اس حصار سے نکلو!

247

صبر اور تحمل کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ہم سب ہی انسان ہیں اور ان سب میں پاکستان کے عوام بھی شامل ہیں اور اس حکومت کے افراد بھی جسے پاکستان کی قیادت کرنے کا منصب اور بارِ گراں سونپا گیا ہے !
انسان ایک حد تک ہی صبر کر سکتا ہے۔ انسان فرشتے نہیں ہوتے اور ایک حد کے بعد سب ہی اپنی فطری جبلت سے مجبور اور معذور ہوجاتے ہیں۔ کشمیر پاکستان کا جذباتی مسئلہ ہے اور گذشتہ برس اسی اگست کے مہینے کی پانچ تاریخ کو بھارت کے اتھلے اور کم ظرف پردھان منتری، موذی نریندر مودی نے جس طرح کشمیر کی جداگانہ حیثیت کو بہ یک جنبشِ قلم ختم کرنے کی مذموم کوشش کی ہے اس نے پاکستانیوں کے صبر و ضبط کا بہت کڑا امتحان لیا ہے اور ابتک مسلسل لے رہا ہے!
مودی بھارت کو ایک کٹر ہندو راشٹرا بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی ترجیحات میں بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کے وجود کو ختم کرنا تو ہمیشہ سے سرِ فہرست تھا لیکن یہ کرتے ہوئے اس نے یہ بالکل نہیں سوچا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جسمیں کشمیری عوام بھی فریق ہیں اور پاکستان بھی بھارت کے ساتھ برابر کا فریق ہے۔ پاکستانیوں کو بھارت کے اس ظالمانہ اقدام پر کس قدر غم و غصہ نہ ہوگا اس کا انداذہ دنیا بھر کو ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ دنیا کا ضمیر ایسے مسائل پر اب مردہ ہوچکا ہے یا ہونے کے بہت قریب ہے۔ پاکستان نے سوئی ہوئی دنیا کے ضمیر کوبیدار کرنے کیلئے گذشتہ ایک برس سے ہر سفارتی اور سیاسی سطح پر انتھک محنت کی ہے لیکن کامیابی بہت کم ہوئی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی۔ دنیا اپنے ضمیر اور حسِ انصاف کو طاق میں رکھ کر گہری نیند سوچکی ہے اور بھارت سے مواخذہ کرنا دنیا کے ان بڑے بڑے ممالک کو تو بطورِ خاص بالکل پسند نہیں جو اپنے آپ کو دنیا بھر کے امن اور سلامتی کا ضامن قرار دیتے ہیں اور بزعمِ خود کم ترقی یافتہ دنیا کو اخلاقیات کے موضوع پر بھاشن دینا اپنا اولین بلکہ پیدائشی حق سمجھتے ہیں! لیکن پاکستانیوں کو سب سے زیادہ دکھ اپنے عرب بھائیوں کے رویہ پر ہے اور اس قلق کا اظہار وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ ہفتے پاکستان کی ایک نجی ٹیلیوڑن چینل کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں واشگاف الفاظ میں کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر کیا اور اپنی کھری کھری باتوں سے ہم جیسوں کے دل باغ باغ کردئیے۔
عربوں کا تصور ایک عام پاکستانی کے ذہن میں، خاص طور پہ ان پاکستانیوں کا جن کا اپنے عرب برادران سے کبھی واسطہ نہیں پڑا، بڑا رومانی ہے۔ سادہ لوح پاکستانی جس کو بھی عربی بدو کے چغہ میں دیکھتا ہے یہ سمجھتا ہے کہ وہ بڑا اصل نسل جید مسلمان ہے۔ تو ضرورت اس کی ہے کہ پاکستانیوں کے اذہان سے عربوں کے بارے میں اس رومانی تصور کے بت کو ایسے ہی نکالا جائے جیسے کعبہ سے بتوں کو نکالا گیا تھا۔ تاریخ کا ایک عام طالبعلم بھی اس حقیقت سے آشنا ہے کہ آج ایک صدی سے زیادہ ہوگیا لیکن عربوں کا اخلاقی، سماجی اور سیاسی زوال مسلسل مزید پستی کی طرف جارہا ہے۔
مغربی سامراج نے ایک صدی پہلے عربوں کو خلافتِ عثمانیہ کے خلاف ورغلاکر مسلم امت کو جو پارہ پارہ کیا تھا اور مسلمانوں کے مرکز کو منتشر کیا تھا وہ کام آج بھی جاری و ساری ہے اور جیسے بیسویں صدی میں مغرب نے عرب دنیا میں اپنے گماشتے پیدا کرکے اپنے ایجنڈا کو کامیابی سے ہمکنار کیا تھا اسی طرح آج، اکیسویں صدی میں بھی وہ اپنے بٹھائے ہوئے اور اپنے ہاتھوں میں کھلونوں کی طرح کھیلتے اور استعمال ہوتے ہوئے اپنے پسندیدہ عرب حکمرانوں سے وہی کام لے رہا ہے! عرب عوام اور غیر عرب مسلمان حکومتوں اور ان کے قائدین کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ مغربی گماشتے ہیں جو مراکش سے لیکر متحدہ عرب امارات تک تخت و تاج کے مالک ہیں، سریر آرائے سلطنت ہیں، غاصب ہیں، لالچی اور لٹیرے ہیں، جمہوری ٔسلطان کے اور اپنے عوام کے سب سے بڑے دشمن ہیں لیکن اپنے مغربی آقاؤں کی حمایت اور سرپرستی کے سہارے اپنے مجبور و معذور عوام کے سینوں پر مونگ دل رہے ہیں اور سامراج کی حضوری میں پیش پیش وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو استعمار ان سے چاہتا ہے !
عمران حکومت کے کارپردازوں کو بھی اس رومانی خواب کا نشہ تھا شاید جو مودی کی کشمیر میں بربریت اور دراندازی کے بعد یہ آس لگا بیٹھے تھے کہ اسلامی ممالک کی وہ تنظیم جس کا صدر مقام سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہے پاکستان کے موقف کی حمایت میں یک زبان ہوکر اعلان کرے گی کہ مودی کا اقدام ناجائز اور ظالمانہ ہے اور وہ اس مشکل وقت میں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں! آخر کو اسلامی تنظیم کے ۷۵ مسلمان ملک اراکین ہیں اور دنیا بھر میں اپنی عددی کثرت کی بنیاد پر یہ تنظیم اقوامِ متحدہ کے بعد دوسرے نمبر پر آتی ہے ! لیکن لگتا یہ ہے کہ ایک برس تک اس خوابِ خرگوش میں گذارنے کے بعد کہ اسلامی ممالک کی تنظیم اور اس کے رکن ممالک پاکستان اور کشمیریوں کی حمایت میں آواز اٹھائیں گے یا سفارتی سطح پر کوئی ایسی مثبت کارروائی کرینگے جس سے مودی کے ہوش ٹھکانے آجائیں اب خود عمران حکومت کو ہوش آگیا ہے اور اس کے سر سے اسلامی اخوت اور برادرانہ حمایت کا بھوت اتر گیا ہے۔ اور اس بیداری کی بہت واضح جھلک ہمیں اس ٹی وی انٹرویو میں دکھائی دی جس کا ہم نے ابھی حوالہ دیا تھا اور جسمیں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے سفارتی تکلف اور وضعداری کو بالائے طاق رکھنے کے بعد کھری کھری باتیں کیں اور عرب ممالک اور ان کے بے ضمیر حکمرانوں کو آئینہ دکھانے کی سعی کی کہ وہ اس میں اپنے کریہہ قدو خال دیکھیں اور احساس کریں کہ وہ کس اخلاقی زوال کی راہ پر آنکھیں بند کئے ہوئے دوڑ رہے ہیں! ہم تو یہ کہیں گے کہ اچھا ہے کہ عمران حکومت کے ذہن سے یہ خناس کہ عرب ممالک اور ان کے سربراہان پاکستان کی یا کشمیریوں کی حمایت میں انگلی بھی اٹھائیں گے جلد نکل گیا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجاتی۔ یہ ہمارے ذہنوں کا خناس ہی تو ہے جو اسلامی ممالک کی تنظیم سے فلاح کی امید رکھتے ہیں۔ اس تنظیم کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا صدر مقام جدہ میں ہے اور جدہ اس مملکت کا شہر ہے جس کے حکمرانوں نے بزعم خود اپنے ناموں کے ساتھ خدام حرمین کا اعزاز اور اکرام منسلک کرلیا ہے جب کہ اصل میں تو سعودی حکمراں خدامِ مغرب اور بطورِ خاص خدامِ واشنگٹن ہیں اور اس وجہ سے عالم اسلام کے کسی بھی ممکنہ اتحاد اور تنظیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ سعودی حکمران کی تو ایک ایک کل امریکی سامراج کے منصوبے کو آگے بڑھانے والوں کے ہاتھو ں میں ہے اور آج کل سعودی عرب پر اصل حکمراں تو ٹرمپ کا یہودی اور صیہونی داماد جیرارڈ کشنر ہے جس کے اشاروں پر سعودی ولی عہدِ معظم ناچتے ہیں اور بلا چون و چرا اس کا ہر حکم بجالاتے ہیں!
سامراج نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلے تو اپنا ایک بغل بچہ اسرائیل کی مملکت بناکر عرب دنیا کے سینے میں خنجر کی طرح مسلسل پیوست رہنے کیلئے پیدا کیا اور پھر ایک ایک کرکے ان عرب حکمرانوں کو جن کے ضمیر زندہ تھے چن چن کے ختم کیا یا اپنے گماشتوں کے ذریعے ختم کروایا۔ دیکھئے آج اس عراق کا کیا حال کردیا ہے امریکہ کی جارحیت اور اس کے نتیجہ میں وہاں جنم لینے والی مغربی گماشتوں کی حکومتوں نے۔ کیا حشر ہے آج لیبیا کا جس کے با ضمیر قائد معمر قذافی کو مغربی استعمار نے ختم کروایا۔ وہاں جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے اور مغربی گماشتے ایک دوسرے کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ یہی حشر سعودیہ کا بھی ہونے والا تھا اگر وہاں ایران اور روسی مداخلت نے مغربی استعمار کو نہ للکارا ہوتا! تو پاکستان کی یہ خواہش کہ اسلامی ممالک کی تنظیم اس کے اور کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائے صدا بہ صحرا ہی ثابت ہوئی اور یہی ہونا بھی تھا اسلئے کہ اس تنظیم پر سعودی حکمراں خزانے کے سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھے ہیں۔ اور وہ کیوں چاہیں گے کہ کشمیریوں کی حمایت میں انگلی بھی ہلائیں اسلئے کہ ان کی ڈوریاں ہلانے والے سامراج اور استعمار کو یہ پسند نہیں۔ امریکہ بہادر تو مودی کے بھارت کو چین کے خلاف اپنی سرد جنگ میں مہرے کے طور پر استعمال کررہے ہیں تو وہ مودی کے ظلم کی مذمت کیوں گوارا کرسکتے ہیں۔ مودی بھی ان کا اتنا ہی بڑا گماشتہ ہے جتنے سعودی حکمراں!
شاہ محمود قریشی نے اعتراف کیا کہ گذشتہ برس دسمبر میں عمران خان نے سعودی اشارہ پر اس سربراہی کانفرنس میں شرکت سے معذوری ظاہر کی تھی جس کا انعقاد ملیشیا کے شہر کوالا لمپور میں ہوا تھا۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ اس کانفرنس کا منصوبہ عمران، ترکی کے جانباز اور نڈر صدر طیب اردگان اور ملیشیا کے اس وقت کے بیباک سربراہ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے مل کر بنایا تھا لیکن سعودی خوشنودی حاصل کرنے کے ناکام عمل میں عمران خان نے خود اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارلی اور اردگان ااور مہاتیر محمد یہ کہتے رہ گئے، بقولِ استاد قمر جلالوی، کے؎
میری نمازِ جنازہ پڑھائی اوروں نے
مرے تھے جن کیلئے وہ رہے وضو کرتے
خدا کا بڑا شکر ہے کہ عمران کی آنکھیں اب کھل گئی ہیں اگرچہ پاکستانی سیاست کے بونے، شہباز شریف جیسے، شاہ محمود قریشی کے انٹرویو اور ان کی کھری کھری باتوں پر بہت شور مچارہے ہیں کہ کیا غضب ہوگیا ان کے سعودی مربیوں کو بُراکہہ دیا۔ لیکن عمران حکومت کو ان چھٹ بھیوں کی واویلا پر کوئی کان نہیں دھرنا چاہئے یہ سعودی حکمرانوں کے کاسہ لیس تو اپنا حقِ نمک ادا کررہے ہیں۔ شریف خاندان پر تو آلِ سعود کا بڑا احسان ہے تو شہباز اگر اچھل رہا ہے تو اسے اچھلنے دو۔ آوازِ سگاں کم نہ کند رزقِ گدایا!
پاکستان کے حق میں یہی بہتر ہے کہ وہ اپنے اس ذہنی حصار سے جتنی جلدی ممکن ہے نکل آئے کہ سعودی اور ان ہی کے قبیلے کے دیگر بے ضمیر عرب حکمراں مسلمان امت یا کشمیریوں جیسے سامراج اور استعمار کے ستائے ہوئے مظلوموں کیلئے اپنے پتھر دلوں میں ہمدردی کا کوئی شائبہ بھی رکھتے ہیں۔ ان حکمرانوں کی حیثیت کیا ہے۔ ہمیں یاد آتے ہیں مرحوم حسین شہید سہروردی جو اس وقت پاکستان کے وزیرِ اعظم تھے جب برطانوی اور فرانسیسی سامراج نے اپنے گماشتے اسرائیل کے ساتھ مل کر نہر سوئیز کوہتھیانے کیلئے مصر کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ اس مرحلہ پر سہروردی صاحب نے بڑے پتے کی بات کی تھی جو اس تناظر میں غلط تھی کیونکہ مصر مظلوم تھا اور مغربی سامراج غاصب تھا، لیکن آج ان کا یہ جملہ حرف بہ حرف صحیح ہے کہ عرب ممالک کی حیثیت کیا ہے: صفر جمع صفر جمع صفر ہر حال میں صفر ہی رہے گا۔!
سو اس صفر سے کسی بھلائی کی امید رکھنا خوابوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ بے ضمیر عرب حکمراں اپنے سامراجی آقاؤں کے اشارے اور تحریک پر اسرائیل سے پینگیں بڑھارہے ہیں اور مظلوم فلسطینیوں کو انہوں نے صیہونی استعمار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ تو جو اپنے مظلوم عرب نثراد فلسطینیوں کے نہیں ہوسکے وہ کشمیریوں کی حمایت میں کیا آواز اٹھائیں گے؟ وہ تو مودی سے بھی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ خادمِ حرمین نے مودی کے ظالمانہ اقدام کے بعد اسے سرزنش کرنے کے بجائے اپنے ہاں بلاکے اپنے ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے نوازا اور رہے ہمارے چہ پدی چہ پدی کا شوربہ والے متحدہ عرب امارات کے سرپھرے حکمراں انہوں نے تو بھارت اور ہندوتوا نوازی میں حد ہی کردی بڑی شان سے سرکاری سرپرستی میں دبئی میں ہندو مندر بنوا کر!
ہمارے علامہ مرحوم اقبال نے تو کہا تھا، اپنے دین کی شان، امتیاز کے تذکرے میں کہ پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہ رہی ہے۔ علامہ زندہ ہوتے تو شاید کہتے:
پاسباں مل گئے مندر کو حرم والوں سے
تو اب عمران حکومت کو وہی کرنا چاہئے جو پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے اور جس کا عندیہ شاہ محمود قریشی نے بھی اپنے انٹرویو میں دیا کہ ان برادر ممالک کے ساتھ مل کر، جیسے ترکی، ایران اور ملیشیا، کشمیریوں کی حمایت کیلئے ایک اسلامی پلیٹ فارم تشکیل دے ، جو پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت میں بیباک اور آزاد ہیں اور جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی آواز میں آواز ملاکر مظلوم کشمیریوں کی حمایت کرنے میں پس و پیش سے کام نہیں لیتے اور مصلحت کو اپنی چادر کے طور پر استعمال نہیں کرتے۔ عربوں کی حمایت کی آس رکھنا ایسے ہی ہے جیسے پتھر سے پیاس بجھانا! کووڈ19نے ویسے ہی عرب معیشتوں کا جنازہ نکال دیا ہے اور اب ان پر انحصار کرنا وقت کا ضیاع ہے اور کچھ نہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کا قبلہ درست کریں اور ان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیں جو واقعی ہمارے دوست ہیں اور گندم نما جو فروشی نہیں کرتے!