ملک لوٹنے والے ڈاکوئوں کو کڑی سزائیں دینا ہوں گی

245

ملک خداداد میں ذخیرہ اندوزی ،سمگلنگ وغیرہ کوئی نئی بات نہیں، قارئین کو شاید یاد ہو، 70ء کی دہائی میں ایک پروگرام ’’ا‘‘ ’’ن‘‘ آتا تھا، اسی پروگرام میں ہمارے سماجی اور معاشی مسائل پر تبصرہ ہوا کرتا تھا، ایک مزاحیہ پروگرام تھا لیکن دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھا جاتا تھا، ایسے میں ننھا الن سے پوچھ رہا ہے کہ چینی دکانوں میں رکھنے کے بجائے گوداموں میں کیوں رکھتی جارہی ہے تو الن جواب دیتا ہے کہ احمق (اپنے الفاظ میں) یہ گوداموں میں اس لئے رکھی جاتی ہے کہ دکانوں پر دستیاب نہیں ہو گی اور پھر جب قلت ہو گی تو مہنگے داموں بیچی جاسکے گی، ایسا کیوں ؟ارے بیوقوف اشیاء کو غائب کر دیا جائے اور پھر قیمت بڑھا کر فروخت کیا جائے، ننھا کہتا ہے اس سے عوام کو بڑی پریشانی ہو گی( اشرافیہ کو انسانوں کے تکلیف سے کوئی لینا دینا نہیں صرف اپنا بھلا مقصود ہے)ننھے کی سمجھ میں آجاتا ہے کہ مہنگائی کیوں ہوتی ہے، بیچار بڑی مایوس کن آواز میں کہتا ہے اللہ ان کو تھوڑی سے وطن سے محبت بھی دے دینا تو یہ جنم میں جانے سے بچ جاتے۔
مال دکانوں سے اٹھا کر گوداموں میں بند کرنے سے مہنگائی بڑھتی ہے، جب اشیاء ضروریہ کی قلت ہوتی ہے تو لوگ مہنگے داموں بھی خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں، ذخیرہ نادوزوں کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، یہ ظلم کافی دہائیوں سے ہوتا چلاآرہا ہے، یہ مافیا اتنا مضبوط ہے کہ کوئی حکومت اس کی بیخ کنی کرنے سے قاصرہے۔
جی چاہتا ہے ان گھٹیا، کمینے چوروں، ڈاکوئوں کو ایک لائن میں کھڑا کیا جائے اور پوچھا جائے جس ملک نے تم جیسے لوگوں کو اتنے اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا اسی کو تم نے لوٹ لیا، اس ملک کی مظلوم قوم نے تمہیں ووٹ دے کر اپنی بقاء اپنی قسمت تمہارے ہاتھوں میں سونپ دی تھی تم نے اس قوم کو ہی مار ڈالا، ان بے غیرتوں کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہ ہو گا، انہیں سرعام پھانسی دی جائے یا ان کا کورٹ مارشل کیا جائے، گولیاں سینوں میں اتار دی جائیں تاکہ آئندہ آنے والی حکومتوں کو کرپشن کرنے کی ہمت نہ رہے۔
ملک کا بچہ بچہ قرض دار ہے اور یہ ظالم لوگ ظلم سے باز نہیں آرہے، زرداری کہتا ہے کہ ’’ تم نیا پاکستان بنانے جارہے ہو تو پرانا والا بیچ دو‘‘اور ملک کو بلیک لسٹ کرنے کے لئے کوشاں ہیں، اسمبلیوں میں ملکی مسائل حل نہیں کئے جاتے، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے ہی میں وقت گزار دیا جاتا ہے، وہ لوگ جن کا بال بال کرپشن میں گندھا ہوا ہے اپنا جرم چھپانے کے لئے کس قدر دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے ہیں، ابھی تک وہ سمجھ رہے ہیں عوام انہیں معصوم ہی سمجھ رہی ہے۔
مولانا اپنی وزارت جانے کا ماتم کرتے پھررہے ہیں، انہیں اپنا گھر یاد آرہا ہے، کشمیر کمیٹی کی عیاشی یاد آرہی ہے، ختم نبوت کا کارڈ لیکرتوند ہلاتے پھررہے ہیں، ایک ان کے ہی بھائی جن کی توند ان سے بھی ڈیڑھ ہاتھ زیادہ ہے جب کہیں جاتے ہیں توند پہلے داخل ہوتی ہے بعد میں مولانا نظر آتے ہیں، بہرحال ان کی تقریریں اب بے جان ہو چکی ہیں، خود ان کے مدارس کے طلبہ بھی ان کی پالیسیوں کو سمجھنے لگے ہیں، پچھلے دھرنے میں فضلو مدارس کے طلبہ کو گھیر لائے تھے جنہیں اپنے وہاں جمع ہونے کا مقصد بھی معلوم نہیں تھا، کچھ یہ کہتے سنائی دئیے کہ حکومت یہودی ایجنڈے پر چلائی جارہی ہے ، کسی کو بتایا گیا کہ اسلام خطرے میں پڑ گیا ہے لیکن کچھ زی ہوش لوگوں کو اس واویلا کی حقیقت سمجھ میں آگئی ہے اور وہ خاموشی سے اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں، دیہاڑی والے مزدور بھلا کب بھوکے پیاسے آسمان تلے پڑے رہتے۔عمران خان نے جب سے یہ اعلان کیا ہے کہ پورے ملک کا تعلیمی نصاب ایک ہی ہو گا، ملک کے تمام تعلیمی اداروں کا کورس ایک ہی ہو گا، اس میں مدارس کے طلبہ بھی شامل ہوں گے، جنہیں پہلے سرسری سی اسلامی تعلیم دی جاتی ہے، حافظ قرآن تو بنا دیا جاتا ہے لیکن معنی سے وہ نابلد ہوتے ہیں، دوسری خرابی یہ ہے کہ جدید تعلیم سے محروم رہتے ہیں، سائنس، ٹیکنالوجی، ہسٹری، جغرافیہ اور تمام جدید علوم سے یہ بے بہرہ رہتے ہیں، اس لئے زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں، ایک طرح سے ان کی ذہانت کو محدود کر دیا جاتا ہے، یہ صرف چھوٹے موٹے مدرسوں میں پڑھاتے ہیں یا موذن بن جاتے ہیں، ملک کی اتنی بڑی نوجوانوں کی تعداد تقریباً جاہل ہی رہ جاتی ہے، ایک چھوڑے سے دائرے میں چکرانے والے چڑھا گھر کے جانوروں کی طرح ، اس لئے مولانا کو اب لنگوٹ کس کر سیاست کے اکھاڑے میں کودنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ دن جب خلیل خان فاختہ اڑاتے تھے اب جا چکے ہیں آپ کے وہ مہربان چور ڈاکو حکمران اب واپس نہیں آئیں گے جو اپنے کھانے کی بچی کھچی ہڈیاں آپ کو بھی ڈال دیتے تھے، اب دم ہلانا بند کیجئے اور خاموشی سے کسی حجرے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کیجئے، ملک کو تو خدانخواستہ آپ کیا کھنڈر کریں گے، دعا کریں کہ آپ آثار قدیمہ میں نہ تبدیل ہو جائیں۔
کراچی ایسی دولت مند بیوہ ہے جسے لوٹنے کے لئے سب تیار ہیں سہارا دینے والا کوئی نہیں، یہاں پر آگ لگے، ٹارگٹ کلنگ ہو، اغواء برائے تاوان کا تماشا ہو، پولیس گردی ہو، بھتہ خوری کی پرچیاں آئیں، صحافیوں کو ماردیا جائے، سچ لکھنے والے کے ہاتھ توڑ دئیے جائیں، کوئی بڑی بات نہیں، کراچی والوں کے لئے سمندر ہے نہ، اس لئے یہاں کے نالوں کو صاف نہیں کیا جائے کہ سمندر میں ڈوبیں یا ان گندے پانی کی لہروں میں ڈبکیاں لگائیں، یہ کسی کا بھی مسئلہ نہیں، یہاں کے کچھ مخیر حضرات امدادی سامان بانٹتے رہتے ہیں،لوگوں کے گھروں میں پانی ٹھاٹھیں مارہا ہے، قیمتی سامان بہہ گیا ہے، زندگی بھر کی جمع پونجی بہہ گئی، مکان بھی ٹوٹ پھوٹ گیا، بنیادیں ہل گئیں ہیں، مداوا کون کرے گا؟؟
اس دور نو کے جہانگیر بہرے گونگے ہیں
فضول عدل کی زنجیر میں ہلاتا ہوں
عدل کی زنجیر کھینچوں شوق سے لیکن یہاں
گھنٹیاں بجتی ہیں فریادیں نہیں سنی جاتیں