باپ نے ماں کو قتل کیا ہے: کمسن بچے نے خوفناک واقعہ کہہ سنایا

208

امریکا میں وحشیانہ تشدد سے بیوی کو قتل کر کے اس کی لاش چھپانے والے باپ کا بھانڈا کم عمر بیٹے نے پھوڑ دیا، پولیس نے 50 سالہ ملزم کو گرفتار کرلیا۔

امریکی ریاست کینٹکی میں 38 سالہ ربیکا ہوور کی ماں نے 2 اگست کو اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی، پولیس اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی تھی کہ اچانک کم عمر بیٹے نے آنکھوں دیکھے خوفناک واقعے کا حال کہہ سنایا۔

ربیکا کے 3 بچوں میں سے ایک بیٹے نے اپنے اسکول کی کاؤنسلر کو بتایا کہ اس نے ایک دن تہہ خانے میں اپنے باپ کو ماں پر تشدد کرتے دیکھا تھا۔

ایلیمنٹری اسکول میں پڑھنے والے بچے کا کہنا تھا کہ باپ نے اپنے مضبوط جوتوں سے کئی بار ماں کے سر پر زور دار ٹھوکریں ماریں، بعد ازاں چابیوں کے گچھے سے اس کے چہرے پر وار کیا جس کے بعد ماں بے حس و حرکت ہوگئی۔

اسکول کے کاؤنسلر نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع کی جس نے بچے کے گھر پہنچ کر اس کے باپ 50 سالہ جڈسن ہوور کو حراست میں لے لیا، گھر کے تہہ خانے کی سیڑھیوں پر خون سے ملتے جلتے نشانات بھی موجود تھے تاہم ٹھوس ثبوت کی عدم موجودگی پر پولیس نے اسے چھوڑ دیا۔

اسی رات جڈسن ایک اسٹوریج یونٹ میں پہنچا اور ایک 55 گیلن کا کنٹینر ادھر سے ادھر کرتے ہوئے پایا گیا۔ پولیس نے اس کی یہ حرکت سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے دیکھ لی۔

مزید تفتیش پر انکشاف ہوا کہ ربیکا کی گمشدگی سے ایک روز بعد یعنی 3 اگست کو جڈسن کوئی چیز لے کر وہاں پہنچا تھا جو بظاہر دیکھنے میں کوئی لاش لگ رہی تھی۔

جلد ہی پولیس نے وہاں سے ربیکا کی لاش برآمد کرلی جس کے بعد ملزم شوہر کو گرفتار کرلیا گیا۔ ملزم پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اس سے قبل بھی گھریلو تشدد میں ملوث رہا تھا، اسی سال اپریل میں اس نے بیوی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا تب ایک بچہ بھاگ کر پڑوسی کے گھر چھپ گیا تھا اور پڑوسی نے پولیس کو اطلاع دی تھی۔