یو اے ای کیساتھ معاہدے کے باوجود مغربی کنارے کا الحاق ابھی بھی زیر غور ہے: اسرائیلی وزیراعظم

238

مقبوضہ بیت المقدس:اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے کے حصے کے طور پر مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق میں تاخیر پر راضی ہو گئے ہیں لیکن منصوبہ ابھی بھی ‘زیر غور’ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے میں انہوں نے مغربی کنارے کے ساتھ الحاق کے منصوبوں کو  موخر  کیا تھا لیکن وہ اپنی سرزمین پر حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔

نیتن یاہو، یہودی ریاست میں کئی لوگوں کی طرح مقبوضہ مغربی کنارے کو یہودیہ اور سامریہ بتاتے ہیں اور اس علاقے کو یہودیوں کے تاریخی آبائی حصے کے طور پر دعوی کرتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجی امور انور گرگاش کا کہنا تھا کہ جب تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معاہدہ نہیں ہوجاتا ہم یقینی طور پر یروشلم میں کچھ بھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے مغرب ہو یا مشرق۔

انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی مگر کہا کہ یہ معاملہ متحدہ عرب امارات کے ہاتھ میں نہیں ہے۔

متحدہ عرب امارات کے سینئر عہدیدار انور گرگش نے کہا کہ اس معاہدے سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے منصوبہ بند آباد کاریوں کا ٹاائم بم ناکارہ بنانے میں مدد ملی ہے جس سے اسرائیل اور فلسطینی تنازع کے دو ریاستی حل کو خطرات لاحق تھے۔

انور گرگاش نے کہا کہ معاہدہ جرات مندانہ مگر خطے کے لیے ایک ضروری قدم تھا۔