پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا! آخرکار امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر ہی لیا،اگلا ملک سعودیہ ہوگا

216

وہ خبریں جوگزشتہ کئی سالوں سے عرب ممالک کے حوالے سے زیرگردش تھیں آخرسامنے آ ہی گئیں۔ بلی تھیلے سے باہر آگئی۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے مسلم امہ کے نمبر ون دشمن اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرلیا اور فلسطینیوں کی پیٹھ میں کھلا خنجر گھونپ دیا۔ یوں تو امارات،سعودی عرب اوراسرائیل کے درمیان بات چیت کئی سالوں سے جاری تھی ،بیک ڈور اورخفیہ طریقوں سے مگر پھر بھی شاید لوگوں کا تھوڑا بہت خوف تھا اور اپنے عوام جوکہ مسلمانوں پر زیادہ تر مشتمل ہیں ان کے ردعمل کا خطرہ تھا جوان کو کھل کر سامنے آنے سے روک رہا تھا مگر سعودی عرب میں عملاً معزول بادشاہ سلیمان اور غیر سرکاری طور پر ان کے ولی عہد محمد بن سلمان(ایم بی ایس) کی طرف سے سعودی معاشرے میں غیر معمولی کھلی چھوٹ اور غیر اسلامی شعائر کی اجازت دینے کے بعد دبئی اور امارات کو حوصلہ ملا جہاں پر یوں بھی غیر ملکیوںغیر مسلمانوں کی تعداد مقامی لوگوں سے کہیں زیادہ ہے کہ وہ فلسطینیوں پر غاصب ملک اسرائیل کو تسلیم کرلے مگر اب بھی انہیں لوگوں کی اکثریت سے بڑا خوف ہے۔ ایک مثال حال میں سامنے آنیوالی ایک ویڈیو سے جو بہت وائر ل ہوگئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بحرین کی ایک دکان میں ایک عرب عورت وہاں موجود ساری ہندومورتیاں خرید لیتی ہے اور پھر دکان پر ہی مورتی کو زمین پر پٹخ پٹخ کر توڑتی جا رہی ہے اور غصے میں کہتی جا رہی ہے کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے یہاں بت پرستی نہیں چلے گی۔ جب بحرین جیسے ترقی پسند ،لبرل اورماڈرن ملک کے عام مسلمانوں کے جذبات ہیں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے نسبتاًقدامت پسند مسلم ممالک، عرب ممالک اورعجمی مسلم ممالک کے عوام کا کیا ردعمل ہوگا جب سعودی عربیہ بھی اسرائیل کو تسلیم کر لے گا جس کے متعلق خیال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل عرب تعلقات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والا اگلا ملک سعودی عرب ہوگا۔ ایم بی ایس کسی نہ کسی طرح سے ٹرمپ کی مدد کے ساتھ عدنان خویشگی کے قتل کیس سے تو عارضی طور پر بچ گئے مگر امت مسلمہ کے عام مسلمانوںکی طرح عام سعودی کبھی اس بات سے راضی نہ ہوگا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت عرب اپنی بے شرمی اور بے غیرتی کی انتہا کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں ۔ اپنے امریکی آقا کے کہنے پر وہ سب کچھ کرنے پر راضی ہوگئے ہیں جو کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ پاکستان جو ہمیشہ فلسطینیوں کے حق خودارادی اور اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف بہت بڑھ چڑھ کر بولتا تھا آج اتنے بڑے سانحے پر بالکل چپ سادھے ہوئے ہے۔ ترکی اور ایران نے جس طرح سے متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے کے خلاف کھل کر بات کی ہے اور مذمت کی ہے پاکستان کا رویہ بہت معذرت خوانہ شرمساری پر مبنی ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ملائیشیا کی سمٹ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کی طرح عمران خان اس وقت بھی سعودی اور اماراتی دبائو کے تلے دبے ہوئے ہیں۔ مگر اب تو سعودیہ سے ہمارے پاکستانی ورکرز بھی کورونا کی وجہ سے واپس آگئے ہیں اور سعودی نے اپنے پیسے بھی واپس مانگ لئے ہیں جوچین کی مدد سے پاکستان نے واپس بھی کردیئے ہیں پھر اب یہ کیسا پریشر ہے؟ فلسطینیوںکے ساتھ غداری کے اس اماراتی فیصلے پر حکومت پاکستان کی خاموشی ایک طرح سے مسئلہ کشمیر کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بنے گی۔پاکستان میں سعودیہ کے سابق سفیر کے چھپنے والے ایک سعودی اخبار کے کالم میں بھی اس قسم کی دھمکی دی گئی ہے کہ عجمی مسلمانوں کا او آئی سی کے مقابلے پرکسی قسم کی تنظیم کاقیام ناقابل قبول ہوگا۔ اگر کشمیر کے مسئلے پر خاموشی اورفلسطین کے اوپراسرائیل سے سازش تو پھر کہاں کی مسلم امہ اور کہاں کا او آئی سی ، اب یقینا ایک حقیقی مسلم نمائندہ تنظیم کا قیام ناگزیر ہو گیاہے۔