اسرائیل کو تسلیم کرنا

281

وہ ARCHITECT SCIENCESکی کلاس کا آخری دن تھا، پروفیسر تمام غیر ملکی طلباء سے پوچھ رہا تھا کہ وہ اپنے وطن واپس جا کر کیا کرنا چاہتے ہیں ان طلباء میں دبئی کے شیخ کا بیٹا بھی تھا تمام طلباء نے اپنے اپنے پروجیکٹس کے بارے میں بتایا اور جب دبئی کے شیخ کے بیٹے کی باری آئی تو کلاس نے قہقہہ لگایا اور طعنہ زن ہوئے اور کہا ’’یہ اونٹ چلائینگے‘‘ شیخ کا بیٹا مسکرا کر رہ گیا، اس مسکراہٹ کے پیچھے کہیں شرمندگی تھی، وہ اپنے وطن واپس آیا اس نے ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی دنیا کے نقشے پر دبئی ایک حیرت بن کر ابھرا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا، دبئی کے ریگستان دبئی کی عظیم الشان عمارتوں میں چھپ گئے، اب دنیا میں دبئی کا نام احترام سے لیا جاتا ہے اور اس کی معاشی سرگرمیاں دنیا کی معیشت کو متاثر کرتی ہیں، عرب ریاستوں نے ساٹھ کی دہائی میں ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ مذہب سے دور عہد جدید کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ چلیں گے، اس کے لئے انہوں نے مذہب کو راہ کی دیوار نہیں بننے دیا، ان کا معاشی شعور حیرت انگیز حد تک چونکا دینے والا تھا، ان کو یہ معلوم تھا کہ پاکستان میں کراچی کی بندرگاہ ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے، دوسرا خطرہ ان کو گوادار سے تھا وہ سمجھتے تھے کہ ان دونوں بندرگاہوں کے OPERATIVEہونے سے ان کی معاشی سرگرمیوں پر اثر پڑ سکتا ہے، عرب ریاستوں سے بہت پہلے پاکستان کی دینی جماعتوں کے ذریعہ فرقہ واریت کے بیج بونا شروع کر دئیے تھے، ضیاء الحق کے دورمیں اس کام پر بڑی INVESTMENTکی گئی اور دس سال تک سپاہ صحابہ اور سپاہِ محمد کے درمیان جنگ کی سی کیفیت رہی، نام نہاد جہاد افغانستان نے پورے ملک میں دہشتگردی کی آگ لگا دی، یہ بات حیران کن ہے کہ کسی حکومت نے کراچی اور گوادار کو جدید بنانے کے بارے میں سوچا تک نہیں اور کراچی کو حزب اختلاف کا ملک بنا کر رکھا گیا، ایم کیو ایم کے زمانے میں کراچی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، پاکستان کے لئے یہ عالمی سازش بُنی گئی اور اس جال کے بننے کے لئے بہت مضبوط دھاگے ان برادر مسلم ممالک نے فراہم کئے جو دین کے نام پر بنے گئے تھے، کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کراچی کی بندرگاہ اگر جدید خطوط پر OPERATIVEہو جاتی تو دبئی، قطر اور شارجہ کو اپنے مقاصد کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہوتا، عرب ریاستوں نے اپنے معاشی مقاصد کے حصول کے لئے مغرب،امریکہ اور اسرائیل سے معاشی، تجارتی اور فوجی تعلقات رکھے، اور اب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اور سفارتی تعلقات کرنا ان کی سوجھ بوجھ کا ثبوت ہے۔

پاکستان کی سیاست میں مذہب کی مداخلت نے پاکستان کو بے انتہا نقصان پہنچایا، بھٹو نے ایک طرف ملک دولخت کیا تو دوسری طرف آئین میں یہ شق شامل کر کے پاکستان کی ترقی کی پیٹھ میں خنجر اتار دیا کہ پاکستان میں کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے بغیر نہیں ہو گی، اب جب بھی کوئی انقلابی قدم اٹھتا ہے یہ شق پائوں کی زنجیر بن جاتی ہے اور اسی شق نے پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کرنے سے روک رکھا ہے، اب جب بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات آتی ہے علماء بے نصاب سورۃ المائدہ کی وہ آیات لے کر نکل پڑتے ہیں جن کا ترجمہ ہے کہ ’’ اے ایمان والو! یہود و نصارا کے یار و مددگار نہ بنو، یہ خود ہی ایک دوسرے کے یار و مددگار ہیں، اور تم سے جو بھی ان کی دوستی کا دم بھرے گا تو وہ انہی میں سے ہے‘‘ قرآن کو اس وقت کے سیاسی

حالات سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا ہے سو اس سورۃ کی ان آیات کو بھی سیاسی پس منظر میں ہی سمجھا جا سکتا ، ان پڑھ عوام کو تو آیات کو سمجھنے کی اجازت نہیں، مگر علماء بے مصرف نے بھی نہیں سمجھا کہ وہ نصارا سے تو تمام قسم کے دنیاوی معاملات رکھتے ہیں ان کے یارومددگار بھی ہیں، ان کی امداد کے بغیر ان کی روٹی نہیں چلتی مگر یہود سے تعلقات پر جان نکلتی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ آیت کے ایک حصے کو قبول کر لیں اور آدھے حصے کو مسترد کر دیں، نصارا سے تعلقات جائز اور یہود سے ناجائز، ماضی میں ہمارے کئی سیاست دان اور بیوروکریٹ اسرائیل کے خفیہ دورے کرتے رہے ہیں، تو کیا ہم جان سکتے ہیں کہ آیت کے آخری حصے کا اطلاق کیا ان پر ہوتا ہے اور اگر ہوتا ہے آیت کی رو سے کیا وہ سب انہی میں سے ہیں، کیا ان سیاست دانوں اور بیوروکریٹ کو کافر اور مرتد قرار دیا گیا اور اگر نہیں دیا گیا تو کیوں نہیں؟ مجھے معلوم ہے کہ مکار علماء کے پاس اس کا جواب نہیں، یہ صریحاً آیات قرآنی کاانکار ہے اور جو آیات کو توڑے مروڑے کیا یہ تحریف نہیں ہے، ایک لابی ہے جو اسلام کا فریب دے کر پاکستان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرے، حالانکہ اسرائیل کا پاکستان سے کوئی جھگڑا نہیں۔

فلسطینی کاز کو بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے سے جوڑ دیا جاتا ہے، ایوب خان کے زمانے میں فلسطینی نوجوانوں نے پوری شدت کے ساتھ اپنے وطن کے لئے جدوجہد کی تھی، اردن بہت پریشان تھا پاکستان کے کرائے کے فوجی وہاں بھیجے گئے اور انہوں نے بریگیڈیئر ضیاء الحق کی سرکردگی میں سینتیس ہزار فلسطینی مار دئیے اور تحریک کی کمر توڑ دی اس کے بعد فلسطینی جدوجہد میں وہ تیزی آہی نہ سکی اور پاکستان کو بھی احساس نہ ہوا کہ اس نے کس غلطی کا ارتکاب کر دیا، اب فلسطینی کاز کی بات پر بات کرنا مگر مچھ کے آنسو بہانا ہے، یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس دور میں پاکستان نے اسرائیل کی INDIRECTLYمدد کی اور کئی کتابوں میں اس کا اعتراف موجود ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ فارسیل رہی ہے اس کا اظہار کسی نہ کسی طرح ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی کیا ہے، مگر اب ان دھندلکوں سے نکل کر زمینی حقائق کو مان لینا چاہیے، خارجہ پالیسی مذہب کی بنیاد پر کبھی نہیں بنتی، ملکی مفا دیکھا جاتا ہے، ملائوں کی ریاکاری ظاہر ہو چکی اب پوری توانائی کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کیا جانا چاہیے، اب یہ وقت کی ضرورت ہے ہوش کے ناخن لئے جائیں یہودی کمیونٹی دنیا کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ذہن اور PROFESSIONALSسے بھری ہوئی کمیونٹی ہے، بہت زیادہ VIBRANTبھی، ان سے مل کر پاکستان پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔