سلامتی کونسل کے اجلاس میں چینی اور امریکی مندوب ایک دوسرے پر بھڑک گئے

301

نیویارک: گلوبل گورننس سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی اور چینی مندوبین کے درمیان سخت لہجے میں مکالمے ہوئے۔

 چینی مندوب ژانگ جن نے اجلاس سے خطاب میں امریکا کو کورونا سے متعلق الزامات لگانے پر سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ بس بہت ہوگیا، بہت ہوگیا، آپ دنیا کے لیے پہلے ہی اتنی مشکلات پیدا کرچکے ہیں، اگرکسی پر الزام لگایا جاسکتا ہے تو وہ چند امریکی سیاستدان ہیں۔

چینی مندوب نےکہا کہ امریکا کو سمجھنا چاہے کہ بڑی طاقت کا رویہ بڑے کی طرح ہونا چاہیے، امریکا مکمل طور پر تنہا ہوچکا ہے۔

چینی مندوب کا کہنا تھا کہ امریکا میں کورونا کے 70 لاکھ کیسز اور 2 لاکھ سے زائد اموات ہیں، جدید ترین میڈیکل ٹیکنالوجی کے حامل امریکا میں اتنی اموات کیوں ہوئیں؟

خبر ایجنسی کے مطابق روسی مندوب نے بھی چین ہم منصب کے بیان کی حمایت کی۔

اس موقع پر امریکی مندوب کیلی کرافٹ نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتےہوئے کہا کہ آپ سب کو شرم آنی چاہیے، آج کی بحث کے مواد پر میں حیران ہوں، مجھے دراصل سلامتی کونسل پرشرم آتی ہے، کونسل کے اراکین نے اہم مسائل کے بجائے سیاسی بغض پرتوجہ دی۔