پاکستان کی عدالتوں میں ضمیروں کے سودے کئے جاتے ہیں!!

458

نیند سے جاگو کرو ہوش اے بستی والو!
ورنہ ممکن ہے گزر جائے سر سے پانی
قومی اسمبلی میں سال کا بجٹ پیش کیا جانا تھا، علی زیدی صاحب نے دہشت گردی کی ابتداء اور معتبر شخصیات کے نام سامنے رکھ دئیے، نوید قمر صاحب آپے سے باہر ہو کر کوٹ اتارنے لگے، لگا کہ ابھی لنگوٹ کس کر اکھاڑے میں اتر جائیں گے، لیکن معاملہ رفع دفع ہو گیا، سچ ہمیشہ بہت کڑوا ہوتا ہے، اسے چور ڈاکو نہیں نگل سکتے۔
بائولے بھٹو نے عمران خان کو للکارا ’’ہمت ہے تو مقابلہ کریں‘‘ یہ ایک شیر کو میمنے کا چیلنج ہے اس کو اور کیا کہا جائے، مراد سعید نے جواب دیا تو فرار ہو گئے، یہ وہ لوگ ہیں جو چوری کر کے سینہ زوری کرتے ہیں اور چاہتے ہیں چیخ چلا کر حق کی آواز کو دبا دیں گے، آپ کی وہ پلوشہ خان اینکر عمران خان کے پروگرام ’’Clash‘‘میں سندھ کی ناگفتہ بہ حالت کو بیان کرنے پر سیخ پا ہو گئیں، عمران خان نے سندھ پر ہونے والے تمام مظالم گنوا دئیے، انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ توشہ خانہ سکینڈل میں یوسف رضا گیلانی اور آصف زرداری کا نام بھی آچکا ہے اور انہیں سندھ کے عوام کی زبوں حالی کو سامنے لانے سے کوئی نہیں روک سکتا، انہوں نے خاتون سے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ بدمعاشی نہیں چلنے دیں گے، آپ لوگ قتل کرواتے ہیں، عوم کو لوٹتے رہیں اور کوئی آواز نہ اٹھائی جائے یہ تو ہو نہیں سکتا، ایک صحافی کو قتل کروا دیا جائے، اس کی ایف آئی آر بھی نہ کاٹی جائے، مجرمان کے سامنے نہ لایا جائے، اینکر عمران کے دل میں سندھ کے عوام کا درد ہے، دکھ ہے جو سامنے آرہا ہے، یہ ظالم لوگ سندھ کے غریب عوام کو اپنی رعیت سمجھتے ہیں، یہ مفت میں محنت کروائیں، ان کی نجی جیلیں ہیں جہاں ان غریب ہاریوں کی نسلیں پل رہی ہیں، ان پر کتے چھوڑ دئیے جاتے ہیں، ان کی بیٹیوں، بہوئوں کی کوئی عزت نہیں، ظالموں کا احتساب کون کرے گا؟عدالتیں ان کے گھر کی لونڈیاں ہیں، تمہاری غداریوں کے صلے میں ملی جائیدادیں اور تمہاری ناجائز قبضوں کی زمین ان پرتم غرور کرتے ہو، اندر سے تم کتنے حقیر اور کھوکھلے ہو۔ بلاول کو چاہیے اپنے نانا کے مقبرے میں چلے جائو اور مجاوری کرو، یہ تمہاری چیئرمینی تمہارے ڈاکو بابا سائیں کے دم سے ہے، ان کے جاتے ہی یہی تمہارے نمک خور تمہیں چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے، گھوڑے کے نعل لگائے جارہے تھے مینڈک بھی پیر پھیلا کر لیٹ گیا، مساوات کا نعرہ لگا دیا، مینڈک کو کہاں نعل لگائی جائے؟
پاکستان کی عدالتوں نے اس ملک کو اپنے غلط فیصلوں کی وجہ سے جو نقصانات پہنچائے ان کا اب سدباب بھی نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنی نوکریاں بچانے کے لئے حق کو سولی پر چڑھا دیا، دولت مند کے لئے الگ قانون غریب کے لئے دوسرے فیصلے اور قانون، عدالتوں میں ضمیروں کا سودا ہوتا ہے ورنہ فیصلے کرنے میں اتنی دیر نہ ہوتی، ہر جج کا فیصلہ ایک قیمت طلب کرتا ہے، غریب کیا دے گا، کیا ننگی نہائے گی کیا نچوڑے گی، قصور وار بچ جاتا ہے بے قصور جیل میں ہوتا ہے۔
دنیا کے دل سے خوف خدا مٹ گیا ہے، وہ شامی بچہ جو ابابیلوں کی آمد کی دعا مانگتے مانگتے پتہ نہیں کب کا سو گیا ہو گا اور وہ معصوم جو اللہ سے شکایات کرنے گیا تھا اور وہ نونہال جس نے سپر پاور کے صدر کو خط لکھا تھا کہ آپ میرے ملک پر حملہ نہ کریں میرے کھلونے ٹوٹ جائیں گے اور آج کشمیر میں بربریت کا شکار ایک تین سالہ معصوم اپنے نانا کے گولیوں سے چھلنی سینے پر بیٹھا سسکیاں لے رہا ہے۔ اسے بھارتی فوج کے یزید، فرعون اسے پولیس گاڑی میں بٹھا کر اس کے نانا کے لاشے کو پامال کرتے ہیں، وہ معصوم اپنی زبان میں فریاد کررہا ہے اور رو رہا ہے لیکن کوئی اس کی مدد کو نہیں آتا، اے انصاف کے ٹھیکے داروں کیا تم لااولاد ہو یا تمہارے دل میں دل کی جگہ پتھر رکھا ہوا ہے، دیکھو ان مظالم کی پاداش میں اللہ نے کرونا بھیج دیا ہے اور اس نے چھوٹے بڑے غریب، امیر، کسی قسم کا فرق نہیں رکھا، کیا تمہاری ناجائز دولت تمہیں مرنے سے بچا سکتی ہے، تمہارے دستر خوان انواع اقسام کے لذیزکھانوں سے سجے ہوتے ہیں مگر تم چند غذائیں کھا سکتے ہو۔
اب بھی وقت ہے مظلوموں کی،معصوموں کی فریاد سنو!اقتدار اعلیٰ کی کرسیوں پر براجمان انسانوں اس درجہ انسانیت کے درجے سے نہ گرو، تمہارا بھی روز حساب ہو گا، ان معصوموں کی فریاد نے عرش کے کنگورے بھی ہلا دئیے ہونگے، مودی چائے والا گھٹیا انسان تجھے ڈرنا چاہیے، جیسے مظالم تو اپنی اس نامرد فوج سے کروا رہا ہے دیکھ چین نے تیرے ان سورمائوں کو دھول چٹا دی ہے۔ اب زمینی شکست کو دیکھ اور سمندروں کی فکر کر۔
وہ شامی بچے، وہ فلسطینی نونہال جو غذائی قلت کا شکار ہیں جنہیں ادویات بھی میسر نہیں، ان کی آہیں، بیوہ مائوں کی فریادیں، کہاں تک جارہی ہیں تمہیں نہیں معلوم جلد تم لوگوں کی فرعونیت اختتام پذیر ہو گی، اس خالق کائنات نے تمہارے اوپر ایک حقیر سے وائرس کو نازل کر دیا ہے یہ تمہاری تمام آبادی اور معیشت کو تباہی کے دہانے کی طرف لے جارہا ہے، مظلوموں پر ظلم ڈھانے والوں بزدلوں کیا تم اس عفریت کا مقابلہ کرسکتے ہو؟ اس سے پہلے بھی جب ظلم، بربریت، فحاشی، عریانی عروج پر پہنچی تو اس طرح کے عذاب آئے اور اس کرونا کے عذاب کو بھی وہی قادر مطلق ہی ختم کر سکتا ہے، اس فرمان ہے ’’میں ہی بیماری ڈالتا ہوں، میں ہی شفا دیتا ہوں‘‘
ایک امریکی بلاگر کا کیس بھی ساری عدالتوں کی خاک چھان کر اب اسلام آباد ہائیکورٹ میں داخل ہے، جج اطہر من اللہ نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ایف آئی اے اس کی نئے سرے سے انکوائری کرے۔ وزارت داخلہ ہی اسے پاکستان میں لانے کی ذمہ دار ہے اور اب وہی اسے بھگانے کی فکر کررہی ہے، کتنے افسوس اور حیرت کی بات ہے کہ ایک غیر ملکی بلاگر حکومتیں ایوانوں تک کس طرح جا پہنچی، عوام کا سوال ہے کہ کس نے اسے یہ اجازت دی ہے کہ وہ ہمارے ملکی معاملات میں دخل اندازی کرے اور اگر جن اشخاص کے اس نے نام لئے ہیں ان کے ان قبیح افعال میں ملوث ہونے کی پوری انکوائری ہونی چاہیے، وہ غیر سہی لیکن اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اسے انصاف ضرور ملے گا، پہلے تو اسے ملک میں گھسایا اب یہ فریاد ہے کہ اسے بھگائو لیکن حضور اب یہ اتنا آسان نہیں رہا، جب تک سارا کچا چٹھا سامنے نہیں آتا عدالت کوئی فیصلہ نہیں کریگی، عوام کو تشویش ہے کہ اس طرح کوئی پاکستان میں داخل ہو کر اعلیٰ قیادت تک رسائی حاصل کر کے اہم راز بھی معلوم کر سکتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں اس طرح کی خواتین دشمن کی صفوں میں گھس کر اپنی ادائوں سے اہم عہدوں پر فائز لوگوں سے راز معلوم کر کے اپنے لوگوں تک پہنچاتی رہی ہیں، جس سے دشمن کو شکست دی گئی ہے۔
سنتھیارچی کے بارے میں وزارت خارجہ کو پوری معلومات کرنی چاہیے، امریکہ کی کس سٹیٹ سے اس کا تعلق ہے، خاندان کا پس منظر کیا ہے؟ پاکستان کے اتنے دورے اس ملک سے محبت کی وجہ سے کئے ،ذرائع آمدن کیا ہیں، اس ملک میں اسے مالی معاونت کہاں سے ملتی ہے، اس کی رہائش اور دیگر اخراجات کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر مذکورہ حضرات دودھ کے دھلے نہیں تو انہیں HCLمیں دھویا جائے!!