پی آئی اے کی زبوں حالی کرپشن کی بدترین مثال

262

پاکستان کے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں پی آئی اے کے پائلٹس کے حوالے سے جو حقائق پیش کئے اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ہوا بازی کے شعبے اور مسافروں میں خوف کی ایک زبردست لہر دوڑ گئی اور پھر اس کے منفی نتائج بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے،کراچی میں گزشتہ دنوں جب پی آئی اے کا طیارہ کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں شہری آبادی پر گر کر تباہ ہوا تو ایک مرتبہ پھر قومی ایئر لائن کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے، حکومت نے تحقیقات شروع کر دی اور طیارہ ساز کمپنی کے ماہرین بھی کراچی آئے اور تحقیقات میں حصہ لیا اور شواہد اکٹھے کیے، اس تحقیقات کے نتیجے میں جو ہوشربا باتیں سامنے آئیں ان کے مطابق پی آئی اے کے آٹھ سو تیس میں سے دو سو باسٹھ پائلٹس یعنی کے ساٹھ فی صد پائلٹوں کے جہاز اڑانے کی تربیت کے لائسنس جعلی نکلے ہیںجو کہ ایک شرمناک ہونے کے ساتھ ساتھ خوفناک بات بھی ہے اور پاکستان دنیا کے بقیہ ممالک کے آگے منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا، منہ دکھانے کو تو چھوڑیں آپ ذرا تصور کریں کہ اب تک ان جعلی پائلٹوں کی وجہ سے کتنے لوگ موت کے منہ میں جا چکے ہیں، صرف کراچی میں پچانوے افراد یکا یک موت کے گھاٹ اتر گئے، اس ہولناک انکشاف کے بعد دنیا کی کئی بڑی ایئر لائنز میں ملازم پاکستانی پائلٹوں کو نوکریوں سے فوراً نکال دیا گیا اور یورپی یونین کے ممالک میں پی آئی اے کی پروازوں کو اگلے چھ ماہ کیلئے بند کر دیا گیا، انگلینڈ میں تین ایئرپورٹ پر اب پی آئی اے کے جہاز لینڈ نہیں کر سکیں گے جبکہ اقوام متحدہ نے اپنی نامزد کردہ ایئر لائنز کی فہرست میں سے پی آئی اے کا نام نکال دیا ہے لیکن یہ بربادی صرف آج کی نہیں ہے، نواز شریف اور زرداری کے دور میںجس بھرپور طریقوں سے جعلی بھرتیاں پی آئی اے میں کی گئیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، مشاہد اللہ خان جو پی آئی اے میں ایک لوڈر ہوتا تھا اس جعلی اور جاہل شخص کو نوازتے ہوئے نواز شریف نے ن لیگ کا سینیٹر بنا دیا پھر اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کو بھی اسمبلی کا ممبر بنا دیا، مشاہد اللہ نے اپنے پورے خاندان کو پی آئی اے میں بھرتی کروایا نواز شریف کی نرس طاہرہ اورنگزیب کی بیٹی مریم اورنگزیب جو وزیر اطلاعات تھیں ان کے تین بھائی پی آئی اے میں بھرتی ہوئی اور ایک پیرس ایئرپورٹ، دوسرا لندن ایئرپورٹ اور تیسرا نیویارک ایئرپورٹ کا سٹیشن منیجر ہے، پی آئی اے کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی جعلی ڈگری ہولڈر ہے، ایک زمانے میں بڑا شور ہوا کہ پی آئی اے میں دو خواتین پائلٹس آئی ہیں دو نہیں بہنیں ارم مسعود اور مریم مسعود، اب پتہ چلا کہ دونوں کی ڈگریاں اور لائسنس جعلی ہیں، ایک بہن نے گلگت ایئرپورٹ پر جہاز کی لینڈنگ کرتے ہوئے رن وے سے باہر نکال دیا تھا جس سے طیارے کو بہت نقصان ہوا تھا، دوسری بہن اس وقت خبروں کی زینت بنی جب وہ برطانیہ جانے والی فلائٹ کے دوران سو گئی تھیں اور سینکڑوں مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا، یہ دونوں پی آئی اے میں بڑی سفارشی تھیں، اسی طرح سے پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے پی آئی اے میں اندھا دھند بھرتیاں کیں جس طرح سے سندھ کے سکولوں اور کالجوں کے امتحانات میں باقاعدہ سندھیوں کو نقلیں کروا کر امتحانات میں پاس کرایا جاتا ہے اسی طرح سے پی آئی اے میں دو سو باسٹھ پائلٹس صرف میٹرک پاس ہیں اور جعلی لائسنس والے ہیں جبکہ دو سو چھپن پائلٹوں نے خود امتحان نہیں دیا بلکہ کوئی ان کی جگہ امتحان میں بیٹھا، بھرتیوں کا حال یہ ہے کہ پی آئی اے کے پاس کل بتیس جہاز ہیں اور پائلٹس آٹھ سو چھپن ہیں یعنی اب تک ان پارٹیوں کے کرپشن میں یہ تو سنا تھا کہ ڈومیسائل اور ڈرائیونگ لائسنس جعلی بنتے ہیں مگر پائلٹ لائسنس بھی جعلی بنیں گے یہ تو کبھی قائداعظم اور علامہ اقبال کے تصور میں بھی نہیں تھا، ملک میں میرٹ کی دھجیاں اڑائے جانے کااحوال یہ ہے کہ اصلی ڈگری والے اوبر چلارہے ہیں، جعلی ڈگری والے پی آئی اے کے جہاز اڑا رہے ہیں، اور بغیر ڈگری والے اسمبلیاں چلارہے ہیں، ان سارے موت کے سوداگروں کو اگر کم از کم بیس بیس سالوں تک جیلوں میں نہ ڈالا گیا توایسی غضبناک کرپشن کبھی ختم نہ ہو گی۔