کشمیر پر مؤقف کی وجہ سے بھارت سے تعلقات متاثر ہونا کوئی بڑی قیمت نہیں، مہاتیر محمد

346

کوالا لمپور: ملایشیاء کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے  بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا  نوٹس لینے کے لیے عالمی برادری پر زور دیا ہے ۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق کوالالمپور میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کے بھارتی فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا۔

ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے خطے میں لاکھوں فوجی تعینات کررکھے ہیں اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے سیاسی رہنمائوں، اختلاف رائے رکھنے والے شہریوں اور بچوں کو گرفتار کیا جارہا ہے اور لاک ڈائون پر سخت عملدرآمد کیلئے ٹیلی فون موبائل اور انٹرنیٹ کی خدمات پر پابندی عائد ہے۔ کشمیری بھارت کی نو لاکھ قابض فورسز کے محاصرے میں زندگی بسر کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں  شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹر آف سیٹزن کے نفاذ سے قابض فورسز جموں وکشمیر کے شہریوں کو بدترین مظالم کا نشانہ بنارہی ہیں۔

مہاتیر بن محمد نے  ٹوئٹر پر کشمیریوں سے بے باکانہ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہمیں انسانیت کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ مجھے معلوم ہے میرے بیانات کا کیا ردعمل آئے گا تاہم خاموش رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔