ماہرین فلکیات کائنات کا سب سے بڑا 3 ڈی نقشہ تیار کرنے میں کامیاب

329

یوٹاہ: ماہرین فلکیات نے 20 برس کی مسلسل محنت کے بعد کائنات کا سب سے بڑا 3D نقشہ تیار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سائنس دانوں کی 20 برس کی محنت رنگ لے آئی، کائنات کا ایک 3 ڈی (سہ ابعادی) نقشہ تیار ہو گیا، ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ 11 ارب سال سے موجود نظامِ فلکیات کو سمجھنا اب آسان ہوگا۔

ماہرین کے مطابق نقشہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کائنات، جو زیادہ تر چپٹی ہے، کے مختلف حصے مختلف رفتار سے پھیلتے دکھائی دیتے ہیں، اور اس کی تاریخ میں 11 بلین سال کے فاصلے کو بھرتی جا رہی ہے۔

امریکی ریاست یوٹاہ کی یونی ورسٹی کے کوسمولوجسٹ ڈاکٹر کیلی ڈاسن کا کہنا ہے کہ ہم کائنات کی قدیم ترین تاریخ اور اس کے پھیلاؤ کی حالیہ تاریخ کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں تاہم گیارہ ارب سالوں کے بیچ ایک پریشان کن خلا موجود ہے۔

اس تحقیق میں دنیا بھر سے 100 ماہرین فلکیات نے حصہ لیا، تحقیق کے دوران 20 لاکھ سے زیادہ کہکشاؤں اور کواثر (quasars) کی تفصیلی پیمائش کی گئی، جس میں 11 بلین سال کے کائناتی خلائی وقت کا احاطہ کیا گیا ہے۔

نقشے سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح، جب کائنات کی عمر صرف 3 لاکھ سال تھی، مادے کے دھاگوں (filaments) اور خالی حصوں سے کائنات کا ڈھانچا واضح ہوا۔ ہبل دوربین کے ذریعے ہم یہ جانتے ہیں کہ جو کہکشائیں زمین سے زیادہ دوری پر ہیں وہ زمین سے قریب کہکشاؤں کی نسبت زیادہ تیزی کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کوئی اس بات پر اتفاق نہیں کر سکتا تھا کہ یہ کتنی تیزی سے پھیل رہی ہیں، اب کہکشاؤں کی اس نئی سروے میں یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ مختلف حصے مختلف رفتار سے پھیل رہے ہیں۔

اس نقشے کا وہ حصہ جو 6 ارب سال پرانا تھا، اسے بنانے کے لیے ٹیم نے بڑی اور سرخ کہکشاؤں کو استعمال کیا، مزید آگے جانے کے لیے انھوں نے چھوٹی اور نیلی کہکشاؤں کا استعمال کیا، اور پھر آخر کار کائنات کی 11 ارب سالہ پرانی تاریخ کو نقشے کا حصہ بنانے کے لیے ماہرین فلکیات نے کواثرز کا استعمال کیا، جو روشن تر کہکشائیں ہیں اور یہ ایک مرکزی سپر میسو (یعنی وہ جو سورج سے 106 سے 109 گنا بڑے ہیں) بلیک ہول پر گرنے والے مادے سے روشن ہونے والی کہکشائیں ہیں۔