مشرق وسطیٰ کی نئی بزنس ڈیل

211

عراق ‘ شام اور یمن کی جنگوں کے شعلوں میں لپٹے ہوے مشرق وسطیٰ میں عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنیکے معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیںمغربی میڈیا امریکہ اور اسرائیل کی اس کامیابی کو امن کی طرف ایک بڑا قدم کہہ رہا ہے مگر اسکی حقیقت اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہ یہ تین ریاستوں کے درمیان ایک کاروباری اور دفاعی معاہدہ ہے جو ایران کو ایک بڑی شکست سے دوچار کرنے کیلئے کیا گیا ہے منگل کے دن وائٹ ہائوس کے لان میں اسرائیل کے وزیر اعظم اور دونوں عرب ریاستوں کے وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ ‘ صحافیوں اور آٹھ سو مہمانوں کی موجودگی میں اس معاہدے پر دستخط کئے اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ ’’ آج کئی عشروں کے تصادم اور تفریق کے بعدہم نے مشرق وسطیٰ میں امن کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے تاریخ ایک نئے راستے پر چل نکلی ہے اب دوسری عرب ریاستیں بھی بہت جلد یہی راستہ اختیار کریں گی‘‘ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب بھی بہت جلد اسرائیل کے دوست ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائیگا اس معاہدے کے بعد اسرائیل اور عرب امارات کے درمیان کمرشل پروازوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور سعودی عرب نے اسرائیل کی ائیر لائن EL AL کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنیکی اجازت دے دی ہے وائٹ ہائوس کی اس تقریب کے موقع پر غازہ کے فلسطینی باشندوں نے اسرائیلی بستیوں پر کئی راکٹ پھینکے اسی روز فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کی مقبوضہ علاقوں سے واپسی سے ہی مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکتا ہے صدر ٹرمپ نے اس تقریب میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ موقع اس تاریخی لمحے سے زیادہ اہم ہے جب ستائیس برس قبل وائٹ ہائوس کے لان میں فلسطینی رہنما یاسر عرافات اور اسرائیلی وزیر اعظم یزہاک رابن نے صدر بل کلنٹن کی موجودگی میں ایک امن معاہدے پر دستخط کئے تھے اس نئی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوے مڈل ایسٹ امور کے ماہر ڈینس راس جنہوں نے 1993 کے معاہدے میں ایک سفارتکار کے طور پر اہم کردار ادا کیا تھا نے کہا کہ نیا معاہدہ یہ ثابت کرتا ہے کہ فلسطینی مشرق وسطیٰ کو ایک نئی سمت میں بڑھنے سے نہیں روک سکتے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عرب امارات اور بحرین اسرائیل کیساتھ حالت جنگ میں نہیں تھے بلکہ دو عشروں سے ان دونوں ممالک کی اسرائیل کیساتھ عسکری اور کاروباری معاملات پر گفت و شنید ہو رہی تھی اسلئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مشرق وسطیٰ میں تاریخی طور پر ایک اہم واقعہ رو نما ہوا ہے
ایک امریکی دانشورJeremy Ben Ami جو یہودی تنظیم جے سٹریٹ کے صدر ہیں نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ نہ تو فلسطینی تنازعے کا حل ہے اور نہ ہی یہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم کر سکتا ہے یہ تو صرف ایک بزنس ڈیل ہے جو تین ریاستوں کے کاروباری اور دفاعی مفادات کو مضبوط کرنے کیلئے کی گئی ہے یہودی دانشور کی رائے میںاس معاہدے نے ایک کاروباری تعلق کو سرکاری اور دستاویزی حیثیت دے دی ہے اسکے بارے میں یہ کہنا کہ یہ ایک تاریخی اقدام ہے سراسر غلط ہے امریکہ میں کئی یہودی تنظیمیںاسرائیل کے جمہوری تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے فلسطین کے دو ریاستی حل کو بہتر سمجھتی ہیںانکا کہنا ہے کہ ایک یہودی ریاست میں 4.5 ملین فلسطینی اکثریت میں ہوں گے اور انہیں شہری حقوق نہ دئے گئے تو اسرائیل ایک نسل پرست ریاست بن جائیگا
دیکھا جائے تو مارچ 1979 میں مصر کے صدر انوارلسادات اور اسرائیل کے وزیر اعظم مناکن بیگن کے درمیان کیمپ ڈیوڈ میں صدر جمی کارٹر کی موجودگی میں ہونیوالا امن معاہدہ بھی ایک بزنس ڈیل ہی تھا اسکے تحت مصر نے صحرائے سینائی میں اسرائیل کیساتھ اپنی 255 کلو میٹر مغربی سرحد کی پہرہ داری کی ذمہ داری قبول کی تھی اسکامقصد غازہ کی پٹی سے فلسطینیوں کے اسرائیل پر حملوں کو روکنا تھا اسکے عوض امریکہ ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالر مصر کو مالی امداد دیتا ہے جو آج تک جاری ہے قاہرہ اگر آج اس نوکری سے دستبردار ہو جائے تواسرائیل کیلئے اس محاذ کو سنبھالنا محال ہو جائیگا اس اعتبار سے 1979 کا معاہدہ بھی ایک بزنس ڈیل ہی تھا جسمیں مصر نے دام لیکر کام کرنا تھا اسی طرح 1994 میں اردن اور اسرائیل کے مابین معاہدہ بھی دونوں ممالک کی کاروباری اور دفاعی ضرورتوںکو مستحکم کرنے کیلئے کیا گیا تھا اس معاہدے کے تحت اردن نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اور اسکے عوض اسے امریکہ کی چھتری تلے پناہ ملی تھی اردن آج تک امریکی امداد اور سفارتی تعاون سے فائدہ اٹھا رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب ممالک ایک طرف فلسطین کے مسئلے پر دنیا بھر کے مسلمانوں کی رہنمائی کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف جب بھی موقع ملے وہ فلسطین کو نظر انداز کرکے امریکہ اور اسرائیل سے نت نئے معاہدے کر لیتے ہیںانکی اس منافقت خود غرضی اور طوطا چشمی کے باوجود فلسطینیوں کی جہدو جہد جاری ہے اہل فلسطین نے آج تک کسی بھی ایسے امریکی معاہدے کو قبول نہیں کیا جسمیں انہیں ایک آزاد اور مکمل ریاست کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آیا
عرب امارات‘ بحرین اور اسرائیل کے درمیان ہونیوالے نئے معاہدے میںصدر ٹرمپ کے داماد جیئرڈ کشنر نے مرکزی کردار ادا کیا ہے اسے انکی ایک بڑی کامیابی اسلئے نہیں کہا جا سکتا کہ چار سال قبل انہوں نے فلسطینی تنازعے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنیکے عزم کا اظہار کیا تھاجیئرڈ کشنر کو اپنے مشن میں پہلی ناکامی کا سامنا اسوقت کرنا پڑا تھا جب فلسطینی قیادت نے انکے پیش کردہ منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اس منصوبے میں ویسٹ بینک کا تیس فیصد حصہ اسرائیل کو دیا گیا تھا اور ستر فیصد حصہ فلسطینی ریاست کے وقف کیا گیا تھا اسکے علاوہ یروشلم کو بھی اسرائیل کے دارلخلافے کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھاجیئرڈ کشنر کی دوسری ناکامی یہ تھی کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے پورے مغربی کنارے کو صیہونی ریاست کا حصہ قرار دیتے ہوے اس منصوبے کو قبول نہیں کیا تھاصدر ٹرمپ کے داماد کا طے کیا ہوا نیا معاہدہ ایک بزنس ڈیل ہونیکے علاوہ ایران کے خلاف ایک عسکری منصوبہ بندی بھی ہے یہ تینوں ممالک کے کاروباری مفادات کو مستحکم کرنیکے علاوہ ایران کے خلاف انٹیلی جنس کے تبادلے کے مواقعے بھی فراہم کریگاعرب امارات مشرق وسطیٰ میں ٹیکنولاجیکل اعتبار سے سب سے زیادہ ایڈوانس ریاست ہے اسلئے اگر اسنے اسرائیل جیسی ترقی یافتہ نان عرب ریاست سے تعلقات استوار کئے ہیں تو اسکی بنیادی وجہ ترقی کی دوڑ میں جدید ریاستوں کی صف میں شامل ہونا ہے عرب امارات نے اس بزنس ڈیل کے ذریعے امریکہ سے ایڈوانس F-35 سٹیلتھ طیاروں کی ایک کھیپ خریدنے کا فائدہ بھی حاصل کیا ہے
صدر ٹرمپ کی صدارت سے پہلے فلسطینی قیادت امریکہ کو ایک ثا لث کے طور پرتسلیم کرتی تھی مگر اب انہیں امریکہ پر اعتبار نہیں رہا اسلئے انہوں نے روس اور چین سے توقعات وابستہ کر لی ہیں اس سمت اگرچہ کہ کوئی واضح پیشرفت ابھی تک نہیں ہوئی مگر یہ طے ہے کہ اب فلسطینی تنازعے میں امریکہ کی ویٹو پاور ختم ہو گئی ہے مشرق وسطیٰ میں کل کلاں کے پاور بروکر کی یہ ناکامی ظاہر کرتی ہے کہ وہ چند عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان بزنس ڈیلز تو کرا سکتا ہے مڈل ایسٹ میں پائیدار امن قائم کرنے کیلئے کوئی اہم پیشرفت نہیں کر سکتا