پاک سعودیہ تعلقات میں اہم موڑ۔۔۔

372

ابرہہ نے یمن سے ایک لشکر لے کر مکہ پر حملہ کیا۔ ابرہہ کے گماشتے قریش کے اونٹ چوری کرکے لے گئے۔ حضرت عبدالمطلب اور ابرہہ کے درمیان ملاقات ہوئی۔عبدالمطلب نے صرف اپنے اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ابرہہ نے کہا: ”میں نے گمان کیا کہ آپ کعبہ کے بارے میں گفتگو کرنے آئے ہو”۔ عبدالمطلب نے کہا: ”میں اپنے اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر کا اپنا مالک ہے جس کی وہ خود حفاظت کرے گا”۔۔۔امت مسلمہ کے لئے اس تاریخی جملے میں مکمل فلسفہ پنہاں ہے۔ مکہ مدینہ کا رب محافظ ہے، مسلم اُمّہ کو اپنے اتحاد اپنے گھر کی حفاظت کی فکر ہونی چاہئے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ بھائی بھائی کا مددگار اور معاون بنایا گیا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں مسلمان بھائی ظلم و زیادتی کا شکار ہو اس کی مدد اور حمایت تمام مسلم ممالک پر فرض ہو جاتی ہے۔ مسلہ کشمیر ہو یا مسلہ فلسطین برما یادنیا بھر میں مسلمانوں کے سنگین مسائل، سعودی عرب کو بحیثیت بڑا بھائی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے مگر سعودی عرب کی موجودہ حکومت ہنودو یہودو نصاری کے سامنے کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ آج جب آزادی کشمیر میں چین اور پاکستان متحد ہیں سعودی عرب کو بھی پاکستان اور کشمیر کا دایاں بازو بننا چاہئے۔پاکستان کو جب بھی معاشی امداد کی ضرورت پیش آئی، پاکستان نے سعودیہ کی طرف دیکھا اورایسا ستر سالوں سے ہورہا ھے اور پاکستان سعودیہ کے سامنے کِمی کی زندگی گزار رہا تھا۔اب پاکستان نے اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے اور سعودیہ کے خلاف بیان ٹھوک دیا کہ اگر سعودیہ کشمیر کا مسلہ حل نہیں کراتا تو پاکستان OIC سے نکلنے کا سوچے گا۔اگلے دن ہی سعودیہ نے پاکستان سے اپنے قرضے کا ایک بلین واپس مانگ لیا۔پاکستان نے چین سے فوری یہ پیسہ لے کر سعودیہ کو واپس کردیا۔پاکستان کو سب سے زیادہ زرمبادلہ سعودی عرب کے اوورسیز پاکستانیوں سے موصول ہوتا ہے بظاہر پاکستان سعودیہ کے بغیر معاشی طور پر کمزور ہو سکتا ہے مگر پاکستان کو اپنا مفاد بھی دیکھنا ہے۔ پاکستان کے پیچھے اب چین کھڑا ہے۔دنیا کی سیاست میں اب ایک نیا بلاک بننے جارہا ہے، جس میں چین، روس، ترکی، پاکستان، ایران، بنگلہ دیش شامل ہونگے۔.چین کے لیے پاکستان اور اس کے اندر سیاسی استحکام بہت ضروری ہے، اسی لیے پاکستان میں صدارتی نظام نافذ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔سپر پاور بننے کے لئے چین کے لئے پاکستان ناگزیر ہو چکا ہے۔دوسری طرف جو بلاک ہے وہ امریکہ، انڈیا اور سعودی عرب پر مشتمل ہے۔امریکہ اور چین تو اب کُھل کر آمنے سامنے آرہے ہیں۔امریکہ چین کی مصنوعات پر آہستہ آہستہ پابندی لگانا شروع کررہا ہے۔پاکستان کو چین کے بلاک میں جانے سے زیادہ فائدہ ہوگا، کیونکہ امریکی اور سعودی بلاک نے پاکستان میں سواے مذہبی شدت پسندی، دہشت گردی کے اور کچھ نہیں دیا۔پاک سعودیہ تعلقات کی تاریخ پرانی اور پختہ چلی آ رہی تھی۔ پاکستان اور سعودی عرب میں دوستی کا پہلا معاہدہ شاہ ابن سعود کے زمانے میں 1951ء میں ہوا تھا۔ شاہ فیصل کے دور میں ان تعلقات کو بہت فروغ ملا۔ سعودی عرب ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے سرکاری سطح پر مسئلہ کشمیرمیں پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی۔ ستمبر1965ء کی پاک بھار تی جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد کی۔ اپریل 1966ء میں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔ یہ مسجد آج شاہ فیصل مسجد کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ 1967ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان میں فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔ اپریل 1968ء میں سعودی عرب سے تمام برطانوی ہوا بازوں اور فنی ماہرین کو رخصت کر دیا گیا اور ان کی جگہ پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ء کے سیلاب میں مالی امداد فراہم کی اور دسمبر 1975ء میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔پاک سعودیہ تعلقات کی ایک تاریخی اور مذہبی حیثیت ہے مگر افسوس موجودہ ولی عہدشاہ محمد سلمان کالبرل ازم اسلامی بھائی چارہ کو ہنودو یہودو نصاری پر قربان کررہا ہے۔پاکستان کے 26 لاکھ شہری سعودی عرب میں ملازمت کر رہے ہیں۔ حج و عمرہ کی بڑی تعداد پاکستانی زائرین کی ہے۔ سعودی عرب نے اپنے حریف ممالک سے لڑائی کے وقت جب بھی پاکستان کو مدد کے لئے پکارا پاک فوج نے دنیا کی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر سعودی عرب کا ساتھ دیا۔ سعودی عرب نے پاکستان کوجو 3 ارب ڈالر کا قرضہ دیا تھا اس پر سعودی عرب 3.2 فیصد سود لے رہا تھا۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان ایران سے دوستی نہ کرے بلکہ ایران سے تعلقات خراب رکھے۔سعودی عرب پاکستان کے ترکی سے بھی اچھے تعلقات نہیں چاہتا۔سعودی عرب پاکستان کے ملائیشیا سے بھی اچھے تعلقات نہیں چاہتا کیونکہ ملائیشیا ایک نئے اسلامی بلاک اور مسلم ٹریڈ کی بات کررہا ہے۔
سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان چین کو چھوڑدے اور واپس امریکی بلاک میں شامل ہوجائے اور امریکی خواہشات پوری کرے، سی پیک کو رول بیک کردے اور یہ امریکہ بھی چاہتا ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے اشارے پر لڑے، سعودی عرب کے کہنے پر چلے، پاکستان اپنی سستی لیبر سعودی عرب بھیجتا رہے اور سعودی عرب انکا جتنا مرضی استحصال کرتا رہے۔سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان نے چین کے ساتھ جو ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہیں وہ بند کرے لیکن پاکستان نے یہ سب ماننے سے انکار کردیا۔پاکستان کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس چاہتا ہے، شاہ سلمان امریکہ بھارت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مسلم ممالک پر ترجیح دیتے ہیں۔آنے والے دنوں میں پاک سعودیہ تعلقات مزید خراب ہونے کے امکان ہیں۔سعودی عرب اپنا قرضہ واپس مانگ لے،ادھار تیل دینا بند کردے،پاکستانیوں کو نکال دے لیکن اب پاکستان نے بھی غلامی کا پٹہ اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ہر طرح کے نتائج کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔پاکستان کو اپنے گھر کی فکر ہونی چاہیے مکہ مدینہ کی فکر رب کے ذمہ ہے۔ پاک سعودیہ تعلقات سیاسی نوعیت کے ہیں اور مذہبی وابستگی کا تعلق مکہ مدینہ سے ہے آل سعود سے نہیں۔