بڑا قدم مگر

53

عشروںسے یہی تجزیہ رہا ہے کہ پاکستان کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے اور یہ بھی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی باہر بنتی ہے، پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان جب امریکہ گئے تھے تو بصد نیاز پاکستان کو امریکہ کی جھولی میں ڈال دیا گیا تھا ،UNIVERSITY OF ARKENSASمیں لیاقت علی خان نے جو تقریر کی تھی اس کو پڑھ لیجئے، اندازہ ہو جائیگا، اس تابع داری کے عوض پاکستان کو سوکھا دودھ اور PL 480کے تحت امداد دی جاتی تھی، معاہدہ کچھ یوں تھا کہ امریکہ پاکستان سے کچھ چیزیں خریدے گا جس کی ادائیگی پاکستان امریکہ کو اپنی کرنسی میں کرے گا اس معاہدے کی ایک شق یہ تھی کہ پاکستان امریکہ سے یہ نہیں پوچھے گا کہ اس کو خرچ کہاں کیا جارہا ہے، ہم نے امریکہ سے کسی ٹیکنالوجی ،سائنسی مہارت، جنگی تکنیک منتقل کرنے کی درخواست نہیں کی، اتنا فہم تھا ہی نہیں، ملکی معاملات میں فہم کا مطلب ہے حب الوطنی اور ایک ایسا وژن جو ملک کو خود کفالت اور معاشی ترقی کی طرف لے جائے، بدقسمتی سے یہ فہم پاکستان کے کسی لیڈر میں تھا ہی نہیں، پاکستان نے فراخ دلی کے ساتھ امریکہ کو اپنی سرزمین پر اڈے بنانے کی اجازت بھی دی، ہر چند کہ ایوب خان کے دور میں صنعتی ترقی ہوئی مگر یہ آمریت بھی امریکہ کی آشیر باد سے ہی پھولی پھلی اور یہ بھی سچ ہے کہ ایوب دور میں ہونے والی صنعتی ترقی سے امریکہ خوف زدہ بھی ہو گیا، پاکستانی قوم کا یہ POTENTIALخطے میں چونکا دینے والا تھا، لہٰذا یہ ضروری ہو گیا تھا کہ اس صنعتی تیز رفتاری کو روک دیا جائے، ایوب خان HALLUCINATIONکا شکار ہو گئے اور رہی سہی کسر ان کی کتاب FREINDS NOT MASTERSنے پوری کر دی، یہ سمجھا گیا کہ ایوب نے امریکہ کو للکارا ہے، اس کے بعد تو تباہی مقدر ہو گئی، بھٹو نے ملک دولخت کیا اور ملک کی معیشت تباہ کر دی، سب سرمایہ کار ملک چھوڑ کر بھاگ گئے، بھٹو نے پھانسی سے قبل کہا تھا کہ اگر میں حکمرانی نہیں کروں گا تو میرا GHOSTحکومت کرے گا، شائد اس وقت کسی کو ان کی بات سمجھ نہیں آئی مگر احمدیوں کو کافر قرار دے کر وہ ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونک گئے تھے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا اور ضیاء کے بعد تو ملائیت کی آڑ میں خارجہ پالیسی کوڑیوں کے دام بیچی گئی اور ملک بفرزون ہی بنارہا، یہ غالباً اسی کے اوائل کی بات ہے کہ ایک جج نے ایک سمگلر کو الزامات سے بری کر دیا تھا اور امریکی سفیر نے اس فیصلے کو غلط قرار دیا تھا یوں سفیر پاکستان کے معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کررہے تھے۔
کشمیر کے معاملے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک پوزیشن لی اور OICسے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر پر اپنی پوزیشن واضح کرے، انہوں نے یہ کہا کہ سعودی ہمارا دوست ہے مگر پاکستان اب ’’سعودیہ کے ساتھ یا سعودی کے بغیر ‘‘ جانے کو تیار ہے یہ بیان آنا تھا کہ سعودیہ نے اپنے ایک بلین مانگ لئے تو پاکستان نے بغیر تردد کے واپس کر دئیے سنا ہے کہ یہ رقم چین سے لے کر ادا کی گئی ہے، غالباً یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے کہ ملک نے خودداری کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہونگے، پہلی بات تو یہ کہ وہ عناصر جنکی فنڈنگ سعودیہ سے ہورہی تھی اب ان کاSURVIVALمشکل ہو جائے گا، وہ یقینا اپنی دیرینہ وفاداری کا ثبوت دینے کی کوشش کرینگے اور ایک POLITICAL TURMOILپیدا کیا جا سکتا ہے مگر ان سے ان عناصر کی شناخت ممکن ہو جائے گی، یہ عناصر فرقہ وارانہ فسادات کی کوشش کریں گے اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ ان عناصر سے کیسے نمٹتی ہے ،امریکہ کو بھی ان اقدامات پر تشویش تو ہو گی، انتظار اس بات کا ہے کہ امریکہ کا ردعمل کیا ہو گا، سعودیہ سے جو تیل DEFFERED PAYMENTSکے معاہدے کے تحت آرہا ہے اس کی توثیق جولائی میں ہونی تھی جو نہ ہو سکی اب ظاہر ہے کہ اس کی توثیق ممکن نہیں ہو گی، اب سوال یہ ہے کیا ایران سے اتنا ہی تیل لینے کی کوشش کی جائے گی اور اس کی قیمت اور شرائط کیا ہونگی چین نے یہ رقم پاکستان کو کسی مالی پریشانی سے بچانے کے لئے دی ہو گی اور اس کی وجہ بہت واضح ہے کہ سی پیک پر کام شروع ہو چکا ہے اور غالباً چین نہیں چاہتا کہ پاکستان کی مالی مشکلات کی وجہ سے اس کام میں تعطل پیدا ہو، اگر پاکستان کی سیاست کااثر ختم ہوتا ہے یا کم ہوتا ہے توامریکی رسوخ میں بھی کمی آئے گی جس کو چین خوش آمدید کہے گا، روس بھی اس DELELOPEMENTسے غیر متعلق نہیں رہ سکتا، ہر چند کہ اس کے بھارت اور سعودیہ سے اچھے تعلقات ہیں، تیل کی قیمت مسلسل کم ہو رہی ہے، اس کے اثرات سعودیہ محسوس کرے گا، حج کا کاروبار بھی مندا ہے، حج اور عمرہ کرنے والوں میں پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی تھی، وزارت مذہبی کو اس بارے سوچنا ہو گا، حاجیوں اورعمرہ کرنے والوں کی تعداد گھٹا کر نہ صرف زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے بلکہ یہ کمی سعودیہ کو مالی طور پر محسوس ہو گی۔
وقت آگیا ہے کہ پاکستان امریکہ سے معذرت کر لے کہ افغان مسئلہ طالبان اورامریکہ کے درمیان ہے لہٰذا اسے دو طرفہ مذاکرات سے حل کیا جائے اور پاکستان اس میں فریق نہیں ہے، امریکہ کی افغانستان میں مصنوعی مشکلات کا حل پاکستان کیوں دے، میرے خیال میں وزارت خارجہ کا دنیا کو ایک کمزور ہی سہی یہ میسج ضرور گیا ہے کہ پاکستان اپنی پالیسی بدل سکتا ہے یا نظر ثانی کر سکتا ہے، اس تبدیلی سے ہمسایہ ممالک کو پاکستان کے بارے میں مدد ملے گی، خطے کے کچھ ممالک سے رابطے بھی ہوئے ہیں مگر معاملات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں دیکھئے کیا صورت بنتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.