قوم میں شعور بیدار ہورہا ہے!!

206

باوجود اس موذی وائرس کے 14 اگست ماشاء اللہ بڑے جوش وجذبے سے روایتی انداز میں منائی گئی، سب سے زیادہ خوشی اور طمانیت کی بات یہ ہے کہ بچوں میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار ہورہا ہے اور یہ ضروری ہے کہ ان نونہالوں کو پاکستان کی تاریخ سے بھی آگاہی فراہم کی جائے، بابائے قوم کی جدوجہد سے روشناس کروایا جائے ،انہوں نے جو پیغامات قوم کو دئیے تھے انہیں دہرایا جائے، اس نئی نسل کو اسلام کے بارے میں معلومات دی جائیں تاکہ یہ اپنی زندگی میں صحیح راہوں کا تعین کر سکیں، انہیں بچپن ہی سے جھوٹ، فریب، مکاری ،کرپشن سے نفرت دلائی جائے محنت کی عظمت کو اجاگر کیا جائے اور رزق حلال کمانے کی تلقین کی جائے، معاشرے میں جو بگاڑ آچکا ہے اس کو ختم کرنے کے لئے والدین کو اور اساتذہ کو اپنے آپ کو ماڈل بنا کر پیش کرنا پڑے گا، اگر والدین خود جھوٹ سے پرہیز کریں گے تو بچوں کی سمجھ میں اس کی افادیت اجاگر ہو گی، سادگی، بڑوں کا ادب، استاد کا احترام، اپنے ہم جماعتوں سے ہمدردی کا سلوک، بچوں میں ذات پات ،اونچ نیچ کی تفریق، غربت، امیری کا تقابل، ان چیزوں سے ان کے معصوم ذہنوں کو پاک رکھنا ہو گا، ظاہر ہے والدین کو اپنی بہت سے خواہشات کی قربانی بھی دینی پڑے گی، بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ زندگی میں آنے والے مسائل پر وہ بخوبی نبردآزما ہو سکیں، قانون کی پاسداری بھی انہیں سکھائی جائے، اسی طرح ایک مثالی معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
چودہ اگست کو گارڈ کی تبدیلی قائد کے مزار پر ہوئی، مسلح گارڈز کی موجودگی میں عوام میں سے کچھ لوگوں نے ایک بڑی عجیب حرکت کی، مزار کی دیواروں پر چڑھنا شروع کر دیا، ایسا جوش و خروش دکھارہے تھے جیسے ایورسٹ فتح کرنے جارہے ہوں، یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا، یہ قائد کے مزار کی صریحاً بے حرمتی ہے، ان گارڈز کو ان لوگوں کو روکنا چاہیے تھا، اس تماشے میں لوگ گر کر مر بھی سکتے تھے، بہرحال اس پر احتجاج کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کا گھٹیا ڈرامہ نہ کیا جائے۔
شہزادی ہند القاسمی لائق تحسین ہیں جنہوں نے عرب ممالک میں سب سے پہلے بھارت کے کشمیریوں پر مظالم، آرٹیکل 370کا خاتمہ، بھارتی مسلمانوں پر امیگریشن کے متعلق تحفظات پر آواز اٹھائی، انہوں نے سعودی عرب اور عرب امارات میں ملازمت کرنے والے ہندوئوں پر بھی ان ممالک سے ملازمت کے دروازے بند کرنے کا مطالبہ کیا اور انہیں واپس بھیجنے کے بارے میں کہا، پاکستان آرمی چیف باجوہ صاحب کی سعودی شہزادے سے ملاقات میں تمام متنازع معاملات کو زیر غور لایا گیا اور تمام غلط فہمیوں کو دور کر دیا گیا، اسرائیل کی حقیقت بھی اجاگر کی گئی، اس وجہ سے MBSنے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا گیا کہ اسرائیل مسلمانوں پر جارحیت سے باز آجائے اور فلسطین کے مقبوضہ علاقہ انہیں واپس کئے جائیں، سرحدی حدود جو 1930میں تھیں انہیں بحال کیا جائے، اگر اسرائیل ان تمام شرائط کو اسرائیل مان لیتا ہے تو اسے تسلیم کیا جائے گا ورنہ نہیں۔
دوسری طرف بھارت کو بھی اسلامی ممالک کی طرف سے انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی آرٹیکل 370کی حیثیت بحال کرے، دوسری شرط یہ ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کی کوشش نہ کی جائے اور وہاں رام مندر کی تعمیر کی مسلم امہ کسی طرح اجازت نہیں دے سکتی، ترکی، ملائیشیا، ایران اور پاکستان نے واضح الفاظ میں یہ تنبہہ کر دی ہے کہ اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو کئی اسلامی ممالک کی فوجیں بھارت پر اتار دی جائیں گی، مقدس مقامات کی حفاظت امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے اور یہ فرض انجام دینے کی وہ بخوبی صلاحیت رکھتے ہیں، پوری امت اس وقت کشمیریوں اور فلسطینیوں کے ساتھ ہے، ان پر ڈھائے جانے والے مظالم سے اجتناب کیا جائے ورنہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے راس قدم اٹھایا جائے گا جس میں مسجد اقصیٰ کا تحفظ اور بابری مسجد شامل ہیں، بابری مسجد بابر کے ہندوستان آنے پر ان کے ایک کمانڈر نے 1521میں بنائی تھی، یہ بات ناممکنات میں سے ہے کہ کسی مندر کو منہدم کر کے یہ مسجد بنائی گئی ہو، ہندوئوں کا جھوٹا دعویٰ صدیوں بعد سامنے آیا ہے کہ جہاں اس مسجد کی تعمیر ہوئی ہے وہ بھگوان رام کی جنم بھومی ہے، کچھ شر پسند پجاریوں نے اس مسجد میں مورتیاں لا کررکھ دیں اور پوجا پاٹ کرنے لگے، مسلمان ممالک نے کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے مقامات مقدسہ کی خود حفاظت کریں گے، اگر بھارت نے مسجد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی یا اُسے شہید کرنا چاہا تو طیب اردگان نے بھارت کی سرزمین پر اپنی فوجیں اتارنے کی دھمکی دے دی ہے اور ہو سکتا ہے دوسرے اسلامی ممالک بھی اس کی پیروی کریں جس میں ایران بھی شامل ہے۔اگر اقوام متحدہ نے مسلمانوں کے ان تمام تحفظات کو دور نہ کیا تو ہو سکتا ہے اسلامی ممالک اپنی اقوام متحدہ بنا لیں، 57اسلامی ممالک میں جو ملکر ایک بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔
امت مسلمہ کی حمیت کو جگانے کا سب سے بڑا کام عمران خان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر تقریر کر کے کیا ہے، جس طرح دنیا کے مسلمانوں میں صرف اسلام کے تحفظ کا جذبہ بیدار ہوا ہے اس سے پہلے نہیں تھا اور اسی وجہ سے مسلمان دنیا میں رسوا ہوئے، اب اسلام دنیا کے نقشے پر ایک طاقتور مذہب بن کر ابھرے گا، اب نہ کوئی عربی ہو گا نہ عجمی بلکہ صرف اسلام کا بول بالا ہو گا۔
صوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ کسی طرح قابو میں نہیں آرہا، وفاق سے اس نے اللہ واسطے کا بیر باندھا ہوا ہے، عبداللہ شاہ کا بیٹا مراد علی شاہ بالکل اپنے باپ کے نقش قدم پر چل رہا ہے کراچی کو بالکل کھنڈر بنانے کا منصوبہ لیکر چل رہا ہے، ابھی اگست کے آخر میں بلدیہ کے الیکشن ہونگے ،اس سے پہلے ہی اس نے کیماڑی کو کراچی کا ساتواں ضلع بنا دیا ہے حالانکہ یہ اختیار یعنی ضلع بنانے کا بلدیہ کی ثواب دید پر ہے۔ کراچی کے گورنر، وزراء کو چاہیے اس پر سخت جارحانہ ایکشن لیں، ڈاکٹر عامر لیاقت نے اس پر بڑا بیان دیا ہے کہ کیا بلاول کے پالتوئوں کو کراچی میں کوئی خون خرابہ کروانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
صبا! خاک دل سے بچا اپنا دامن
ابھی اس میں چنگاریاں اور بھی ہیں!