افغانستان کے آئندہ سیاسی نظام کا فیصلہ افغانوں کو کرنا ہے، مائیک پومپیو

258

اسلام آباد:افغانستان میں 19 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے افغان متحارب گروہوں کے مابین دوحہ میں مذاکرات جاری ہیں۔

افتتاحی تقریب میں امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو، افغان ہائی کونسل برائے قومی مفاہمت عبداللہ عبداللہ، قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی، متعدد ممالک کے سینئر سفارتکاروں کے علاوہ افغان حکومت اور طالبان وفد نے شرکت کی۔

17 ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکومتی اداروں کے سربراہان نے اجلاس میں ورچوئلی شرکت کی۔

قطری وزیر خارجہ نے ‘فوری اور مستقل جنگ بندی’ کے مطالبے کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کیا تا کہ ایک جامع سیاسی حل حاصل کیا جائے، انہوں نے کہا کہ حتمی سمجھوتہ جامع اور اس میں کوئی فاتح یا مغلوب نہیں ہونا چاہیے۔

افغان امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ افغان حکومت ‘اچھے ارادوں’ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کررہی ہے اور ‘مخلصانہ بات’ کی جانب دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہوگی لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ ملک ماضی میں نہیں جاسکتا۔

افغان امن کونسل کے سربراہ نے یہ بات خصوصاً آئین، انتخابات، آزادی اظہار رائے، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق، قانون کی عملداری اور سیاسی حقوق کے تناظر میں کہی جس میں ہونے والی پیشرفت کو محفوظ کیا جائے گا۔

دوسری جانب طالبان کے سیاسی دفتر کے ڈائریکٹر ملا برادر نے اپنے بیان میں امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے وابستگی کا عزم دہرایا۔