گائوں بسا نہیں ڈاکو لوٹنے آگئے!!

212

کراچی کی حالت دیکھتے ہوئے یہ کہنا پڑتا ہے (بڑی دیر کی مہربان آتے آتے) جب مریض وینٹی لیٹر پر آگیا تو ڈاکٹر صاحب چونکے،دوڑیں لگ گئیں، مگر جن کو تباہ ہونا تھا وہ تو ہو گئے۔ برسوں کی جمع پونجی پانی بہا لے گیا، اب تو ان چیزوں کاحاصل کرنا مشکل ہے، غریب آدمی کے لئے تو ایک پانی کا کٹورہ خریدنا بھی مشکل ہے اور یہاں تو پوری بستی ہی ڈوب گئی۔
ادھر وفاق نے 1100ارب کراچی کی ترقیاتی سکیموں کے لئے دئیے ہیں، کچھ ہو نہ ہو دل کے بہلانے کو تو یہ خیال اچھا ہے کہ کچھ بہتری آئے گی، سب سے بڑی بہتری تو زرداری صاحب اور حواریوں کی آئے گی، موصوف اپنے شاگرد رشید مراد علی شاہ کو لیکر بیٹھ گئے ہیں کہ بیٹا ذرا 1100ارب کا دس پرسنٹ تو نکال کر دیکھ( ٹن پرسنٹ) تو حضور گائوںبسا نہیں ڈاکو لوٹنے آگئے، ان کی تو وہی مثال ہے ان کا پیٹ بھرنے والا نہیں، حالانکہ اپنی ذات پر زندگی میں کیا خرچ کر لیں گے؟ زیادہ تر انشاء اللہ دوا علاج پر ہی جائے گا۔ کھانے پینے کی مرغن غذائوں سے پرہیز ہو جائے گا، اپنی پسندیدہ غذا بھی نصیب نہ ہو گی۔ آئے تھے تو بے لباس تھے مگر جاتے وقت چھ گز کفن کا ٹکڑا دے دیا جائے گا، اللہ اللہ خیر صلا۔ ایک کفن کی خاطر کتنا پاپ کمایا، منیر نیازی صاحب کہہ گئے ہیں جس طرح انسان کو کھانے کا ہوکا ہو جاتا ہے اسی طرح انہیں حرام کا مال چبانے کا ہوکا ہو گیا ہے۔ اس کا علاج تو کوئی ایماندار عدالت ہی کر سکتی ہے۔ میڈیا اور اخبارات رقص ابلیس کرتے نظر آتے ہیں جب کوئی ان کا فراڈ پکڑا جاتا ہے اور پھر ان کا فراڈ ہوائوں میں بگولے کی طرح اڑ جاتا ہے اور یہ پھر گنگا نہا کر پاک صاف ہو کر حکومت میں آجاتے ہیں، اندھے، بہرے گونگے عوام بریانی کی پلیٹوں پر فدا ہو کر پھر انہیں حکومت میں لے آتے ہیں اور پانچ سال ماتم کرتے گزار دیتے ہیں۔
سرکاری دفاتر میں کوئی بھی کام بغیر رشوت کے نہیں ہوتا، صاحب کے دروازے کا دربان بھی چائے پانی کے پیسے لئے بغیر اندر داخل نہیں ہونے دیتا، پھر بھی صاحب کم ہی اپنی کرسی پر نظر آتے ہیں، کبھی ظہر کی نماز میں ہوتے ہیں کبھی اپنی کوٹھی کے تعمیراتی کام دیکھنے چل دیتے ہیں، یا کسی عزیز کی عیادت کرنے ہسپتال چل دیتے ہیں، ان سب کاموں کے لئے یہ اوقات بہت مناسب ہیں، بیچار قسمت کا مارا س طرح برسوں چکر لگاتا ہے کوئی انکار ماتحت (یعنی صاحب ) چپکے سے حاجت مند کے کان میں کہہ دیتا ہے میاں کچھ جیب ڈھیلی کرو کام کروانے کا ذمہ میرا۔
شوباز مائیک توڑ قسم کی تقرکر کررہے تھے او رزرداری کا پیٹ پھاڑنے کی اور سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کررہے تھے اور فرمارہے تھے کہ غریبوں کا، یتیموں کا، بیوائوں کا پیسہ لوٹ کر لے گیا ہے، کیسی حیرت انگیز بات ہے، خود وہی کچھ کرنے والے دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں، اب عوام ہی فیصلہ کریں کہ اس ملک سے کرپشن اور جرائم کے خاتمے کے لئے کون سی سزا تجویز کی جائے؟ جواب تو بس آتاہے کہ ’’سزائے موت‘‘ کیونکہ بیشتر ممالک نے اپنے ملک سے جرائم ختم کرنے کے لئے مجرموں کو تھوک کے حساب سے ختم کیا۔
ایک بادشاہ کی حکومت زوال پذیر تھی اس نے ایک دانا سے سوال کیا کہ میں کس طرح ان آفات سے نبرد آزما ہو سکتا ہوں، دانا نے کہا آپ اپنی حکومت ،فوج اور عدلیہ، بیوروکریسی کا نظام صحیح کر لیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا تو کیا پاکستان کا عدالتی نظام ٹھیک ہو سکتا ہے جہاںسنگین جرائم کے مرتکب مجرموں کو ضمانتوں پررہا کر دیاجاتا ہے؟ ایسے قانون دانوں کو بھی سزائے موت ہونی چاہیے جو جرائم کی بیخ کنی کے بجائے انہیں اور بڑھاوا دے رہے ہوں۔
موٹروے زیادتی کیس زیر بحث ہے، اسمبلی میں بھی اس کی صدا گونجتی رہی ،بڑا اندوہناک واقعہ ہے، معصوم بچوں کے سامنے ماں کی بے حرمتی، جو بچے خاتون کے ساتھ تھے اس میں دو بچیاں بھی تھیں بڑی کی عمر 8سال تھی، خدا کرے وہ محفوظ رہی ہوں، خاتون جب گاڑی سے نہیں اتر رہی تھیںتو بچوں کو گھسیٹ کر جنگل کی طرف لے جاتے ہوئے یہ دھمکی دی اگر تم نہیں آئیں تو ہم بچیوں کے ساتھ وہ سلوک کریں گے تم دیکھتی رہو گی، وہ خاتون اپنے آپ کو اور بچیوں کو آخر وقت تک بچانے کی کوشش کرتی رہی لیکن کامیاب نہ ہو سکی، اسمبلی میں بھی اس واقعہ کو اٹھایا گیا، جس میں وزیراعظم کی تجویز کردہ سزا کا بھی بیان تھا کہ جنسی جرائم کے مرتکب کو نامرد کر دینا چاہیے یا پھر سزائے موت دی جائے، وزیراعظم سے التماس ہے کہ نامرد کرنے کی سزا سے ان لوگوں مین انتقامی جذبہ پیدا ہو گا اور یہ لوگ متاثرہ لوگوں کو مختلف حربوں سے پریشان کرتے رہیں گے، ان مجرمان کی زندگی متاثرین کے سر پر ایک تلوار کی طرح لٹکتی رہے گی، ایک تو اپنی بے حرمتی کا دکھ وہ پوری زندگی نہیں بھول سکیں گے، معاشرے سے منہ چھپاتے پھریں گے پھر ان مجرمان کی طرف سے انہیں ہمیشہ خطرات لاحق رہیں گے، اس لئے سرعام سزائے موت ہی بہتر تجویز ہے۔
عمران خان پاکستان میں ریاست مدینہ کے قوانین اگر لانا چاہتے ہیں تو اس میں سرعام پھانسی یا پھر ’’سنگ سار‘‘ کرنا ہے، دوسری سزا انتہائی اذیت ناک ہے یہ لاگو کر دی جائے تو بہت سے جرائم اڑن چھو ہو جائینگے۔
اسمبلی میں مختلف ممبران نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار اس زیادتی پر کیا لیکن سب سے اعلیٰ تبصرہ شوباز شریف کا تھا جو شاید اپنے بھائی صاحب کو پتہ نہیں کون سا تمغہ دلوانے کے چکر میں تھے، انہوں نے کہا کہ یہ واقع جس روڈ پر ہوا وہ نواز شریف نے بنوائی تھی، انہوں نے اپنے بھائی کی تعریفیں کرنے کا ایک نادار موقع ہاتھ آگیا تھا، اس سے بڑی بے حسی اور انسانیت کی توہین کیا ہو سکتی ہے؟ ان کی بے حرمتی کا جنازہ نکل گیا، ایک خاندان اتنے بڑے سانحے کی لپیٹ میں آگیا اور آپ سڑک کی تعمیر کی بات کررہے ہیں، خدا کی لعنت ہو آپ پر ۔شوباز اگر یہ واقعہ تمہاری بہو، بیٹی یا بہن کے ساتھ پیش آتا یا مریم نواز کے ساتھ ہوتا تو کیا تم یہ بتاتے کہ یہ سڑک تیرے باپ نے ہی بنوائی تھی، اس واقع کا سڑک کی تعمیر سے کیا تعلق ہے؎
شاید آجائے ہماری راہ میں روشنی
اب تو اپنے جسم و جاں سے خوائے انسانی گئی