امریکہ: پولیس کی فائرنگ سے ایک اور سیاہ فام شخص ہلاک

370

لاس اینجلس: امریکی پولیس نے ایک اور سیاہ فام شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے باعث نسل پرستی اور پولیس کی بربریت سے متعلق کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے شخص کے پاس بندوق تھی جو اس نے امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں پرتشدد بحث کے دوران پھینک دی تھی۔

مقامی میڈیا کے مطابق 29 سالہ ڈیجون کیزی نامی شخص اپنی سائیکل پر سوار تھا جب لاس اینجلس کے کاؤنٹی شیرف کے ڈپٹیز نے پیر (31 اگست) کی دوپہر کو گاڑیوں سے متعلق ایک غیر متعین کوڈ کی خلاف ورزی پر اسے روکنے کی کوشش کی تھی۔

ولیس نے بتایا کہ روکنے کی کوشش پر وہ پیدل فرار ہو گیا اور جب اہلکاروں نے اسے پکڑا تو اس نے ایک ڈپٹے کو چہرے پر مکا مارا اور ساتھ ہی کچھ کپڑے گرگئے جو وہ شخص اپنے ساتھ لے کر جارہا تھا۔

لیفٹیننٹ برینڈن ڈین نے رپورٹرز کو بتایا کہ ڈپٹیز نے نوٹ کیا کہ سیاہ فام شخص کے ہاتھ سے گرنے والے کپڑوں کے اندر ایک سیاہ رنگ کی نیم خودکار گن تھی اور اس وقت پولیس ڈپٹی نے اس پر فائرنگ کی تھی۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ کیا جب وہ شخص گن نکالنے کی کوشش کررہا جب اسے گولی ماری گئی۔

برینڈن ڈین نے کہا کہ حکام نے اس واقعے میں ملوث تمام ڈپٹیز کا انٹرویو لینا ہے۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران ایک رپورٹر نے پوچھا کہ تو ہلاک ہونے والے شخص کے ہاتھ میں بندوق نہیں تھی، وہ پہلے ہی زمین پر گر چکی تھی تو جب اسے گولی ماری گئی تو اس وقت غیر مسلح تھا ؟