بھارت: شہریت قانون کیخلاف مظاہروں کا منتظم طالبعلم دہلی فسادات کے الزام میں گرفتار

320

بھارتی دارالحکومت کی پولیس نے جواہرلعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے ایک طالبعلم شرجیل امام کو نئی دہلی میں فروری میں ہونے والے فسادات کو برپا کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا جس کے بارے میں کہا جا رہا کہ یہ پہلے ملک کے متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کا انتظام کرنے میں ملوث تھا۔

خیال رہے کہ فروری میں دہلی میں بدترین مذہبی فسادات ہوئے تھے جس میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں سے 2 دہائی کا تعلق بھارت کی مسلمان برادری سے تھا، یہی نہیں بلکہ مساجد کو بھی نذرآتش کردیا گیا تھا جبکہ ان فسادات میں 15 ہندو بھی ہلاک ہوئے تھے۔

31 سالہ تاریخ کے طالبعلم شرجیل امام کو غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار کیا گیا اور اسے پروڈکشن وارنٹ پر آسام سے دہلی لے جایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ شرجیل امام کو لے جانے سے قبل بھی وہ گزشتہ برس شہریت قانون کے خلاف ردعمل دینے پر گوواہتی جیل میں پولیس حراست میں تھا، مزید یہ کہ 21 جولائی کو اس کا کووڈ 19 کا نتیجہ بھی مثبت آیا تھا۔