پاکستان کے امیر دوست بھی کووڈ۔۱۹ کے بعد مشکل میں !

307

میرے پیارے پاکستانیوں، کو وڈا۔۱۹ کی وباء سے دنیا کی معیشت بے اندازہ متاثر ہوئی ہے، اس کی اُڑتی اُڑتی خبریں پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق، کویت کے وزیر خزانہ، بارک الشیتان نے اپنی پارلیمنٹ کو بتایا کہ ملک کے خزانے میں صرف دو بلین دینار باقی رہ گئے ہیں، جو حکومتی ملازموں کی اکتوبر تک کی تنخواہ دینے کے لیے بھی ناکافی ہیں۔ یہ حال اس ملک کا ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک ایک خوشحال ملک سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے مختص شدہ رقومات سے ۷ء۱ بلین دینار ہر مہینے نکال رہی ہے، جس کا صاف مطلب ہے کہ یہ ذخیرہ جلد ہی سوکھ جائے گا، خصوصاً اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت نہ بڑھی اور کویت مقامی اور عالمی بینکوں سے قرضہ نہ لے سکاتو۔حال یہ ہے کہ کہ تیل سے مالا مال گلف ممالک تیل کی قیمتیں نیچے آنے سے اور کووڈ کی وباء کی وجہ سے اپنی معیشت کو تباہ ہوتے دیکھ رہے ہیں، کویتی وزیر کا بیان، دنیا کی کچھ امیر ترین اقوام کے مالی حالات پر ایک ڈرامائی تبصرہ ہے ۔ اس بحران سے نپٹنا خاص طور پر کویت کے لیے ایک چیلنج ہے، جہاں قوانین کی منظوری قانون ساز ادارے کرتے ہیں، جہاں قانون سازپہلے ہی حکومت پر سرکاری خزانے کے استعمال میں بد نظمی کا الزام لگا رہے ہیں اور اس قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہیں جس سے کویت بیرون ملک سے قرضہ حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
کویت کے وزیر خزانہ کا بیان اس وقت آیا جب کہ پارلیمنٹ میں امور مالیات اور اقتصادیات پر ایک رپورٹ پر بحث ہو رہی تھی۔اس رپورٹ میں حکومت کا دینار حاصل کرنے کے لیے بونڈز جاری کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔پارلیمنٹ نے قرضہ سے متعلق قانون کے مسودے کو واپس مالی امور کی کمیٹی کو بھیج دیا کہ وہ دو ہفتہ کے بعد دوبارہ پیش کرے اور اس پر رائے شماری کی جائے۔اس قانون کے تحت کویت کی حکومت بیس بلین دینار کا قرض لینا چاہتی ہے۔ دوسری طرف مارچ میں امریکی نجی ریٹنگزکے ادارے مودی نے کویت کے سرکاری قرضہ کو منفی قرار دے دیا ہے۔ کویت کی نوے فیصد آمدنی تیل کی فروخت سے ہوتی ہے۔دوسرے مشرق وسطیٰ کے ممالک جیسے سعودی عرب، بحرین، اور قطر بھی قرضوں سے اپنے مالی بحرانوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔کویت کو بھی اپنے اخراجات کو شدید حد تک کم کرنا ہوگا۔
کووڈ کی عالمی وباء کے اثرات تمام دنیا کی اقتصادی حالت پر دیکھے جا رہے ہیں۔ وباء سے دنیا کی ترقی کی رفتار کا ۹ء۴ فیصد کم ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو سن ۲۰۲۰ء میںدنیا کی اقتصادی ترقی کی رفتار سے ۹ء۱ فیصد کم ہے۔اس سال کے پہلے نصف میں ، کووڈ کی وجہ سے توقع سے کہیں زیادہ منفی اثرات ہوئے ہیں۔ اور اس سے نکلنے میں اور دیر لگے گی۔اس کا اثر کم آمدنی والے خاندانوں پر سب سے زیادہ ہو گا، جس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ دنیا سے انتہائی غربت مٹانے میں جو ترقی متوقع تھی وہ اور کھٹائی میں پڑ جائے گی۔اس لیے ضروری ہے کہ ان ممالک میں جہاں وبا کا دبائو زیادہ تھا، صحت کی سہولتوں پر زیاددہ توجہ دی جائے۔اور بین الاقوامی امداد کے ادارے اس کام میں غریب ملکوں کی مدد کریں۔تا کہ غریب بالکل پِس کر نہ رہ جائیں۔
جن ممالک کی آمدنی کا انحصار تیل کی فروخت پر تھا، ان کا حال ،تیل کی درآمد کرنے والے ممالک سے زیادہ بُرا ہو گا۔ مثلاً مشرق وسطی کے تیل برآمدگان ممالک کی معیشت میں ۳ء۷ فیصدکمی متوقع ہے جب کے تیل درآمد کرنے والے ممالک جیسے افغانستان اور پاکستان کی معیشت میں ۱ء۱ فیصد کی کمی متوقع ہے ۔ ان اعداد و شمار سے کو وڈ اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے دوہرے اثرات نے معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔ سستا تیل ملنے کے فوائدسے بھی زیادہ فائدہ نہیں پہنچا کیونکہ دوسری طرف تجارت اور سیاحت میں کمی ہوئی۔ان حالات میں سعودی عرب اور امارات کی شرح افزائش زر میں کافی کمی کے امکانات نظر آتے ہیں۔مثلاً دوبئی میں ایک وقت ۲۴ گھنٹے کی تالہ بندی کی گئی، سیاحوں کو تقریباً چار ماہ کے بعد گذشتہ ہفتہ دوبئی آنے کی اجازت ملی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، اقتصادی ترقی کی بحالی کا انحصار ان عوامل پر ہے کہ کووڈ کا دوسرا حملہ کیسا ہوتا ہے اور تیل کی قیمتیں کب چڑھتی ہیں؟
کووڈ کی وباکا پہلا اثربین الاقوامی اور اندرون ملک سفر پر پڑا جس کے نتیجہ میں پہلے تو فضائی سفرنہ ہونے کے برابرہو گیا۔ اور ساتھ ہی زمینی سفر بھی بہت کم ہو گیا کیونکہ متاثر ممالک نے آنے جانے پر پابندیاں لگا دیں اور وباء سے متاثر علاقوں میں لاک ڈائون سے اندرون ملک سفر بھی بہت کم ہو گئے۔۔ اس سے تیل جو ۵ جنوری ۲۰۲۰ء کو $62.28 پر بیرل تھا، وہ ۲۱ اپریل کو منفی$23.36 بک رہا تھا اور کوئی خریدار نہیں تھا۔ یہ کیفیت زیادہ دیر نہیں رہی اور قیمتیں جلد ہی بڑھنی شروع ہو گئیں لیکن ابھی تک وہ پہلے والی سطح پر نہیں پہنچیں۔ تازہ ترین قیمت $42.28 فی بیرل بتائی جاتی ہے۔ بلا شبہ تیل کی قیمت اگر ایک تہائی گری تو وہ ممالک جن کی آمدنی کا انحصار تیل کی فروخت تھا، ان کی آمدنی بھی اسی تناسب سے کم ہو گئی۔جب ہوائی سفر بہت کم ہوا توایر لائینز خسارے میں چلی گئیں۔ ذرائع آمد و رفت پر منحصر تمام کاروبار متاثر ہوئے۔ امریکہ ، برازیل، بھارت، جو سیاحت کی مقبول منزل ہوتی تھیں، وہاں سیاحت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو گئی۔
کووڈ کی وباء اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا سب سے بڑا اثرسعودی عرب پر ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، یمن میں جنگ کرنا اور شاہی خاندان میں بے چینی، ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نا عاقبت اندیش پالیسیز کا نتیجہ تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی بادشاہت کو اپنی پالیسیز میںنمایاں تبدیلیوں کی ضرورت ہے، جن میں سب سے پہلے فوجی اخراجات میں شدید کمی کی ضرورت ہے۔اور امریکہ کو چاہیے کہ سعودی عرب کو ایسی طرف دھکیلے جہاں فوجی اخراجات میں کمی ہو، کیونکہ ایسے اخراجات سے فائدہ کم ہی ہوتا ہے۔(اس رپورٹر کو شاید بھول گیا کہ امریکی صدر نے صدر بننے کے بعد پہلا کام یہ کیا تھا کہ سعودی عرب کو ساڑے تین سو بلین ڈالر کا اسلحہ بیچا تھا)۔ کووڈ کی وجہ سے نہ صرف عمرہ کرنے والے زائرین کی آمد میں کمی ہوئی ہے، سالانہ حج کے زائرین میں بھی انتہائی کمی ہوئی جس سے بادشاہت کی آمدنی میں قابل قدر کمی ہوئی ہے۔ کووڈ سے نہ صرف شاہی خاندان کے کئی افراد متاثر ہوئے ہیں، بادشاہ اور ولیعہدنے ملاقاتیوں سے بھی ملنے پرپابندی لگا دی ہے۔ (غالباً یہی وجہ ہو گی کہ شہزادہ سلمان نے پاکستان کے فوجی مہمانوں سے ملاقات نہیں کی؟) جنوبی ایشیا اور مشرق بعید سے آئے ہوئے ہزاروں کارکنوں کو واپس بھیجا گیا ہے اور بہت سے کووڈ کے مریض بن گئے ہیں۔اس پر تیل کی قیمتوں میں کمی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ سعودی بجٹ کی ضرورت ہے کہ تیل کی قیمت $85 پر بیرل فروخت ہو۔ اور اب تیل کی قیمت $42.28 پر ٹکی ہوئی ہے۔ جو اس قیمت کا نصف ہے۔ان حالات کی وجہ سے گذشتہ پانچ سال سے بادشاہت اپنے محفوظ ذخائر سے خرچ کر رہے ہیں جو اب ۷۵۰ بلین ڈالر سے کم ہو کر ۵۰۰ بلین ڈالر رہ گئے ہیں۔تیل کی قیمتیں فوری طور پر بڑھنے کے امکانات نظر نہیں آتے جب تک کہ کووڈسے متاثر دنیا کی معیشت بہتر نہیں ہوتی، تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں۔شاہی احکامات کے ذریعے ٹیکسوں کی شر ح بڑھا دی گئی ہے۔ سرکاری اعانت ختم کر دی گئی ہے۔اور حکومت نے سادگی اختیار کرنے کی ہدایات دے دی ہیں۔ ان سب اقدامات سے غریبوں کو پہلے نقصان ہو گا۔ جس سے معاشرتی بے چینی بڑھنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں خاص طور پر جب کرفیو اٹھا لیے جائیں گے۔ ان تمام حالات کے باوجود یمن کا مسئلہ جوں کا توں ہے، باوجود سعودی عرب کی جنگ بندی کے کئی پیغامات کے۔حوثی باغیوں کا شمال کے بیشتر حصہ پر قبضہ ہے۔جنوبی علیحدگی پسندوں نے عدن پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اور جنگ گاہے بگاہے ہوتی رہتی ہے۔ اور باوجود بلینز خرچنے کے سعودی فوج کی کار کردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
اب چین کے حالات پر بھی نظر ڈالیں۔ اس جمعہ کو چین نے پہلی مرتبہ اقتصادی اہداف نہ بنانے کا اعلان کیا ہے جو وہ ۱۹۹۰ء سے با قاعدگی سے کرتا آیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کووڈ کے بعد سے حالات کو واپس لانا کوئی آسان کام نہیں۔اگرچہ تازہ ترین خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ حالات بہتری کی طرف آ رہے ہیں، لیکن غیر ہموار طریقے سے۔اچھی خبر یہ ہے کہ پہلی دفعہ، وبا کے بعد سے، چین کی فیکٹریاں پھر سے رواں دواں ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اور اشارے بھی چین کی معیشت کی بحالی کی طرف دیکھے جا سکتے ہیں۔اگرچہ فروخت اچھے وقتوں کی مناسبت سے ۵ء۷ فیصد نیچے ہے۔ بہت سے چینی وباء کے احیا سے متفکر ہیں اور خریداری روکے ہوئے ہیں۔بے کار لوگوں کی تعدادابھی بھی زیادہ ہے۔ان حالات میں امریکی صدر نے چین سے خریداری کم کرنے کی مہم چلا رکھی ہے۔ چونکہ امریکہ چین کا شاید سب سے بڑا خریدار ہے، ٹرمپ کا یہ فیصلہ چین کی معیشت پر بری طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ابھی کچھ روز پہلے ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چین سے اپنے کاروبار نکال لیں۔اگرچہ چین سے تجارت کرنے سے امریکہ اپنے ملک میں افراط زر سے بچا ہوا ہے، ٹرمپ جو کہ ایک بزنس مین ہے، اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے۔ اس لیے امید ہے کہ وہ چین سے یکا یک بڑا بگاڑ نہیں لے گا۔ چین امریکہ کی دھونس ماری کا جواب تحمل سے لیکن برابری سے دے رہا ہے۔ جسکی ایک مثال ابھی حال میں امریکہ نے ووہان سے اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا فیصلہ کیا تو چین نے بھی امریکہ کی ریاست ٹیکسس سے اپنا قونصلیٹ بند کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔
یہ سارے حالت بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے دوست اگرچہ ابھی بہت برے حالات سے دو چار نہیں ہیں، لیکن کبھی بھی ایسا وقت آ سکتا ہے کہ وہ اپنے دیئے ہوئے قرضوں کی واپسی کا تقاضا شروع کر دیں جیسا کہ سعودی عرب نے کیا۔ اس لیے اگر پاکستان نے اپنی ساکھ برقرار رکھنی ہے تو اس کوپھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا اور زر مبادلہ کے استعمال اور اخراجات پر کنٹرول پر ہنگامی اقدامات اٹھانے ہونگے۔ موجودہ حکومت غالباً حالات کی نزاکت سے با خبر ہے اور اپنے تئیں ایسے اقدامات لے رہی ہے جن سے پاکستان کی اقتصادی حالت جلد از جلد اور بہتر سے بہتر ہو سکے۔ عقل و بصیرت کا تقاضا تو یہ ہے کہ پاکستانی حزب مخالف بھی بجائے ہر معاملے میں حکومت کی ٹانگ کھینچنے کے، حکومت کا ہر ممکنہ ساتھ دے، اور بلا وجہ اس پر دبائو نہ ڈالے۔یہ بات خاص طور پر ن لیگ کی مریم صفدر اور پی پی پی کے بلاول زرداری کو دھیان سے سوچنی چاہیے۔ اور مذہبی جماعتوں کو بھی قومی ضرورت پرسوچ بچارکرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ ہر دو دن بعد حکومت پر بلا وجہ کی نکتہ چینی کریں۔
اس معاملے میں قومی میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ہر وقت آٹے، چینی کی مہنگائی کا راگ الاپنے سے یہ اشیا سستی نہیں ہو سکتیں۔یا تو حکومت غیر قدرتی طور پر اشیائے ضرورت کی قیمتیں کم کرے، تو بالاخر اس کا بوجھ تو عوام پر ہی پڑے گا۔حکومت کو یا ٹیکس زیادہ لگانے پڑیں گے یامزید قرضے لینے پڑیں گے۔دونوں ہی صورتوں میں بوجھ تو عوام پر ہی پڑے گا۔یہ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کی آبادی ابھی تک تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے، اس لیے اگر ذرائع پیداوار نہیں بڑھتے تو قیمتیں تو بڑھیں گی۔ یہی معاشیات کا سادہ سااصول ہے۔