موروثی عادات سے مجبور یہ قوم!

227

انسان کی فطرت کی تخلیق کچھ اسکی اپنی جبلت سے تشکیل پاتی ہے اور کچھ عادات واطوار موروثی ہوتی ہیں جن میں تبدیلی آنا ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کبھی انسان کو آسمان کی بلندیاں پر لے جاتا ہے کبھی اسے زمین پر پٹخ دیتا ہے لیکن اس کی فطرت جو اس کے خون میں سرایت کر چکی ہوتی ہے بدلتی نہیں۔ ایک بادشاہ کا قصہ ہے کہ ُاسے ایک فقیرنی پسند آگئی تھی بادشاہ نے اس سے شادی کر کے ملکہ بنا دیا، اتنی پرتعش زندگی میں بھی ملکہ کچھ خوش نہیں تھی۔ بادشاہ کو اطلاع دی گئی کہ ملکہ کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھاتی انواع و اقسام کی نعمتیں اس کے دستر خوان پر ہوتی ہیں لیکن وہ انہیں دیکھتی رہتی ہے مگر کھاتی نہیں۔ ایک دن بادشاہ نے ملکہ کی نگرانی کی اس نے دیکھا کہ ملکہ اپنا کھانا کسی پتلے کے ہاتھ پر رکھتی ہے پھر اس سے مانگ کر کھاتی ہے، اس لئے بادشاہ نے خوبصورت مورتیوں کے ہاتھ پر برتن رکھوا دئیے اس میں کھانا ڈالا جاتا اور ملکہ حسب عادت ان کے آگے ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگتی اور بھیک کا کھانا کھاتی ملکہ کی صحت بہتر ہو گئی لیکن اس صورت حال سے بادشاہ بہت پریشان تھا کہ اس کے ملازمین کیا سوچیں گے اور ملکہ کی خاک عزت کریں گے ملکہ کی فطرت کو بدلنا ناممکن تھا سو بادشاہ نے اسے پھر اس کے بھکاری قبیلے میں بھیج دیا یہی ایک حل تھا، موروثی عادات و اطوار کو بدلنا ناممکن ہوتا ہے۔
عرب ایک زمانے میں بدو کہلاتے تھے، یہ عرب کے صحرائوں میں اونٹوں پر سفر کیا کرتے تھے جہاں پانی ملتا اور ہریالی ہوتی تھی جو ان کے جانوروں کی بھوک بھی مٹا سکتی تھی یہ وہیں پڑائو ڈال لیتے تھے، جانوروں کا شکار کرتے تھے، انہیں کاٹ کر ٹکڑے کرنے کے بعد آگ پر بھون کر بڑے بڑے بارچوں کو نوچ نوچ کر کھاتے تھے، زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے اپنے لباس سے ہاتھ منہ پونچھ لیتے لیکن اللہ کا کرنا ہوا ان کی زمینوں میں تیل نکل آیا اور پھر ان کی قسمت نے پلٹا کھایا، مالا مال ہو گئے، غرور اور تکبر بھی آگیا، انسانوں کی قسمت کے ٹھیکیدار بن گئے، دولت نے ان کے اندر رعونت تو پیدا کر دی لیکن اجداد سے جو فطرت انہیں ملی تھی اس پر قابو نہ پا سکے، سعود بادشاہ بنے اور ملک کا نام آلِ سعود رکھ دیا۔ سعودی عرب اور امارات مسلم امہ میں بڑی اہمیت کے حامل تھے، OICمیں انہی بڑا مقام حاصل تھا۔ 57اسلامی ممالک بہت پُرامید تھے کہ ان کے مسائل اغیار کی دراندازی ،انکی املاک پر ناجائز قبضے پر یہ ملک ان کمزور ملکوں کی حفاظت کریں گے لیکن انہوں نے الٹا ہی کا م کر دیا، اپنے اتحادیوں کو مسائل میں گھرا چھوڑ کر اغیار سے ناطہ جوڑ لیا، فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموشی اختیار کئے رکھی، اسرائیل، امریکہ سے ہاتھ ملا لیا، اس طرح کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرنے کی بجائے بھارت کو تحفے دینے لگے۔
اقوام متحدہ کے اجلاس میں مہاتیر محمد اور طیب اردگان،عمران خان نے یہ طے کیا تھا کہ دنیا میں اسلام کے خلاف جو پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اسلامو فوبیا کا چرچہ زور پکڑ رہا ہے اس پر غور کیا جائے گا اور مسلمانوں کے ساتھ کئے جانے والے ناروا سلوک پر آواز اٹھائی جائے گی، کشمیر میں بھارتی فوج کی مسلمانوں پر بربریت اور ہندوستان امیگریشن بل کا پاس ہونا، نسلوں سے رہنے والے مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے محروم کرنا، فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ، انہیں اپنی آبائی املاک سے محروم کرنا، ان پر حملے ختم کروانے کے لئے کوششیں کی جانی تھیں لیکن سعودی بدو اپنی فطرت میں پڑی غداری کی گھٹی سے مجبور ہیں ،انہوں نے بھارت کا ساتھ دیا مودی کو تمغوں سے نوازا، مندر بنانے کی اجازت دی جبکہ ہندوستان صدیوں پرانی بابری مسجد کو مندر میں تبدیل کررہا ہے۔
مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم کا تدارک کرنے کے لئے مہاتیر ،محمد طیب اردگان، عمران خان نے اقوام متحدہ کی میٹنگ کے بعد ایک اسلامی بلاک بنانے کی تجویز پیش کی تھی اور اس کا اجلاس ملائیشیا میں ہونا تھا ،اس کا انجام کیا ہوا؟
آپ کو معلوم ہو گا کہ پاکستان میں ڈاکہ پڑ چکا تھا، قزاق خزانہ لوٹ کر دوسرے ممالک میں پہنچا چکے تھے نئی حکومت آئی تو قومی خزانے پر جھاڑو پھر چکی تھی اور ملک بلیک لسٹ ہونے جارہا تھا، اس حکومت کو اپنے بردار ملک سے مدد لینی پڑی یعنی سعودی عرب سے اس وقت تو محمد بن سلمان نے بڑی فراخ دلی سے ایک ارب ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھوائے اور ایک ارب ڈالر حکومت کو دئیے، پاکستان نے ان کو بڑی عزت دی( یعنی وزیراعظم صاحب خود ان کی گاڑی ایئرپورٹ سے ڈرائیور کر کے لائے) اور انہیں اس کا اندازہ نہیں تھا کہ جس گھٹیا شخصیت کو وہ اتنا احترام دے رہے ہیں یہ بات اس وقت سامنے آئی جب عمران خان کو کوالمپور OICکی کانفرنس میں جانا پڑا۔ بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے اور اس نے MBSکو زور دے کر کہا کہ وہ عمران خان کو شرکت سے روکے کیونکہ سعودی عرب کا بہت سا پیسہ بھارت سے تجارت میں لگا ہوا تھا۔ MBS نے عمران خان کو دھمکی دے ڈالی کہ اگر وہ اس کانفرنس میں گئے تو انہیں بنک میں رکھا پیسہ اور جو حکومت کو دیا گیا وہ واپس کرنا پڑے گا۔ دوسری دھمکی یہ دی کہ سعودیہ اور امارات میں جتنے پاکستانی ملازمت کررہے ہیں انہیں فارغ کر کے واپس پاکستان بھیج دیا جائے گا۔ عمران خان کے لئے یہ بڑا امتحان تھا۔ اتنے لوگوں کی بیروزگاری اور ان کا بھیجا جانے والا فارن ایکسچینج کا بھی راستہ رک جائے گا۔وزیراعظم کوالمپور نہیں گئے، مہاتیر محمد ناراض بھی ہو گئے بہرحال طیب اردگان کو صورتحال کا علم ہو گیا تھا۔
ان چوروں، ڈاکوئوں کے لوگوں کو جب عدالت یا نیب طلب کرتی ہے تاکہ ان کے بیانات لئے جا سکیں اور فرد جرم عائد کی جائے تو یہ سرکس کے جانور ساتھ لیکر جاتے ہیں اور یہ نوٹنکی کے لوگ بزور طاقت عدالت میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں پولیس اور سکیورٹی ادارے انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ مار پیٹ پر اتر آتے ہیں، اس طرح ایک ڈرامہ اس وقت بھی ہوا جب مریم نواز کو نیب نے طلب کر لیا، احاطہ عدالت میں مریم نواز معہ اپنے ہمددردوں کے جنہیں پیسے دے کر بلوایا گیا تھا، یہ لوگ پتھروں سے بھرے بیگ بھی گاڑیوں میں رکھوا لائے تھے، جیسے ہی انہوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی پولیس نے روکنا چاہا تو پتھرائو شروع ہو گیا، مریم کی بکتر بند گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا، اور اپوزیشن کو موقع مل گیا کہ یہ کہنے کا موقع ملا گیا کہ مریم نواز پر قاتلا حملہ ہوا ہے، یہ ان لوگوں کی پرانی الزام تراشی ہے اور یہ کہنا کہ احتساب نہیں انتقام لیا جارہا ہے۔ اس ہنگامے کی وجہ سے مریم کی ڈکیتی کی واردات پر بیان نہ لیا جا سکا۔