دو قومی نظریہ اور یوم پاکستان

244

بے شک بانی ٔپاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے دو قومی نظریہ پیش کر کے ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک بنایا کہ ہندوستان میں دو قومیں آباد ہیں جن کا مذہب الگ الگ ہے جو آپس میں متحد نہیں رہ سکتی ہیں تاکہ ہندوستان میں پسماندگی میں مبتلا مسلمانوں کو نجات مل پائے مگر دو قومی نظریہ علم سیاسیات کی تعریف میں نہیں آتا ہے کیونکہ ہندوستان میں لاتعداد قومیں اور نسلیں آباد تھیں جن کے اپنے اپنے لسان، زبان ، کلچر اور تہذیب و تمدن ہیں جس میں مذہب اختیاری ہے جو کسی بھی وقت اختیار اور ترک کیا جا سکتا ہے جس میں مذہب اسلام عالمگیر دین ہے جس کا پیروکار مسلمان کہلاتا ہے جو امت محمدی کہلاتا ہے لہٰذا وقت کے لحاظ سے دو قومی نظریہ ٹھیک تھا مگر علم کے مطابق موزوں نہ تھا جس کی بنیاد پر 14اگست 1947ء کو پاکستان بنا جو ٹھیک ۲۳ سال بعد ٹوٹ گیا جس کی خالق اور مالک بنگالی قوم نے دو قومی نظریہ سے انکار کر دیا جس کو بھارتی حملہ آور وزیراعظم اندرا گاندھی نے بحیرہ بنگال میں ڈبو دیا کہ وہ بنگالی قوم جس نے پاکستان بنایا تھا وہ خود پاکستان چھوڑ کر چلی گئی جس میں لاکھوں مسلمان مارے گئے، پاکستانی فوج کو ہتھیار ڈالنے پڑے جو مسلح تاریخ کا بہت بڑا سانحہ بنگال کہلاتا ہے، دراصل دو قومی نظریہ کی اصل خالق بھارتی حکومتیں ہیں جنہوں نے خطے میں امن کی بجائے جنگ و جدل سے کام لیا جس سے ایک ہی نسل، لسان، زبان، کلچر، تہذیب و تمدن کی قومیں تقسیم ہو کر رہ گئیں، حالانکہ تقسیم کے باوجود سینکڑوں جنگوں کے حامل اور کروڑوں انسانوں کے قاتل اہل یورپ نے آخر کار مختلف نسلوں، لسانوں، زبانوں، کلچروں کے باوجود یورپین یونین بنائی جو آج ایک مثالی اتحاد بن چکا ہے کہ جن کی کرنسی وغیرہ ایک ہے جو ایک دوسرے کو ملنے کے لئے پابندیوں سے پاک ہیں جس کا مظاہرہ برصغیر میں نہ ہوا جس کا سب سے زیادہ ذمہ دار بھارت اور پاکستان ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے لڑتے جھگڑتے آرہے ہیں تاہم دو قومی نظریہ پر پاکستان بنا جس کے اثرات یا مضمرات آج مکمل سامنے آرہے ہیں کہ بھارت میں بھی پاکستان مسلم ریاست کے مدمقابل ہندوستان ایک ہندو ریاست ہے یہاں غیر ہندوئوں کے رہنے کا حق حاصل نہیں ہے جو ہٹلرازم کا تسلسل ہے کہ ملک کو نسل پرستی پر چلایا جائے حالانکہ ہندو کوئی قوم نہیں ہے یہ ایک مذہب ہے جو کسی بھی کالے ، گورے، لمبے چوڑے انسان کا ہو سکتا ہے، اگر نہرو خاندان کو دیکھا جائے تو ان کی نسل، لسان، زبان کلچر کشمیری ہے جبکہ ہندو ریاست کے حکمران نریندر مودی کی نسل ،لسان، زبان کلچر گجراتی ہے جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے پھر ہندوئوں میں بھی لاتعداد فرقے یا گروہ ہیں جن کو بھارتی آئین کے مطابق زبردستی ہندو مذہب کا حصہ بنا رکھا ہے جس میں بدھا، ساکھ یا دلت ہیں جو ہندو مت کے متاثرہ نہیں جن کا مذہب ہندو مذہب سے کوئی تعلق نہیں مگر بھارت میں انہیں ہندو مذہب کا حصہ بنا کر آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے جبکہ 1920ء کے اعداد و شمار کے مطابق مسلمان ہند کی آبادی 53فیصد تھی جب ہندوستان میں ہندو، بدھا، سکھ یا دلت الگ الگ مذہب شمار ہوتے تھے مگر موجودہ ہندو نسل پرستی میں بھارت کے مسلمانوں، عیسائیوں، پارسیوں، سکھوں، یہودیوں، دلتوں کو ہندو مت کے ماتحت رہنا ہو گا، موجودہ صدی کا بہت بڑا صدمہ ہے ،لہذا یہ وہی دو قومی نظریہ ہے جو اب ہندو ازم بن کر ابھرا ہے جس میں بھارت میں دو قومیں آباد ہیں مسلمان اور ہندو، جو اب ہندوستان کو ہندوں کا ملک قرار دے رہا ہے جس سے انسانیت خطرے میں پڑ چکی ہے، یہی نظریہ ہٹلر کا تھا جس نے جرمنی میں آباد لاکھوں یہودیوں ،کمیونسٹوں، خانہ بدوشوں اور ہم جنسوں کا قتل عام کیا تھا، وہ بھارت جس کا آئین سکیولر ہے جس میں مذہب اور نسل پرستی کا ذکر تک نہیں ہے وہ آج ایک مذہبی ریاست بن کر رہ گئی جس پر ہمارے پاکستان کے دائیں بازو کا فرسودیت اور بنیاد پرست طبقہ بھارت کے سیکولرازم کا گیت گاتا ہوا نظر آتا ہے کہ بھارت کا سیکولرازم کہاں چلا گیا یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان میں سیکولرازم کا نام لینا گناہ ہے جبکہ سیکولرازم اعتدال پسندی کی اصطلاح ہے کہ ہر شخص کو اس کی مرضی کے مطابق زندہ رہنے کا حق دیا جائے جس میں جبر کا استعمال منع ہے پاکستان میں سیکولرازم کو لادینیت بتا کر لوگوں کو گمراہ کیا گیا جو کہ بہت بڑی سازش ہے تاکہ جبر کے ادارے لوگوں کی زندگی پر قابض رہیں، اگر یورپ، امریکہ اور دوسرے ممالک میں یا پھر مسلم ریاستوں بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ترکی وغیرہ میں سیکولرازم کے باوجود شہریوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو کہ لوگ اپنی مرضی کے مطابق مذہب کی پریکٹس کر سکتے ہوں تو اس کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے جو امریکہ کے لئے بہتر ہے وہ پاکستان اور ہندوستان کے لئے بھی بہتر ہو گا مگر اب بھارت بھی وہی شکل اختیار کر چکا ہے جو مذہبی جنونیت پسند ریاستوں میں ہوتی ہے یہاں مذہب کے نام پر لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے جو انسانی سانحہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ بہرحال قوم کا مطلب انسانوں کا ایسا گروہ ہے جن کی ایک زبان، نسل، لسان، کلچر، تہذیب و تمدن اور جغرافیہ ہوتا ہے جو ایک کشمیری، بنگالی، پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان یا کوئی دوسری قوم کہلاتی ہے جس میں مذہب کا تعلق نہیں ہوتا ہے جو اختیاری ہوتا ہے جس طرح صوفیائے کرام اور اولیائے کرام نے پیش کیا تھا کہ پہلے انسانوں سے محبت کرو پھر مذہب کاپرچار کرو مگر یہاں مذہب کے نام پر جبر و تشدد اختیار کیا جاتا ہے جس میں پاکستان کے خربوزے کو دیکھ کر بھارتی خربوزہ بھی لال ہو چکا ہے جو اہل بھارت کے لئے وبال بن چکا ہے، جس سے نجات کے لئے اہل دانش الٹے سیدھے فتوے جاری کرنے کی بجائے انسانیت کو بچانا چاہیے جب انسان ہو گا تو ہر قسم کا نظریہ پیش ہو سکتا ہے جس کے لئے عہد جہالت سے باہر نکل کر روشنیوں کی دنیا میں آنا چاہیے تاکہ انسانوں کے لئے مثال بن پائیں تاکہ گمراہی اور جہالت کا خاتمہ ہو۔