڑے گا۔(ایسا نہیں کہ کروڑوں کی جائداد خریدیں اور کوئی رسیدیں نہ ہوں)۔ اینٹی منی لانڈرنگ بل کی وجہ سے بینکوں اور مالی اداروں کو ملک بھر میں، زیادہ جانچ پڑتال کرنا پڑے گی۔ کسی بھی شخص کو بڑی رقم کے لین دین میں اس کاماخذ بتانا ہو گا اور حکام بھی بہت زیادہ لین دین پر کڑی نظر رکھیں گے۔رحمان صاحب نے بتایا کہ پاکستان کے وزیر خزانہ کے زیر نگرانی ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنا ئی جارہی ہے جو نئے قوانین کی عملداری کو یقینی بنائے گی۔ نئے قوانین پاکستان کی اقتصادیات کے لیے خوش آیند ہیں اس لیے کہ ان سے حکومت کو نا جائز آمدنی کا سراغ لگانا آسان ہو گا۔ ٹیکس دہندگان کا اضافہ ہو گا اور ٹیکس چھپانے والوں کی حوصلہ شکنی۔رائج الوقت قوانین میں بیرون ملک سے رقوم لانے پر زیادہ شرائط نہیں ہیں جتنی کہ بیرون ملک بھیجنے پر۔بیرون ملک پاکستانی بغیر تردد کے رقوم بھیج سکتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو زر مبادلہ کے ذخائررکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اور اسلام اباد دارلحکومت کے وقف علاقوں کی جائداد کے قانون سے وفاقی حکومت کو دہشتگردی اور مذہبی انتہا پسندی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
عمران خان کی حکومت نے اپنی حکمت عملی اور سیاسی سمجھ بوجھ سے پاکستان کو ایک بڑے خطرے سے بچا لیا، لیکن اس کی حکومت ابھی اور بہت سے مصائب سے دو چار ہے، جن میں قومی قرضوں کی ادائیگی ، کووِڈ سے پیدا شدہ صورت حال اور ما لیہ میں کمی، خوراک کی قلت، کراچی میں گونا گوں مسائل، تو اپنی جگہ، کرپشن کے خلاف جنگ شدت پکڑ رہی ہے۔ اس سے متاثر سیاسی قائدین ، خصوصاً ان میں جو ملزم ہیں یا مجرم ہیں، اپنی منڈلی سجا کر حکومت کے خلاف سازشیں کرنے میں مشغول ہیں۔ایسے حالات میں جب کہ پاکستان کے لوگوں کو ایک متحد قوم بن کر ان برے حالات کے خلاف اللہ کی رسی کو پکڑ کر ایک ہو جانا چاہیے تھا، وہ فتنہ اور فساد اور حکومت کو کمزور کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔ ہمارے دشمن نہ صرف بغلیں بجا رہے ہیں، بلکہ اپنے سجائے ہوئے مہروں کی کار کردگی پر ان کو متواتر اکسا رہے ہیں۔ان مہروں میں سر فہرست نواز شریف اور اس کی فیملی ہے جو بھارت سے آئے ہوئے احکامات پر جی جان سے عمل کرتی ہے۔ پی پی پی کے اپنے دکھڑے ہیں کہ ان کی لوٹ مار پر کیوں شور مچ رہا ہے۔ بھارت کو بھٹو پسند نہیں تھا۔ اسے کہتے تھے،’’ بھٹو، دیئے گھٹو‘‘۔ یعنی بھٹو کا گلا دبائو ۔ جماعت اسلامی کی تاریخ مودودی کے ساتھ جڑی ہے جنہوں نے پاکستان کو’’ ناپاکستان ‘‘کا نام دیا تھا اور وہ اس کے قیام کے ہی خلاف تھے۔مولانا فضل الرحمن الیکشن ہارنے کے بعد ، اپنے سیاسی مربی اور مہربان، نواز شریف، کے اشاروں پر دم ہلاتے رہتے ہیں۔ان کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں رہی۔ اب یہ سارے مہرے ’’حب علی نہیں، بغض معاویہ‘‘ کی مثال کے تحت اکھٹے ہونے کا ڈرامہ رچا رہے ہیں، اس خیال سے کہ شاید حکومت کو برخاست کیا جا سکے۔ لیکن ان میں پھوٹ پڑنی لازمی ہے۔اس لیے کہ اگر حکومت واقعی گر جاتی ہے تو دوبارہ انتخابات ہوں گے، جن میں یہ پارٹیاں رہی سہی سیٹیں بھی کھونے کا امکان رکھتی ہیں، جو پی پی پی کو تو بالکل پسند نہیں ، اور ن لیگ کے ایک دھڑے کو بھی۔ن لیگ کا دوسرا دھڑا جو مریم نواز کی قیادت میں ہے اس کو یقین ہے کی تمام رشوت خور عناصر جیسے پٹواری، سرکاری اہلکار اور کچھ تاجر ان کو الیکشن جتوا دیں گے۔ کم از کم پنجاب میں ان کی حکومت بن سکتی ہے۔ لیکن اب عوام ان پرانے سیاستدانوں سے پوری طرح مایوس ہو چکے ہیں، اور عمران خان نے جو غریبوں کے لیے کام کیے ہیں، کووِڈ پر قابو پایا ہے، اور دنیا میں پاکستان کا نام اونچا کیا ہے، اس کو وہ نہیں بھولیں گے۔ سب سے بڑی بات کہ اب یہ نا ممکن ہے کہ آئین کو بدلے بغیر نواز شریف یا اس کی بیٹی الیکشن بھی لڑ سکیں، جو حکومت بنانے کی پہلی شرط ہے۔