آپ کو پاکستان مبارک ہو

374

کئی لوگ جو پاکستان بنتے وقت نوجوان تھے آج ہمارے درمیان نہیں رہے، یہ وہ لوگ تھے جن کا مقصد اور زندگی کا نصب العین صرف اور صرف ’’پاکستان ‘‘ بنانا تھا، مسلمانوں کیلئے ایک خودمختار اور آزاد ملک۔
بھگت سنگھ کا نام تاریخی مضامین میں ضرور آپ نے پڑھا ہو گا یا پھر سنا ہو گا، چوبیس سالہ نوجوان جو اپنے ملک ہندوستان کیلئے ہنستے ہنستے پھانسی کے تختے پر چڑھ گیا، انہوں نے اپنی تحریک جیل میں رہ کر پریس کی مدد سے چلائی، وہ جیل سے بیانات دیتے اور وہ پورے ہندوستان کے اخبارات میں چھپتے، اپنے وطن کیلئے جان نثار کرنے والے ایسے ہزاروں بھگت سنگھ ہمارے بھی گزرے ہیں فرق یہ ہے کہ ان کی خبریں اخباروں میں نہیں چھپیں اور نہ ہی تحریک آزادی کی کتابوں میں شامل ہیں ورنہ ان کا حصہ کسی بھی بھگت سنگھ سے کم نہیں زیادہ ہی ہے۔
برصغیر کے مسلمان ’’پاکستان‘‘ بنارہے تھے، ایسا وطن جس میں ہر شخص چاہے وہ فقیر ہو یا بادشاہ برابر ہو گا صرف اپنے خالق اپنے اللہ کے سامنے جھکے گا، ہر اس بات پر عمل پیرا ہو گا جس کی تعلیم اسلام دیتا ہے، وہ اپنے اس آزاد وطن میں آزاد ہو گا اپنی مرضی سے اسلام کے اصولوں پر گامزن ہو کر زندگی گزارے گا، بس یہی مہینہ تھا، ایسا ہی موسم کہ جب 14اگست 27رمضان المبارک 1947ء کو برصغیر کے مسلمانوں کو قربانیوں کا صلہ پاکستان کی شکل میں مل گیا اور عید کی وہ خوشی اس سے پہلے کسی نے شاید محسوس نہیں کی تھی جو اس پہلی عید پر ہوئی جو اپنے وطن میں منائی گئی۔ تہتر سال گزرنے کے بعد چودہ اگست پھر کچھ ایسے وقت میں پڑا کہ جب میٹھی عید گزر گئی اور بقرعید کی آمد آمد تھی اور اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر ہم سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ کیا یہی وہ پاکستان تھا جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا جو ستائیس رمضان 1947ء کا عزم تھا جس کی تعبیر پانی تھی؟
مشکل کام تو ہمارے بزرگ اپنی تحریک، جان و مال اپنے پیاروں کی قربانی کی شکل میں کر گئے تھے، پاکستان بنا کر حوالے کر دیا تھا، ہمارا کام تو ویسا مشکل نہیں!! ان کے خوابوں کو تعبیر دینا ہے، دوسروں کو بدلنا مشکل ہے لیکن اپنے آپ کو نہیں، اپنے وطن اپنے ملک پاکستان کو بدلنے کیلئے سب سے ضروری ہے اپنے آپ کو بدلنا۔
پچھلے سال لاہور کی سڑکوں پر چودہ اگست کے موقع پر کچھ نوجوان موٹر سائیکلوں پر نکلے تھے جنکی قمیضوں پر پیچھے لکھا تھا ’’بجلی نہ پانی پھر بھی دل ہے پاکستانی‘‘ ان نوجوانوں کی طرح سب ہی کو شکایت ہے کہ ہمیں تو اس ملک میں بنیادی سہولتیں یعنی بجلی، پانی تک میسر نہیں ہے۔ آج نہ جانے کیوں مجھے ایک چودہ اگست کے موقع پر نشر ہونے والا ریڈیو پروگرام یاد آگیا جس میں ہوسٹ پوچھ رہا تھا کہ ’’آپ نے پاکستان کے لئے کیا کیا؟؟‘‘ 80فیصد لوگ تو اس سوال کا کوئی جواب ہی نہیں دے پائے باقی بیس فیصد بھی گول جواب ہی دے رہے تھے جیسے کہ میں ٹیکس بھرتا ہوں، بچوں کو پڑھا رہا ہوں، نوکری کرتا ہوں، میں سڑک پر کوڑا نہیں پھینکتا وغیرہ وغیرہ، ذرا سا غور کریں تو یہ تمام ایسی باتیں تھیں کہ جو ایک مہذہب اور ذمہ دار شہری کے فرائض میں آتی ہیں، یہ کسی خدمت کے زمرے میں نہیں آتی۔ کئی کالرز نے اپنے آبا و اجداد کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کریڈیٹ خود لے لیا۔
Ralay Raceوہ ہوتی ہے جس میں ریس کے آغاز سے لے کر ختم ہونے تک کھلاڑیوں کو متفق رہنا ہوتا ہے ایک کھلاڑی ایک چھوٹا سا راڈ جسے ’’Baton‘‘کہا جاتا ہے اسے لے کر ڈورتا ہے اور کچھ دور جا کر دوسرے کھلاڑی کے حوالے کر دیتا ہے اور پھر وہ کھلاڑی تیسرے کو،چوتھے کو اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اختتام تک، ’’پاکستان‘‘ نامی باتون لے کر جب اس وقت کے جی دار لوگ بھاگے تو انہوں نے جیت کر دکھایا، ہمت مرداں تو مدد خدا ہوتی ہے، انہوں نے پاکستان بنا لیا، اس بھاگ دوڑ، کوشش، تحریک میں حصہ لے کر انجام تک پہنچتے پہنچتے ہوئے نوجوان جو اس کے حصے دار تھے بڑھاپے کی حدوں کو چھونے لگے اور پھر پاکستان کو اگلی نسل کے حوالے کر کے دائمی رخصتی لے لی۔
ہم مانتے ہیں پچھلے سالوں میں ہم کئی چیزوں میں پیچھے رہے ۔ہمارا بین الاقوامی امیج، کرپشن میں ہمارا نمبر، تعلیم، صحت، ہم یہ بھی جانتے ہیں ہماری وہ نسل جس نے ستتر کی دہائی کے اریب قریب آنکھ کھولی اسے وہ کچھ میسر نہیں ہوا یا جسکی وہ حقدار تھی وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک سسٹم میں پروان چڑھ رہے ہیں جہاں نہ صرف ان کو سہولتیں اور بنیادی ضروریات میسر نہیں بین الاقوامی معاملات میں بھی پیچھے ہیں لیکن صرف یہ سوچ رکھ کر کڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
کیوں نہ ہم نئے سرے سے ’’باتون ریس‘‘ کا آغاز کریں اور انشاء اللہ کوشش کریں کہ سب سے آگے نکل جائیں، جب ہمارے بزرگوں نے اتنے مشکل وقت، اتنے مشکل حالات میں ناممکن کو ممکن کر دیا تھا تو کیا آج کی نسل یہ چیلنج قبول نہیں کرے گی؟؟
چلئے آپ کو ماضی میں لئے چلتے ہیں، تاریخ تیرہ اگست 1947وقت رات کے 11:50منٹ،ریڈیو پر اعلان ہوتا ہے ’’یہ آل انڈیا ریڈیو لاہور ہے، اب سے چند منٹ بعد ہمارے اگلے اعلان کا انتظار کیجئے‘‘ تقریباً پندرہ منٹ کی خاموشی کے بعد 12.05پر اعلان ہوتا ہے’’یہ ریڈیو پاکستان ہے، آپ کو پاکستان مبارک ہو۔‘‘