سنکیانگ کے معاملے پر تنقید، چین نے امریکی قانون دانوں پر پابندیاں عائد کردیں

232

چین نے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق اپنائے گئے رویے کو تنقید کا نشانہ بنانے والے تین سینئر ریپبلکن قانون سازوں اور ایک امریکی ایلچی پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

چین کے خلاف سب سے زیادہ بولنے والے سینیٹرز مارکو روبیو اور ٹیڈ کروز کے ساتھ ساتھ کانگریس کے رکن کرس اسمتھ کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ساتھ ہی بین الاقوامی مذہبی آزادی کے لیے امریکی سفیر سیم براؤن بیک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

چین کی جانب سے ان پابندیوں کا اعلان اس وقت کیا گیا جب امریکا نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر سنکیانگ میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ چین کینگو سمیت متعدد چینی حکام کے ویزا پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اثاثے بھی منجمد کردیئے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چونئنگ نے بریفنگ میں کہا کہ یہ اقدام امریکا کے غلط اقدامات کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکا سے اپنے غلط فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے اور چین کے داخلی معاملات میں مداخلت اور چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی الفاظ اور اقدامات کو روکنے کی اپیل کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پیشرفت کو دیکھتے ہوئے اس پر مزید کوئی بیان جاری کرے گا۔

چین میں انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والی ایک ایجنسی ‘امریکی کانگریشنل ایگزیکٹو کمیشن فار چائنا’ پر بھی پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔