آغا بابر جو اپنی سوانحِ حیات مکمل نہ کرسکے!

249

آغا بابر اردو کے اہم افسانہ نگار اور صحافی تھے جن کی آج برسی ہے۔ 25 ستمبر 1998 کو وفات پانے والے آغا بابر 31 مارچ 1919 بٹالہ، ضلع گورداس پور میں‌ پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سجاد حسین تھا، لیکن دنیائے ادب میں‌ آغا بابر کے نام سے پہچانے گئے۔

گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے۔ انھوں‌ نے فلموں کے لیے مکالمہ نویسی سے اپنی عملی زندگی شروع کی اور ڈرامے بھی لکھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد آئی ایس پی آر کے جریدے مجاہد اور ہلال کی ادارت انجام دیتے رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ امریکا چلے گئے اور وہیں زندگی کا سفر تمام ہوا۔

آغا بابر کے افسانوی مجموعوں میں چاک گریباں، لب گویا، اڑن تشتریاں، پھول کی کوئی قیمت نہیں، حوا کی کہانی اور کہانی بولتی ہے شامل ہیں جب کہ ان کے ڈراموں کے تین مجموعے بڑا صاحب، سیز فائر اور گوارا ہو نیش عشق کے نام سے شایع ہوئے۔

آغا بابر نے زندگی کے آخری ایّام میں اپنی سوانحِ حیات بھی لکھنا شروع کی تھی، لیکن اجل نے انھیں‌ یہ کام انجام تک پہنچانے کا موقع نہ دیا اور وہ دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ وہ نیویارک میں‌ مدفون ہیں۔