سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کا موازنہ

438

اگر عمران خان کی مسلط حکومت کا سابقہ حکمرانوں کی حکومت کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ موجودہ نااہل اور ناکام حکومت میں زمین و آسمان کا فرق ہے، جس کے اندر اکثریت خانہ بدوشوں اور بدیسیوں کی ہے جو موسم کے ساتھ ساتھ اپنے ڈیرے بدلتے رہتے ہیں، جو کل تک جنرلوں کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے آج وہ عمران خان کے پالیسی میکر ہیں جس میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، فواد چودھری، شیخ رشید، عمرایوب، افضل چن، فردوس اعوان، بابر اعوان، اعظم سواتی، فہمدہ مرزا، خسرو بختیار، حفیظ شیخ اور دوسرے درجنوں وزیر اور مشیر ہیں یا پھر غیر ملکی پرندے شیخ حفیظ، شہباز گل، شہزاد اکبر، زلفی بخاری، مسرت، ڈاکٹر مرزا، ثانیہ اور دوسرے لوگ شامل ہیں جن کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہی ان کو بیرون ملک پاکستانی تارکین وطن جانتے ہیں جبکہ فروغ نسیم کا تعلق الطاف حسین کے ساتھ ہے جو ماضی میں الطاف حسین کا چہیتا تھا جو الطاف حسین کو نیلسن منڈیلا کے القابات سے پکارا کرتا تھا جن کے خلاف عمران خان ہما وقت بڑے بڑے پلندے اٹھائے لندن کی گلیوں میں شور مچاتا تھکتا نہیںتھا کہ ایم کیو ایم قاتلوں کا گروہ ہے، جس کے سربراہ الطاف حسین ہیں جنہوں نے ان کی آپا زہرہ بیگم کو قتل کیا ہے جس کے ردعمل میں ایم کیو ایم کی موجودہ تمام قیادت عمران خان کی بیٹی کے پیدائش کے سرٹیفکیٹ ٹی وی پر دکھایا کرتے تھے کہ عمران خان کے پاس ایک شادی کے بغیر اولاد ہوئی ہے جس کا وہ اپنے کاغذات میں ذکر تک نہیں کرتا جس کے ثبوت آج بھی الیکشن کمیشن میں موجود ہیں۔
مذکورہ بالا حکومتی وزیروں اور مشیروں کے بارے میں جاننے کا مطلب اور مقصد صرف یہ ہے کہ عمران خان کو یہ تمام لوگ جہیز میں ملے ہیں جن کو ہٹانا بھی ناممکن ہے تاہم پاکستان کی ٹوٹ پھوٹ کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور بانیٔ پاکستانی قائداعظم محمد علی جناح کے پاس لیاقت علی خان، عبدالرب نشتر، ملک غلام محمد، جوگندر ناتھ، راجہ غضنفر، علی خان، آئی آئی چندریگر، سر ظفر اللہ خان جیسے قابل ترین وزیر اور مشیر تھے، گورنر جنرل لیاقت علی خان کے پاس جوگندر ناتھ، آئی آئی چندیگر، ظفر اللہ خان، غلام محمد، عبدالستار پیرزادہ، خواجہ شہاب الدین، ایم ایم مالک، ایم اے گورمائی وغیرہ تھے جو بعد میں گورنر جنرل اور وزیراعظم بھی بنے ہیں۔گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کے پاس غلام محمد، محمد علی بوگرہ، چودھری محمد علی، فیروز خان نون، سکندر مرزا وغیرہ گزرے ہیں جو بعد میں گورنر جنرل اور وزیراعظم بنائے گئے، اگر پاکستان کے غاصبوں، آمروں اور جابروں پر نظر دوڑائیں کہ جنرل ایوب خان کے پاس منظور قادر، زیڈ اے بھٹو، عبدالصبور خان، شہاب الدین، ایس ایم ظفر، شریف الدین پیرزادہ، ایس ایم عقیلی، اے آر خان، جنرل اعظم خان اور دوسرے قانونی، معاشی اور مالیاتی ماہرین تھے جن سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کی قابلیت سے انکار کرنا مشکل ہے، جنرل یحییٰ خان کے پاس اے ایم مالک، مظفر قزلباش، محمد ہارون، اے آر کارنیلس وغیرہ لوگ پائے گئے ہیں،جنرل ضیاء الحق کے پاس اے کے بروہی، شریف الدین پیرزادہ، گوگل، ایس ایم ظفر، محمد ہارون، غلام اسحاق، محمد خان جونیجو، خواجہ صفدر، زاہد سرفراز، چودھری ظہور الٰہی، آغا شاہی، حامد ناصر چٹھہ، زیڈ اے بھٹو کے پاس نورالامین، جے اے رحیم، محمد علی قصوری، معراج محمد خان، غلام مصطفی جتوئی، غلام مصطفی ،عبدالحفیظ پیرزادہ، شیخ محمد رشید بابائے سوشلزم، مولانا کوثر نیازی ،قیوم خان، ڈاکٹر مبشر حسن، حیات شیرپائو، رانا محمد حنیف، راجہ تری رائے، خورشید حسن میر، محمد اکبر خان، عزیز احمد، محمود علی وغیرہ وغیرہ، بینظیر بھٹو کی کابینہ میں چودھری اعتزاز احسن، صاحبزادہ یعقوب علی خان، امیر حیدر کاظمی، جاوید جبار، خواجہ رحیم، احسان اللہ حق، رائو رشید خان، وی اے جعفری، محبوب الحق، یحییٰ بختیار، جنرل نصیر اللہ بابر، ڈاکٹر شیر افگن، سردار آصف احمد علی، سید اقبال حیدر، غلام مصطفی کھر، سید خورشید شاہ۔ نواز شریف کی کابینہ میں چودھری شجاعت، چودھری نثار علی خان، قادر بلوچ بجرانی، جاوید ہاشمی، اعظم خان ہوتی، رانا چندر سنگھ، جنرل مجید ملک ،حامد ناصر چٹھہ فاطمہ، پرویز رشید، مشاہد اللہ، طلال، نہال، دانیال، رانا ثناء اللہ، رانا محمد اقبال خان، سرتاج عزیز اور دوسرے آئینی مالیاتی اور معاشی ماہرین شامل تھے، جن کا موازنہ عمران خان کی کابینہ کے ساتھ کیا جائے تو عمرانی کابینہ میں تمام کے تمام ہر لحاظ سے بونے نظر آرہے ہیں جو کسی بھی فیلڈ میں مشاہدہ اور تجربہ نہیں رکھتے ہیں ،قانونی، معاشی اور مالیاتی ناتجربہ کار ہیں جس کی وجہ سے ملک دن بدن ڈوب رہا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا ہے تاکہ ملک کو سیاسی، آئینی، معاشی اور مالی نقصانات پہنچے جس کا کوئی ازالہ نہ ہو پائے، بحرحال پاکستان دشمن پالیسیوں کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے، جس کے لئے محب وطن قوتوں کو اتحاد پیدا کر کے ان سے چھٹکارا پانا ہو گا جن کا اقتدار میں رہنا ہر لمحہ خطرناک ہو گا جن کے دور جہالت میں ملک میں مہنگائی، بیروزگاری، غربت، افلاس، بھوک ننگ میں اضافہ ہوا، عمران خان کے تمام وعدے دھوکہ دہی پر منحصر تھے جو مسلسل لوگوں کو قرآنی قسموں اور حلف ناموں سے گمراہ کررہے تھے، بعض لوگوں کو مذہبی نعروں سے بیوقوف بنایا گیاجس میں وہ کامیاب رہا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچا ہے جس کی گزشتہ 72سالہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہے، عمران خان جان بوجھ کر اتفاق کی بجائے نفاق پیدا کررہا ہے تاکہ ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جائے یہی وجوہات ہیں کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں کے موازنے سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ حکمران ٹولہ نالائق اور نااہل ثابت ہوا ہے جو کرکٹ کھیل کی طرح پورے پاکستان کو چلارہے ہیں جس سے آج ملکی ترقی افغانستان، صومالیہ اور کانگو کے برابر آچکی ہے جس پر سلیکٹروں کو شرم آنا چاہیے مگر ان کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑرہا ہے۔