دورہ انگلینڈ؛ شاہد آفریدی کوٹیم سے عمدہ کارکردگی کی امیدیں

157

شاہد آفریدی نے دورہ انگلینڈ میں قومی کرکٹ ٹیم سے عمدہ کارکردگی کی امیدیں وابستہ کرلیں۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ مشکل انگلش کنڈیشنز میں ڈرا سیریز بھی جیت کے برابر ہے،2016 میں کپتان مصباح الحق اور یونس خان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، دونوں انگلینڈ کے ماحول کا بہترین تجربہ رکھتے ہیں، کھلاڑیوں کو اچھی ٹیم مینجمنٹ کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے،کس سیشن میں کس حکمت عملی کے ساتھ کھیلنا ہے اس کیلیے پلیئرز کی بھرپور رہنمائی کرنے والے کوچز موجود ہیں،امید ہے کہ ٹیم  بیٹنگ اور بولنگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

بابر اعظم سے بلند توقعات وابستہ کیے جانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ نوجوان بیٹسمین نے کوئی اضافی دباؤ لیا بلکہ کپتانی بھی ان کے کھیل پر اثر انداز نہیں ہوئی،بابر کی توجہ اپنی کارکردگی پر مرکوز ہے، انھیں بجا طور پر پاکستانی بیٹنگ میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا سکتا ہے، آنے والے وقتوں میں وہ تن تنہا پاکستان کو میچز جتوائیں گے۔

ایک سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ فاسٹ بولرز کے حوالے سے پاکستان کی مٹی بڑی زرخیز ہے، وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر کے بعد اب نیا ٹیلنٹ بھی نظر آرہا ہے،یہ پیسرز طویل عرصے کرکٹ کھیل سکتے ہیں، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ باصلاحیت ہیں، محمد عباس، وہاب ریاض اور محمد عامر کا تجربہ بھی کارآمد ثابت ہوگا، پی ایس ایل سے مزید بولرز سامنے آئیں گے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ شاداب خان ایک اچھے آل راؤنڈر بن سکتے ہیں، وہاب ریاض عمدہ پاور ہٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، عمادوسیم بھی بیٹ اور بال سے پرفارم کرنے کے اہل ہیں، آل راؤنڈر سے ٹیم کو 25 یا 30رنز اور بطور بولر اچھی کارکردگی درکار ہوتی ہے، کپتان کو اعتماد ہونا چاہیے کہ اسے کسی بھی بیٹنگ نمبر پر آزما سکے۔ انھوں نے کہا کہ شعیب ملک نے قومی ٹیم سے باہر ہونے کے دور میں بھی خود کو سپر فٹ رکھا، پاکستان آئندہ سیریز اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ان کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ میں صرف خدمت کی سیاست کرنا چاہتا ہوں،کورونا وائرس کی وجہ سے فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا موقع ملا، ملک بھر میں براہ راست لوگوں سے رابطہ کیا، خوش آئند بات یہ ہے کہ خود وائرس کا شکار ہونے سے قبل لوگوں تک خوراک وغیرہ پہنچانے کا موقع ملا، اس دوران کرکٹ سرگرمیوں سے دور رہا، ٹریننگ کا سلسلہ تو چلتا رہا، بیٹ اور بال کو ہاتھ نہیں لگایا، سیاست میں تو ہوں لیکن صرف خدمت کی سیاست کرنا چاہتا ہوں۔