ایران نے چابہار ریل منصوبے سے بھارت کو نکال دیا

302

تہران: ایرانی حکومت نے چابہار ریل منصوبے سے بھارت کو نکال باہر کردیا۔

بھارت اور ایران نے 2016 میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ چابہار بندرگاہ سے زاہدان تک ریل لائن تعمیر کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

 

چار سال بعد ایرانی حکومت نے فنڈز اور منصوبہ شروع کرنے میں مسلسل تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے ہندوستان کو منصوبے سے خارج کردیا اور اب یہ منصوبہ خود تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب چین نے ایران کے ساتھ 25 سالہ 400 بلین ڈالرز مالیت کے اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

بھارت کو امریکی پابندیوں سے خوف تھا جس کے باعث اس نے چابہار میں معاہدے کے باوجود کام شروع نہیں کیا۔ ایران اب بھارت کی مالی مدد کے بغیر خود ہی اس پروجیکٹ پر کام شروع کرے گا اور چابہار کو ہلکی رفتار سے ترقی دی جائے گی۔

بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے اسے اخراج کو بھارت کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کی سفارتی شکست قرار دیا ہے۔