مذہب اور سیاست

268

محمد بن قاسم کے ہاتھوں سندھ فتح ہوا تو تین ہزار ہندو عورتیں خلیفہ کو تحفے میں بھجوا دی گئیںاور اولیاء جن کو رسول ﷺ اور خدا کا دیدار عندالطلب ہوتا تھا ہندوستان کی طرف دوڑ پڑے بغداد آنے والے یہ اولیاء اسلام یا شریعت نہیں لائے، یہ اسلام کا ایک نیا وژن طریقت لے کر وارد ہوئے، وحدت الوجود کے یہ پیروکار جلد ہندو رسم و رواج کے قریب آگئے عرب سے کوئی عالم دین کے فقہ کا ماہر ہندوستان نہیں آیا جو طریقت یہ ہندوستان لائے تھے وہی شریعت ٹھہری، ہزار سالہ مسلم تاریخ میں کسی ولی اللہ نے کسی حکومت سے اسلامی حکومت کا مطالبہ نہیں کیا مگر ہر ایک ولی کے نام کے ساتھ شیخ، محدث اور مفسر لکھا گیا، مغلیہ سلاطین کی جانب سے داد و دہش کا سلسلہ جاری رہا، ہندو مہاراجائوں کی بیٹیاں بادشاہوں کی مہارانیاں بنیں ولی عہد جنتی رہیں اور سلطان اولیاء ان کے حق میں دعائیں کرتے رہے، ملتان، بدایوں طریقت کی منڈیاں بن گئیں اور قبروں کی پوجا ایسی بڑھی کہ ایک رپورٹ میں لارڈ ڈلہوزی کو لکھنا پڑا کہ ہندوستان پر دو قبروں کی حکومت ہے، ان شاطر اولیاء نے لوگوں کی سادہ لوحی کو بھانپ لیا تھا اور اسی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہائی جلیل القدر اولیاء نے دعویٰ کیا کہ ان پر القا اور کشف ایسے ہی ہوتا ہے جیسے انبیا پر وحی آتی ہے اور ایک پہنچے ہوئے ولی نے تو یہ بھی دعویٰ کر دیا کہ اس کو سلفی معراج بھی ہوئی ،ایسا دین دنیا کے کسی مسلم ملک میں متعارف نہیں ہوا، ہندوستان میں اسلام کی حقیقت اتنی ہی ہے، مدرسہ دیوبند انگریزوں کے ایماء پر قائم ہوا اور اس نے بریلوی مسلک کو چیلنج کیا اور ہندوستان میں فرقہ واریت کی بنیاد رکھ دی گئی، ہندوستان میں مذہب کی یہی تاریخ ہے اسی میں وہ گمان بھرے ہیں جن کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں اور اس کا بیشتر حصہ ہندو ثقافت سے مستعار ہے، اس ملمع سازی کو چھپانے کے لئے علماء سو نے جھوٹ کا سہارا لیا، سو وہ اسلام جو پاکستان اور بھارت میں مروج ہے مسلم ورلڈ اس کو تسلیم نہیں کرتی، اس دوران قبروں اورمزاروں کی پوجا نے ایک کاروبار کی شکل اختیار کر لی جو بہت منافع بخش تھی، دیو بند نے دین کی جو شکل دکھائی اس میں عام مسلمان کے لئے کوئی دلکشی نہ تھی سو فرقہ واریت کو ہوا دے کر سیاسی بالادستی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی، پاکستان کی پوری تاریخ اس رسہ کشی سے بھری ہوئی ہے، یہی ان کا دین اور یہی دین کی تعلیم، ایسے بہت سے شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ہر چند انگریز کا ہندوستان میں مستقل قیام کا کوئی ارادہ نہ تھا مگر یہ ضرور تھا کہ ملک کی تقسیم چاہتا تھا انگریز نے یہ پالیسی اپنی ہر کالونی میں اپنائی جس کو ہم DIVIDE AND RULEکہتے ہیں، یہ پالیسی کبھی پسندیدہ نہیں رہی مگر تنقید کرنے والوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ لوگ جن کی کوئی قومی سوچ نہ ہو اور جو ذاتوں، فرقوں اور صوبائیت میں بٹے ہوئے ہوں ان کو تقسیم کرنا آسان ہوتا ہے، سو ہندوئوں کی نسبت مسلمانوں کو تقسیم کرنا آسان ہوا، ہندوئوں کا ہندوستان سے ایک صوتی علاقہ بھی ہے اور ان کے وید بھی ہندوستان کو ہندوئوں کی سرزمین بتاتے ہیں، مسلمانوں کا اس سرزمین سے کوئی ایسا تعلق نہیں بنتا STEWART STROZESKIنے اپنی کتاب ’’ISLAM INVADES INDIA‘‘میں ہندوستان میں مسلم غلبے کو COLONIZATIONہی کہا ہے اور یہ بھی کہ سب سے پہلے مسلمانوں نے ہی کالونیاں بنانے کی ابتدا کی سپین کو بھی اس نے مسلم کالونی ہی لکھا ہے، 1825ء میں انگریزوں نے ہندوستان میں ایک نظام تعلیم متعارف کرا دیا تھا اس نظام تعلیم نے نئے سیاسی ٹرم متعارف کرائیں، POLITICSلفظ پہلی بار متعارف کرایا گیا، پھر پارلیمنٹ، اسمبلی، الیکشن، منشور، آئین، پولیٹیکل ورکر، لیڈر، سینیٹ اور POLITICAL DEBATEجیسے سارے الفاظ ہندوستان کے لئے نئے تھے جمہوریت کے فلسفے کو سمجھے بغیر آناً فاناً یہ تمام الفاظ مذہبی اور سیاسی لوگوں نے اپنا لئے، یہ ساری اصلاحات صرف ترجمے کے عمل سے ان کی زبان پر آگئیں، کسی معقول تربیت اور مطالعے کے بغیر ان کا استعمال شروع ہو گیا، 1858ء سے قبل اسلام کی یہ صورت نہ تھی جو آج نظر آتی ہے، تو گویا 1858 سے پہلے کا اسلام کچھ اور تھا اور انگریز کے دئیے ہوئے جمہوری فلسفے کی بدولت اسلام کی شکل بدل گئی، اب نیا اسلام کسی طور دین کے اصولوں سے لگا نہیں کھاتا یہ مکمل تبدیلی شدہ شکل ہے، پاکستان کی سیاسی تاریخ آپ کے سامنے ہے اس میں 1970ء سے مذہب کی شرکت نے سیاست کی صورت بدل دی جو دہشت گردی سے جڑی ہوئی ہے، انتہا پسندی ان کا دین ہے اس سے وہ نتائج برآمد ہی نہیں ہو سکتے جو کسی ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہوتے ہیں، پاکستان کی سیاست میں مذہب سرایت کر گیا اس نے سوسائٹی کو یرغمال بنا لیا۔
سیاست کا تعلق فلسفے سے ہے اور فلسفہ INTERROGATIVEہوتا ہے جبکہ مذہب AUTHORITATIVEہوتا ہے فلسفہ فکر کے دروازے کھولتا ہے بحث و تمحیث کا ماحول بنتا ہے ایسی آزادی مذہب دے نہیں سکتا کیونکہ اس پر سوال اٹھیں گے اور سوال مذہب کو پسند نہیں یہ صورت سیاست میں برقرار نہیں رکھی جا سکتی، مذہب معیشت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، عمران کی حکومت ایک رجعت پرست حکومت ہے، عمران کا لباس بھی ایک پیغام CARRYکرتا ہے اور رجعت پرستی کا مظہر ہے، مغرب کو مذہب کی یہ ادا بہت پسند ہے اور خاص طور پر جب فوج کی گرفت مضبوط ہو مغرب کے لئے یہ آئیڈئل صورت ہے اس کے اثرات بھارت پر بھی مرتب ہورہے ہیں اور بھارت میں انتہا پسندی بڑھ رہی ہے، مغرب اس صورت حال سے فائدہ اٹھائے گا، مگر شہری آزادی جو پاکستان میں عنقا ہے بھارت میں موجود ہے اور وہ تنقید کرتے رہتے ہیں جو ایک قسم کی مزاحمت ہے، پاکستان کی سیاست اسی نہج پر چلتی رہی تو اس کو عشروں تک ٹھیک نہ کیا جا سکے گا۔