حریم شاہ بھی ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی حامی

204

لاہور: ٹک ٹاک سے مشہور ہونے والی سٹار حریم شاہ بھی سوشل میڈیا کی مشہور ایپ ٹک پابندی پر پابندی کی حامی نکلیں۔

ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کو غیر اخلاقی قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کے لیے رواں ماہ 15 جولائی کو لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

ایڈووکیٹ ندیم سرورو کی جانب سے ایک شہری کی دائرہ کردہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ ٹک ٹاک استعمال کرنے والے 10 سے زائد افراد کی موت بھی واقع ہوچکی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ویڈیو شیئرنگ ایپ سوشل میڈیا پر ریٹنگ اور شہرت کے لیے پورنوگرافی پھیلانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔

درخواست میں حال ہی میں پیش آئے ایک واقعے کا ذکر بھی کیا گیا تھا، جس میں ایک لڑکی کو ٹک ٹاک پر بنے دوستوں کے ایک گروپ کی جانب سے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ٹک ٹاک جدید دور کا ایک بڑا فتنہ ہے اور مذکورہ ایپ پر پورنوگرافی، نامناسب مواد اور لوگوں کا مذاق اڑانے پر بنگلہ دیش اور ملائیشیا میں بھی اس پر پابندی لگائی جاچکی ہے، اس لیے یہاں بھی اس پر پابندی عائد کی جائے۔

تاہم ٹک ٹاک سے شہرت حاصل کرنے والی سٹار حریم شاہ دیگر اسٹارز کے برعکس ایپ پر پابندی لگانے کے حق میں ہیں۔ جی ہاں، ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ بھی حکومت کی جانب سے ایپ پر پابندی لگانے کے حق میں ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں ٹک ٹاک پر پابندی کے افواہوں پر بات کرتے ہوئے حریم شاہ نے اعتراف کیا کہ مذکورہ ایپ پر کچھ نوجوان افراد نامناسب ویڈیوز بنا رہے ہیں، جس وجہ سے حکومت ایسا قدم اٹھانے جا رہی ہے۔

حریم شاہ نے ٹک ٹاک کو حکومت کی جانب سے ممکنہ طور پر بند کیے جانے کے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر حکومت نے نئی نسل کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک فیصلہ کیا ہے تو اسے ہمیں تسلیم کرنا چاہیے اور حکومت کا اس فیصلے پر ساتھ دینا چاہیے۔

ٹک ٹاک سٹار کے مطابق مذکورہ ایپ پر کچھ نوجوان ایسی خطرناک ویڈیوز بنا رہے ہیں جن کے دوران کی زندگی کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے جب کہ دیگر فحش مواد بھی بن رہا ہے اور ایسے چند افراد کی وجہ سے پوری ایپلی کیشن کو خراب سمجھا جا رہا ہے۔