سلامتی کونسل میں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا

241

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور 5 اگست 2019 کو پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا۔

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ 15 رکنی ان کیمرا اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ہوا۔

شاہ محمود قریشی نے اس ملاقات کے بعد ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ‘اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایک سال میں ہونے والا یہ تیسرا اجلاس بھارت کے اس دعوے کی مکمل تردید ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اس کا داخلی معاملہ ہے، اجلاس نے غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حق پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توثیق کی تصدیق کردی ہے’۔

چین جو سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے، نے مقبوضہ وادی میں بھارت کے مظالم سے متعلق عالمی برادری کے خدشات کی نشاندہی کرنے کے لیے اس اجلاس کو منعقد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور تمام 15 ممبران نے اس مباحثے میں حصہ لیا۔

اگست میں کونسل کی صدارت رکھنے والے انڈونیشیا کے سفیر ڈیان تریانسیہ دجانی نے اجلاس کی صدارت کی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آج، جب دنیا نے بھارت کے کشمیر پر غیر قانونی قبضے کا ایک سال دیکھ لیا ہے، پاکستان یو این ایس سی کے اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی برادری اور یو این ایس سی کے ممبران کی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی علامت ہے جو بھارتی فوج کے محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں۔