اس سے پہلے کہ کراچی جانے کے لئے پاسپورٹ اورویزہ لینا پڑے، بہتر ہوگا کہ علیحدہ صوبہ بنادیا جائے،اب پانی سرسے گزر چکا ہے!

206

ابھی پچھلے ہفتے آدھے کراچی کے پانی میںڈوبنے کی خبریں ،ویڈیوز اورتصاویر ذہنوں سے محونہیں ہوئی تھیں کہ اس ہفتے بقیہ کراچی کے پانی میں ڈوبنے کی خبریں اورویڈیوز زبان زد عام ہوگئیں۔ یوں لگ رہا ہے کہ جیسے ہم کسی افریقی ملک کی ویڈیو دیکھ رہے ہیں ۔ مرے پر سودرے یہ کہ سندھی وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کہہ رہے ہیں کہ ایسی کیا بات ہوگئی کراچی میں پچھلے کئی سالوں سے بارشیں ہوتی ہیں پانی بھرتا ہے لوگ مرتے ہیں ۔ واٹ از اے بگ ڈیل۔ جب انسانی کھال میںبھیڑیا نما انسان اقتدار میں آتے ہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ کاش کہ مراد علی شاہ کا بیٹا بارش میں کرنٹ لگنے سے مرتا بہتے دریا میںگٹر میں ڈوب جاتا تو پھر ہم ان سے پوچھتے کہ واٹ از اے بگ ڈیل، کراچی اورکراچی والوں سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت1973 ء سے سندھی حکومتوں نے پسماندہ رکھنے کے لئے پلاننگ کی ۔ کبھی کالج یونیورسٹیوں میں داخلوں میں توکبھی نوکریوں میں کوٹہ سسٹم کے ذریعے،اندرون سندھ سے اپنے اپنے بندوں کولاکر بغیر کسی میرٹ کے نوکریوں سے نوازاگیا۔ سرکلرریلوے سسٹم کو برباد کردیاگیا۔ کراچی ٹرانسپورٹ اتھارتی کو ختم کردیا گیا ۔پانی کوبیچنا شروع کردیاگیا، بجلی کی بندش کے ذریعے انڈسٹریز اوربزنس کو ختم کردیا گیا ۔کچی آبادیوں کو بڑھاوا دیا گیا ۔ پبلک پارکوں اورتفریحی مقامات کو بیچ کرکھا لیا گیا۔کھل کر چائنا کٹنگ کی گئی، پیسے کھا کھا کر غیر قانونی بلڈنگز کوپرمٹ دیئے گئے۔ عرض کہ اندرون سندھ سے لائے گئے سفارتی سندھیوں نے دونوں ہاتھوں سے اس شہر خرابی کو بیچ کھایا۔ اب اطلاعات یہ ہیں کہ وفاقی حکومت نے بدنام زمانہ کوٹہ سسٹم کو مزید چالیس سالوں کیلئے منظور کرلیا ہے۔ ملک کا ستتر فیصد ریونیو کراچی سے آتا ہے مگراس شہر کی بدحالی کا یہ حال ہے کہ دنیا اسے کچرا کنڈی کے نام سے پکارتی ہے جب کراچی والوں پر پچھلے چالیس برسوں میں تعلیم کے دروازے بند کئے گئے اورملازمتوں پر پابندیاں لگائی گئیں تو ان تمام زیادتیوں اورناانصافیوں میں پیدا ہونے والے اورپلنے بڑھنے والی نسل نے ہاتھوں میں بندوقیں اٹھالیں ا ورلوٹ مار کرنے کاپیشہ اپنالیا۔ ظاہر ہے کہ جب آپ کسی کودیوار سے لگا دیں گے اوراس کا جائز حق ماریں گے تو ردعمل تو آئے گا ہی، پرانی نسل نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا اوراس نسل نے کراچی ڈوبتے دیکھا۔ حالات جس نہج پر جا رہے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ کراچی بھی ڈھاکہ کی طرح سے تنگ آ کر الگ ملک نہ بن جائے جہاں ہمیں جا نے کے لئے پاسپورٹ اورویزہ لینے کی ضرورت پڑے اور ستائے ہوئے اہالیان کراچی کو اپنا آلہ کار بنانے کے لئے نیا الطاف حسین نہ پیدا ہو جائے ۔ اس وقت کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں نہ پولیس مقامی ہے نہ حکومت مقامی لوگوں کی ہے نہ کاروبار میں مقامی لوگ ہیں یہاں تک کہ بھکاری بھی کراچی سے باہر سے پیسہ کمانے آتے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کراچی اوراہالیان کراچی کے سر سے اب پانی گزر چکاہے ۔ یا تو اسے وفاق اپنے اختیار میں لے یا پھر الگ صوبہ بناکر اسے مقامی کراچی والوں کے لئے وقف کیا جائے ۔ اب ہم سقوط کراچی برداشت نہیں کرسکتے۔