اظہر علی کا کپتانی کو ہار کی وجہ تسلیم کرنے سے انکار

274

لاہور: اظہر علی  نے اپنی کپتانی کو شکست کی وجہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، ان کے مطابق بطور ٹیم ہم اچھا پرفارم نہ کر سکے۔

میچ کے بعد میڈیا کانفرنس میں اظہر علی سے سوال ہوا کہ کیا آپ نے خراب کپتانی کی یا ٹیم اچھا نہیں کھیلی، اس پر انھوں نے کہا کہ بطور کپتان میں اس شکست کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں مگر آپ میری قیادت کو شکست کی وجہ قرار نہیں دے سکتے، بطور ٹیم ہم اچھا نہیں کھیلے،10سالہ تجربے سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے، بیٹنگ کرتے ہوئے کپتانی اور کپتانی کرتے ہوئے بیٹنگ کا نہیں سوچتا،اس لیے دونوں ایک دوسرے کو متاثر نہیں کر رہیں۔

انھوں نے کہا کہ چوتھے روز پچ اچانک آسان ہوگئی، ہم ریورس سوئنگ نہ ہونے پر حیران ہیں، بہرحال جب5وکٹیں حاصل کیں تو حالات حق میں جا رہے تھے مگر پھر جوز بٹلر اور کرس ووئیکس کی شراکت نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا،آسٹریلیا کیخلاف بین اسٹوکس کی اننگز یادگار تھی لیکن ان دونوں کی پارٹنر شپ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اظہر علی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری اننگز میں پاکستان بہتر بیٹنگ کرتے ہوئے 350کے قریب ہدف دے سکتا تھا،ہم بڑا اسکور کرتے تو انگلینڈ کو آؤٹ کلاس کردیتے، بہرحال کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے 277بھی آسان ہدف نہیں تھا لیکن انگلش ٹیم کی چھٹی وکٹ کیلیے شراکت میں چیزیں مختلف نظر آئیں، انھوں نے جوابی حملہ کیا اور میچ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔