بیروت دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی، 4ہزار زخمی

226

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے وسط میں واقع ساحلی ویئرہاؤس میں ہونے والے زوردار دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے اور 4ہزار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اموات میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ ریسکیو اور ایمرجنسی ادارے ملبے کے ڈھیر سے لاشیں نکال رہے ہیں۔

یہ معاشی بحران سے دوچار اور کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز سے نبردآزما بیروت میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران ہونے والا سب سے زوردار دھماکا ہے۔

صدر مچل عون نے کہا کہ 2ہزار 750ٹن امونیم نائٹریٹ کا فرٹیلائزر اور بموں میں استعمال کیا گیا جسے بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے چھ سال سے پورٹ پر ذخیرہ کیا جا رہا تھا اور یہ عمل ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے بدھ کو کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے دو ہفتے کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

لبنان ریڈ کراس کے سربراہ جیارج کیتانی نے کہا کہ ہم مکمل تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، یہاں ہر طرف لاشیں اور زخمی پڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کم از کم 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ہم علاقے کو صاف کر رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔

مقامی وقت کے مطابق شام 6بجے ہونے والے اس دھماکے کے ملبے سے ابھی تک دھواں بلند ہو رہا ہے اور دھماکے چند گھنٹوں بعد نارنجی رنگ کے بادل نے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔