امريکا ميں 17 برس بعد سزائے موت پر عملدرآمد کی راہ ہموار

322

واشنگٹن: امريکا میں 3 افراد کے قاتل ڈینیل لی کو زہریلا انجیکشن لگا کر 17 برس بعد سزائے موت پر عملدرآمد کیا جائے گا، اس سے قبل 2003 میں کسی مجرم کو آخری بار سزائے موت دی گئی تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تین افراد کو قتل کرنے والے ملزم ڈینیل لی کو جرم ثابت ہونے پر 1999 میں سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن امریکا میں سزائے موت پر عمل درآمد تعطل کا شکار رہی تھی تاہم اب اپيلز کورٹ کے فيصلے کے تناظر میں وفاقی سطح پر پہلی مرتبہ سزائے موت کے فيصلے پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

اپیلز کورٹ کے فیصلے کے بعد 47 سالہ مجرم ڈينيل لی کو آج  زہریلا انجيکشن لگايا جائے گا۔ علاوہ ازیں  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظاميہ نے آئندہ مہينوں ميں مزید تين افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر رکھے ہيں۔

سابقہ ادوار کے برخلاف ٹرمپ انتظاميہ کا اس بار موقف ہے کہ سزائے موت پر عمل در آمد کی بحالی سنگين جرائم کے متاثرين کے مفاد ميں ہے اور سنگین جرائم کی بیغ کنی کے لیے سزائے موت عمل درآمد ناگزیر ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں آخری بار کسی مجرم کو سزائے موت 17 سالک قبل دی گئی تھی تاہم اس کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کو روک دیا گیا تھا۔