ویپن آف ماسک پروٹیکشن

264

بلاشبہ پچھلی صدی میں لاتعداد جنگیں لڑی جا چکی ہیں جس میں جنگ عظیم ،کورین، ویتنام، عراق، لیبیا، افغانستان، شام، یوگو سلاویہ، چیکو سلوایا اور دوسری نو آبادیاتی نظام کے خلاف آزادی کی جنگوں میں بے تحاشہ تباہی و بربادی ہوئی، کروڑوں انسان موت کی نیند سلا دئیے گئے، ہولناک ہتھیار استعمال ہوئے، مجوزہ ممالک میں بیماریوں نے جنم لیا، جاپان ایٹم بم کی آج بھی گواہی دیتا ہے مگر موجودہ صدی کی دوسری دہائی کے سال 2020 ء میں ایک قدرتی آفت نے پوری دنیا کو گھیر رکھا ہے، جس کا دائرہ کار مشرق، مغرب، شمال اور جنوب تک پھیلا ہوا ہے جس کے سامنے دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں بے بس ہو چکی ہیں جس سے اب تک دو سو سے زیادہ ممالک کے باشندے متاثر ہو چکے ہیں جس میں ایک کروڑ چھ لاکھ سے زیادہ افراد بیمار اور پانچ لاکھ سے زیادہ موت کی نیند سو چکے ہیں جبکہ صرف امریکہ میں 26 لاکھ بیمار اور سوا لاکھ اموات ہو چکی ہیں جس کو روکنے کے لئے اب تک کوئی دوا یا ویکسین تیار نہیں ہوئی ہے لہٰذا آج پوری دنیا میں کورونا وائرس سے بچنے کے لئے ویپن آف ماسک پروٹیکشن بطور ہتھیار ابھر کر سامنے آیا ہے جس کے بارے میں ماہرین نے کہا ہے کہ آج کرونا سے بچنے کے لئے یہی ماسک ہتھیار ہے جس کو باقاعدگی سے اپنایا جائے جو وائرس کو سانس سے دوسرے شخص کے سانس میں داخل ہونے سے روکتا ہے جس سے کرونا وباء سے بچا جا سکتا ہے جو اب دنیا بھر میں مختلف ڈیزائنوں، رنگوں، فیشنوں میں بنایا جارہا ہے جو سستا اور مہنگا بھی ہے تاہم ماسک کا ہتھیار زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے جو خواتین کا پردہ، دوپٹہ، صافہ، رومال ،پلہ یادوسرے کپڑے کے لباس ہیں جو گردوغبار، طوفان، بارش، سردی گرمی میں استعمال ہوتے ہیں، آج اسی کے نقش قدم پر چل کر ماسک کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا ہے جس میں ہر انسان ایک دوسرے سے منہ چھپا رہا ہے جس سے لگتا ہے کہ آج کا انسان ایک دوسرے انسان سے نفرت کرتا ہوا نظر آرہا ہے، مزید برآں ماسک ایک انڈسٹری بن چکی ہے جس میں انسان کو خریدنے کے لئے مجبور کیا گیا ہے جو آہستہ آہستہ سیل فون کی طرح فروخت بنتا جارہا ہے جس کے بغیر ہر انسان اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے بسا اوقات لوگ فون گھر میں بھول جانے پر بے حد پریشان ہوتے ہیں اسی طرح آج ماسک کے بغیر گھر سے باہر نکلنا ممکن نہیں ہے جس کی خلاف ورزی پر امریکہ کی بعض ریاستوں میں جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں جو قانون اورضابطوں کاحصہ بن چکا ہے کہ کوئی بھی فرد کسی اجتماع، جلسے، جلوس، اجلاس طعام خانے، ہوٹل میں جائے تو ماسک کے بغیر نہیں جا سکتا، جس کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ لوگ ماسک پہن کر جمگھٹوں میں چھ فٹ کے فاصلے پر رہے گا چونکہ امریکہ میں کرونا وباء کے بارے میں ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی تجویزوں اور تدابیروں پر عمل نہیں ہورہا ہے جس کی وجہ سے کرونا ختم نہیں ہورہا جبکہ خالق کرونا چین یا جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ میں ماسک اور چھ فٹ کی حکمت عملی اپنا کر کرونا کا خاتمہ کر دیا ہے کہ آج ان ممالک میں کرونا زیرو ہو چکا ہے، امریکہ میں کرونا وباء میں اضافے کی بنا پر یورپی یونین نے امریکی شہریوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ بعض ممالک میں بیرون ملک سے آنے والوں کو دو ہفتے کے لئے قرنطینہ میں رہنالازمی قرار دیا جا چکا ہے، بہر کیف ماسک ویپن آف پروٹیکشن ایک ایسا ہتھیار ہے جو عام انسان کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے جو رضا کارانہ اور غیر رضا کارانہ طور پر استعمال ہورہا ہے جو اب کرونا کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار بن کر سامنے آیا ہے جس کے بغیر انسان اب اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے، کرونا وباء سے پوری دنیا پریشان اور ہیجان میں مبتلا ہو چکی ہے جس سے وسیع پیمانے پر بے چینیاںاور وسوسے جنم لے رہے ہیں، جس کے سامنے ابھی تک بڑے بڑے سائنسدان ناکام ہوتے نظر آرہے ہیں، جو ابھی تک لاعلاج نظر آرہا ہے، کرونا کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشت تباہ و برباد ہو چکی ہے، بعض ممالک میں غربت و افلاس میں کئی گناہ اضافہ ہوا ہے جس سے ایسے ممالک میں خانہ جنگی، لوٹ مار اور قانون شکنی کے آثار پیدا ہو چکے ہیں جس میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش بھی سرفہرست ہیں جن کی حکومتوں نے اپنے عوام کے لئے اپنی دولت کے خزانے نہیں کھولے جن کو اللہ توکل چھوڑ رکھا ہے جو آج نہیں تو کل بھوک، ننگ، غربت، افلاس، بیروزگاری اور مہنگائی سے تنگ آ کر وسیع پیمانے پر خودکشیاں کریں گے یا پھر لوٹ مار کریں گے جو ان کا حق بنتا ہے کہ وہ ایسے حالات میں امراء کے خزانوں، دولتوں، جاگیروں اور جائیدادوں کو جلا کر راکھ کر دیں جو غریبوں کی بدولت بنا رکھی ہیں اوران پر خرچ بھی نہیں ہورہی۔
بہرحال موجودہ صدی میں کرونا وباء کی وجہ سے ماسک، دستانوں، سینیٹائزروں کا کاروبار خوب چمکا ہے جو ہر مقام پر دستیاب ہیں جس میں چین ماسک ویپن آف پروٹیکشن کی پیداوار میں پیش پیش ہے جو سستے داموں مجوزہ ہتھیار فراہم کررہا ہے جس کی موجودہ حالات میں بھی معیشت اتنی بری نہیں ہے جتنی دیگر ممالک کی ہوئی ہے، ماسک کی خرید و فروخت میں اب میڈیکل عملہ بھی میڈیا کے اشتہارات میں سامنے آ کر مختلف ماسکوں کی تعریف کرتا نظر آرہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماسک ایک انڈسٹری بن جائے گا جو زندگی بھر کا سیل فون یا پھر گن کی طرح ہتھیار ہو گا جس کے بغیر انسان کا چلنا پھرنا مشکل ہو گا جو ماسک کے بغیر گھر سے باہر نکلے گا جس کے بارے میں بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ماسک کے پہننے، سینیٹائزر کے استعمال سے مختلف بیماریاں جنم لیں گی جو انسانوں کے لئے ایک اور مشکل پیدا کر دے گا مگر میڈیکل اور ادویات انڈسٹری کی آج بھی موجیں ہی موجیں ہیں کل بھی مال کمائیں گی اگر کل کلاں ویکسین تیار ہو گئی تو پھر بھی میڈیکل اور دوا سازوں کے وارے نیارے ہو جائیں گے مگر عام عوام کے جانی و مالی نقصانات ہوتے رہیں گے جس کو عوام زبان میں لوٹ کھسوٹ کا نظام کہا جاتا ہے۔