ٹک ٹاک کا ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

208

ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے گئے ایگزیکٹو حکم نامے کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔

ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس نے 22 اگست کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی کے پاس ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عدالت میں جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا۔

بائٹ ڈانس نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی قوانین ان کی کمپنی اور ان کے صارفین کے ساتھ مناسب برتاؤ کا تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس لیے انہیں اپنے بچاؤ کا حق حاصل ہے۔

کمپنی کی جانب سے مختصر بیان میں کہا گیا کہ بائٹ ڈانس آنے والے ہفتے کے آغاز میں ہی امریکی عدالت میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف درخوست دائر کرے گی۔

بائٹ ڈانس نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال سے امریکی حکومت کے خدشات دور کرنے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھی۔

چینی کمپنی نے ٹرمپ انتظامیہ کے ڈیٹا کو جاسوسی کے لیے استعمال کیے جانے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے احکامات سے متفق نہیں۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چینی کمپنی 25 اگست تک ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف امریکی عدالت میں درخواست دائر کرے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ 6 اگست کو ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے ٹک ٹاک کو آئندہ 45 دن میں اپنے امریکی اثاثے کسی دوسری امریکی کمپنی کو فروخت کرنے کی مہلت دی تھی۔

صدارتی حکم نامے میں کہا گیا تھا اگر چینی ایپلی کیشنز کو آئندہ 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہیں کیا گیا تو ان پر امریکا میں پابندی لگادی جائے گی۔

ٹک ٹاک کو 15 ستمبر 2020 کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی تاہم بعد ازاں 16 اگست کو ٹرمپ انتظامیہ نے مذکورہ مدت میں مزید 45 دن کا اضافہ کردیا تھا۔