بلیک باؤڈ ہیک: برطانیہ، امریکا اور کینیڈا کی کئی یونیورسٹیوں کا ڈیٹا چوری

417

ہیکرز کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ فراہم کرنے والوں پر حملے سے برطانیہ، امریکا اور کینیڈا کے کم از کم 10 یونیورسٹیوں کے طلبا اور/یا سابق طلبا کا ڈیٹا چوری ہوگیا۔

ہیومن رائٹس واچ اور بچوں کی ذہنی صحت کی فلاحی تنظیم ، ینگ مائنڈز نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ متاثر ہوئے تھے۔

اس ہیک نے بلیک باؤڈ کو نشانہ بنایا جو دنیا کی سب سے بڑی فراہم کرنے والی تعلیمی ایڈمنسٹریشن، فنڈ ریزنگ، اور مالیاتی انتظام کا سافٹ ویئر فراہم کرتا ہے۔

امریکا میں مقیم اس کمپنی کا سسٹم مئی میں ہیک کیا گیا تھا۔

کمپنی پر اب تک عوام کے سامنے اس کا انکشاف نہ کرنے اور ہیکرز کو نامعلوم تاوان ادا کرنے پر سخت تنقید بھی کی جارہی ہے۔

چند کیسز میں ڈیٹا صرف سابقہ طلبا تک ہی محدود تھا جن سے کہا گیا تھا کہ وہ جن اداروں سے فارغ التحصیل ہوئے ہیں ان کی مالی مدد کریں لیکن دیگر میں ہیکرز نے عملے، موجودہ طلبا اور دیگر مددگاروں کے ڈیٹا کو نشانہ بنایا۔

اب تک بی بی سی کی جانب تصدیق کیے گئے متاثرہ یونیورسٹیوں کے نام یہ ہیں:

  • نیویارک یونیورسٹی
  • آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی
  • لاؤبورو یونیورسٹی
    • لیڈز یونیورسٹی
  • لندن یونیورسٹی
  • یونیورسٹی آف ریڈنگ
  • یونیورسٹی کالج، آکسفورڈ
  • امبروز یونیورسٹی، البرٹا، کینیڈا
  • ہیومن رائٹس واچ
  • ینگ مائنڈز
  • روڈ آئی لینڈ اسکول آف ڈیزائن، امریکا
  • ایکزیٹر یونیورسٹی

تمام ادارے انہیں معافی نامہ بھیج رہے ہیں جن کا ڈیٹا چوری ہوا۔

کچھ کیسز میں چوری شدہ ڈیٹا میں فون نمبر، عطیہ کی تاریخ اور تقریبات شامل تھے تاہم کریڈٹ کارڈ اور ادائیگی کی دیگر تفصیلات اب تک کی معلومات کے مطابق عیاں نہیں ہوئیں۔