گوشت خور مسلمان۔۔۔۔۔

208

عید العضحی کے موقع پر آجکل کے اناڑی قصاء جانوروں کو جس بیدردی کے ساتھ ذبح کرتے ہیں اللہ کے قہر کو دعوت دیتے ہیں۔ نا تجربہ کار افراد بیکار چھریوں کے ساتھ جانوروں کو ایذا پہنچاتے ہیں ، جانور بیچارے لہو لہان آگے سے ہٹ کر بھاگ جاتے ہیں اور پورا محلہ چھریاں لئے جانوروں کے تعاقب میں چھلانگیں ماررہا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر بیٹھی قوم کو بھی مفت کے شو مل جاتے ہیں۔کراچی کی بالاء منازل پر لفٹر کے ذریعہ قربانی کے جانور چڑھانے کے مناظر بھی انتہاء شرمناک اور کربناک ہیں۔ اکثرجانور زمین پر گر کر دم توڑ دیتے ہیں۔ اللہ معاف کرے اسلامی شعار کو اذیت ناک بنا کر پیش کیا جاتاہے۔جانوروں کواذیت دینے پر اللہ کی سخت پکڑ ہو گی۔مسلمان کا سب سے پہلا اور بڑا مسلہ اس کے نزدیک گوشت ہے جبکہ حلال اور طیب گوشت میں تمیز بھی جاتی رہی۔جانور ذبح کرنے کا سلیقہ ہے نہ ذبیحہ سے متعلق دینی معلومات حاصل کرناچاہتا ہے۔
’’حلال گوشت اور حجاب‘‘ مسلمانوں کا سارا اسلام ان دو موضوعات کے گرد گھومتا ہے۔ قرآن پاک کے 30 پاروں اور ہزاروں احادیث میں سے’’عورت اور حلال گوشت‘‘ کو تمام احکامات پر فوقیت دی جاتی ہے۔ جبکہ 30 پاروں، 6,666 آیات مبارکہ اور114 سورۃ پر مبنی قرآن مقدس کے تمام فرائض و احکامات ایک طرف اور یہ دو محبوب موضوعات ایک طرف۔ نام کی اسلامی ریاست پاکستان میں حرام اور مردار کھلایا جا رہا ہے اور پردہ دار خواتین اور حلال کا واویلا مچانے والے بھی گدھے، گھوڑے، کتے، بلے کھا رہے ہیں۔ کافرکم از کم حلال کے نام پر حرام تو نہیں کھلاتے؟ حلال کو حرام کہہ کر بیچنا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ 1994کا واقعہ ہے، ہم ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں قیام پذیر تھے۔ ہم نے ذبیحہ گوشت پر ایک ریسرچ رپورٹ تیار کی جس کی بنیاد پر (United States Department Of Agriculture) ’’ فوڈ سیفٹی‘‘ محکمے نے حلال کے نام پر حرام بیچنے والوں کی دکانوں پر چھاپے مارے اور نام کے مسلمانوں کو جرمانے اور سزائیں دیں۔ ان دنوں ہم بالٹی مور اسلامی سینٹر میں رضاکارانہ کمیونٹی خدمات انجام دے رہے تھے۔ حلال گوشت بیچنے والے سٹور نہ ہونے کے برابر تھے۔ ان دنوں ایک ہندو خاتون نے انڈین گروسری سٹور کھولا اور حلال گوشت بھی فروخت کرنے لگی۔ حلال گوشت کی سہولت کی وجہ سے مسلمانوں کی بڑی تعداد اس کے سٹور سے خریداری کرنے لگی۔ کچھ مسلمانوں کو ہندو کی دکان سے گوشت خریدنے پر اعتراض تھا۔ ہندو خاتون نے وضاحت کی کہ اس کاتعلق ہندو خاندان سے ہے مگر یہ گوشت ہندو نہیں مگر اس کی شنوائی نہ ہو سکی اور فتووں کے دباؤنے مسلم کمیونٹی کوکنفیوز کر دیا۔ ایک روز ہندو عورت روتی ہوئی ہمارے پاس آئی کہ اس کا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے۔ ہم نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ کی ہم خود تحقیق کریں گے، اگر گوشت حلال ہوا تو ہم تمہاری آواز بنیں گے۔ یوں حلال ریسرچ کا بیڑہ اٹھا لیا اور تحقیق کا یہ سلسلہ ’’یہ پائے، کہاں سے پائے‘‘ سے شروع ہوا۔ میری لینڈ ریاست کی ایک حلال شاپ پر گئے، ایک خاتون نے پاکستانی دکاندار سے پوچھا ’’گائے کے پائے ہیں؟ اس نے کہا ’’جی باجی کتنے چاہیے؟ خاتون نے کہا ’’دس پائے دے دیں! اور خاتون پائے لے کر چلی گئی۔ ہم نے بھی یہی مطالبہ کیا، اس نے وہی جواب دیا اور ہم نے کہا ’’بیس پائے دے دیں! اس نے ملازم کو پائے پیک کرنے کے لیے کہا۔ اس دوران ہم نے سوال کیا ’’آپ ہفتے میں کتنی گائے ذبح کر لیتے ہیں‘‘ جواب’’ گاہکوں کی تعداد کے مطابق ایک گائے مناسب رہتی ہے‘‘ سوال ’’ہفتے میں ایک گائے ذبح کرتے ہیں اور جہاں تک ہماری یادداشت کام کرتی ہے، گائے کے چار پائے ہوتے ہیں پھر یہ اتنے حلال پائے کہاں سے آتے ہیں؟ ’’کیا مطلب ہے آپ کا؟ جواب ’’یہی کہ ہمارے سامنے ایک خاتون دس پائے لے کر گئی ہے، بیس پائے کا آرڈر ہم نے دیا ہے، اس سے پہلے اور ہمارے بعد بھی پائے بک رہے ہیں،آخر یہ ماجرا کیا ہے؟ اور یوں اس ماجرے نے ہمیں یہودیوں، عیسائیوں، مسلم وغیر مسلم گوشت کی دکانوں، فارم ہاؤسز، سلاٹر ہاؤسز کے پھیرے لگوانے شروع کر دیئے۔ ایک مہینہ کی جنونی تحقیق کے بعد جو نتائج برآمد ہوئے اس کے ردعمل میں حلا ل کے نام پر حرام فروخت کرنے والے نام کے مسلمانوں کے میری لینڈ، ورجینیا، واشنگٹن، نیو جرسی، نیویارک(Mid Atlantic States) میں سٹوروں پر چھاپے پڑے، ہمیں فون آتے رہے کہ محکمہ فوڈ سیفٹی والوں کو ہمارا نام مت دیں، آئندہ شکایت کا موقع نہیں ملے گا وغیرہ۔ مگر ہم اسلام کے نام پر دھوکہ کرنے اور حلال کے نام پر حرام کھلانے والوں کو سنگین مجرم قرار دیتے ہیں۔ امریکی محکمہ فوڈ نے ان لوگوں کی دکانیں سِیل کر دیں۔ یہودیوں کی حجت اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بطور سزا جانور کے کچھ حصے ان پر حرام کر دیئے لہذا یہودیوں کے ’’سلاٹر ہاؤسز‘‘ میں جانوروں کے وہ حصے انتہائی سستے داموں فروخت ہوتے ہیں، جنہیں مسلمان خرید کر ’’حلال‘‘ کے نام پر دو گناہ منافع کماتے تھے۔ بکرے اور گائے کے پائے بھی یہودیوں کی ’’میٹ ہول سیلرز‘‘سے ’’تھوک‘‘ کے حساب سے خریدا کرتے۔ اس زمانے میںمسلمانوں کا ذاتی سلاٹرہاؤس نہیں تھا لہٰذا مرغیاں بھی غیر مسلم سلاٹر ہاؤسز سے خریدی جاتی تھیں اور حلال کے نام پر دوگنا قیمت پر بیچی جاتی تھیں۔ کچھ لوگ تو اس حد تک ذہین ثابت ہوئے کہ گردن سمیت مرغیاں یہ کہہ کر فروخت کرنے لگے کہ ’’جھٹکا‘‘ نہیں ہاتھ سے ذبیحہ کی ہیں جبکہ یہ بھی مسلمانوں کے ساتھ ایک شرمناک مذاق تھا۔ حلال کا کاروبار کرنے والے کچھ مسلمان غیر مسلم سلاٹر ہاؤس والوں کو آرڈر دیتے ہوئے تاکید کرتے کہ انہیں گردن سمیت مرغیاں دی جائیں جبکہ آرڈر لینے والے غیر مسلم سوچ بھی نہیں سکتے کہ مسلمان ڈرامہ دکھا کر ڈبل منافع بناتے ہیں۔ غیر مسلموں کے ملک میں ذبیحہ میسر نہ ہو تب بھی یہ اطمینان ضرور ہوتا ہے کہ حلال جانور کھا رہے ہیں، گھوڑے گدھے، کتے، بلے تو نہیں کھا رہے۔ سور خور کافر بھی اس دھوکہ دہی کا تصور نہیں کر سکتا۔ ہماری حلال پر کی گئی اسلامی وقانونی ریسرچ رپورٹ کی کاپیاں بنوا کر مسلم کمیونٹی میں تقسیم کی گئیں۔ ایک ہندو خاتون کی آواز بننے نکلے تھے، مسلمانوں کی بدنامی لے کر لوٹ آئے۔ ایک مہینہ کی تگ و دوہ کا نتیجہ تھا کہ امام مسجد کو اعلان کرنا پڑاکہ ہندو خاتون کی دکان پر جو حلال گوشت فروخت ہو رہا ہے، ذبیحہ ہے۔ حلال اور ذبیحہ میںہے۔ گائے اور بکرا حلال جانور ہیں لیکن اللہ کے نام پر فقہی طریقہ سے ذبیحہ نہ کیا جائے تو حلال جانور حرام ہو جاتا ہے۔ حلال جانور پر کسی کا نام بھی نہ لیا جائے وہ بھی حرام ہو گا؟ اس سوال کا جواب اللہ سبحان تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے ’’اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کا گوشت کھاؤ، آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو‘‘ (انعام118) یعنی ذبیحہ میسر ہو تو غیر ذبیحہ کھانا جائز نہیں۔ جس زمانے میں ذبیحہ میسر نہیں تھا،اکثر مسلمان ’’کوشر‘‘ یعنی یہودیوں کا ذبیحہ کھا نے پر مجبور تھے۔ ہماری ہندو ہمسائی نے تقسیم ہند کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ’’میرے خیال سے پاکستان بننے کی وجہ مسلمانوں کی ’’گوشت خوری‘‘ ہے‘‘۔ اور ہم آہ بھرتے رہ گئے کہ پاکستان میں اب حرام خوری اتنی بڑھ گئی ہے کہ گوشت خوری بھی مشکوک ہو گئی ہے۔آجکل کی پاکستانی عورت باورچی خانے سے آزادی چاہتی ہے،اس آزادی نے ریستورانوں کی رونقیں دوبالا کر دی ہیں۔ گدھے اور مردار کھانے کے باوجود ریستورانوں کی رونقیں کم نہیں ہو سکیں۔