کو، کو،کو

247

زیادہ تر لوگ دنیا میں آتے ہیں، زندگی کو ایک ’’مشکل‘‘ سمجھتے ہیں اور پھر اس مشکل سے لڑتے لڑتے ان کے حصے میں لکھی زندگی کب ختم ہو جاتی ہے انہیں پتہ ہی نہیں چلتا، وہ دنیا سے چلے بھی جاتے ہیں اور کچھ عرصے بعد ان کا نام و نشان بھی دنیا سے مٹ جاتا ہے لیکن ایسے بھی لوگ ہوتے ہیںجو دنیا میں آ کر کوئی ایسا کام کرتے ہیں کہ ان کے چلے جانے کے بعد بھی ان کے نام کی گونج باقی رہتی ہے، ایسا ہی ایک نام ہے سروج خان ۔
سروج خان 1948 ء کو ممبئی میں پیدا ہوئیں ان کا اصلی نام نرملا ناگ پال تھا، ان کے والدین کا تعلق پاکستان سے تھا لیکن تقسیم کے بعد وہ ممبئی شفٹ ہو گئے، 1947ء میں اور وہی سروش خان کی پیدائش ہوئی صرف تین سال کی عمر میں انہوں نے چائلڈ اسٹار کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا، فلم کا نام تھا نذرانہ جس کے بعد وہ بیک گرائونڈ ڈانسر بن گئیں اور کئی فلموں میں گروپ میں ڈانس کرتی نظر آئیں۔
بی سوہن لعل، سروج خان کے استاد تھے، صرف تیرہ سال کی عمر میں سروج خان نے اپنے انہی استاد سے شادی کر لی جن کی عمر اس وقت 43سال تھی، وہ شادی شدہ تھے اور چار بچوں کے باپ بھی، سروج خان کا کہنا ہے کہ انہیں اس پہلی شادی کا علم نہیں تھا۔
یہ شادی زیادہ عرصے نہیں چلی اور چند سال بعد ہی علیحدگی ہو گئی، جس کے بعد 1975 میں انہوں نے ایک بزنس مین سردار روشن خان سے شادی کر لی، جس کے بعد انہوں نے اپنا نام اور مذہب تبدیل کر لیا، روشن خان سے ان کی ایک بیٹی ہے سوکینہ جو دوبئی میں اپنا ڈانسنگ سکول چلاتی ہیں، سروش خان کافی عرصے بیک گرائونڈ ڈانسر رہیں پھر اسسٹنٹ کوریو گرافر ہو گئیں جس کے بعد انہیں فلم گیتا میرا نام سے مین کوریو گرافر کا بریک ملا لیکن انہیں اس کے بعد انہیں عرصے تک انتظار کرنا پڑا اپنی اصلی کامیابی دیکھنے کیلئے۔
اس زمانے میں ہوتا یہ تھا کہ کوریو گرافر صرف مرد ہوتے تھے، کسی خاتون کو انڈپینڈنٹ کوریو گرافر ماننے پر تیار نہیں ہوتے تھے، کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو ہمت نہیں ہارتے اور سروش خان انہی لوگوں میں سے ایک تھیں۔
1980ء کی دہائی میں انہوں نے سری دیوی کے ساتھ کمال کے گانے دئیے، ایک کے بعد ایک، ہوا ہوائی (مسٹر انڈیا 1987) نگینہ 1986، چاندنی 1989، ان فلموں کے بیشتر گانے سپرسپرہٹ ہوئے، فلم چالباز میں انہوں نے کمال کا گانا فلمایا، سری دیوی پر ’’کسی کے ہاتھ نہ آئے گی یہ لڑکی‘‘ بارش میں فلمائے گائے گانے میں کئی نامور آرٹسٹ اور بھی شامل تھے، سروج خان وہ پہلی خاتون کوریو گرافر تھیں جنہیں فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔
سری دیوی کے گانے آہی رہے تھے کہ انڈسٹری میں مادھوری ڈکشٹ کی آمد ہوئی اور سروج خان نے ان کے لئے بھی کمال گائے کورئیو گراف کیے جیسے مادھوری کا پہلا گانا فلم تیزاب کا 1988 میں ’’ایک دو تین‘‘ سپر ہٹ ہوا، اس کے بعد’’ تما تما لو گے‘‘ سنجے دت کے ساتھ اور پھر 1992ء کی سب سے بڑی ہٹ فلم بیٹا کا گانا ’’دل دھک دھک کرنے لگا‘‘ یہ وہ گانا تھا جب لوگ فلموں کے گانے سن کر فلم دیکھنے جاتے تھے اور اگر گانے ہٹ ہوگئے تو سمجھیں فلم ہٹ۔
سروش خان کی کامیابی کا سلسلہ کئی سال چلتا رہا، فلم دیوداس کے گانے ’’ڈولا رے ڈولا‘‘ میں ایشوریا رائے اور مادھوری ڈکشٹ کے ڈانس کو ناظرین ہمیشہ یاد کرتے ہیں۔فلم گرو، دیوداس، ہم دل دے چکے صنم، کھل نائیک، بیٹا، چالباز، تیزاب یہ وہ فلمیں ہیں جن کی کوریو گرافی کر کے سروج خان سب سے زیادہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے والی کوریو گرافربن گئیں۔
سروش خان نے ٹی وی شوز میں جج کے فرائض بھی انجام دئیے ہیں، نچ بلیے، بوگی بوگی، جھلک دِکھلا جا وغیرہ سروش خان سے سیکھ سیکھ کر سینکڑوں لڑکے لڑکیاں اچھے ڈانسرز بنے۔
3جولائی 2020 ء کو سروش کان اس دنیا سے رخصت ہو گئیں لیکن اپنے پیچھے چھوڑ گئیں کئی ہنستے مسکراتے صدا بہار نغمے (جو انہوں نے کوریو گراف کیے تھے)
بولی وڈ میں کچھ لوگ ایسے آئے جنہوں نے اس انڈسٹری کی شکل بدل دی، سروش خان ان میں سے ایک تھیں، جہاں دنیا میں کئی جگہ رائٹس وغیرہ کی بات ہوتی ہے لوگ بحث کرتے ہیں کہ خواتین کو بھی وہی مقام ملنا چاہیے جو مردوں کو ملتا ہے لیکن سروش خان نے محض باتوں پر اکتفا نہیں کیا انہوں نے کام کر کے ثابت کیا کہ عورت، مرد سے پیچھے نہیں۔
کئی سال تک سروج خان سپرہٹ گانے دیتی رہیں لیکن ان کا نام کسی بھی ایوارڈ کیلئے نامزد نہیں ہوتا تھا لیکن وہ کبھی مایوس نہیں ہوئیں، دلبرداشتہ نہیں ہوئیں اور پھر بالآخر ان کی صلاحیتوں کو اس طرح مانا گیا کہ آج ان سے زیادہ ایوارڈ ز کسی اور کوریو گرافر کے حصے میں نہیں آئے ہیں، سروش خان بے حد باصلاحیت تھیں، اسی لئے انہوں نے ایک ایسا گانا جس پر بہت سوالات اٹھ سکتے تھے ایسا پکچرائز کروایا کہ وہ بالی وڈ کی ہسٹری میں شامل ہو گیا ’’چولی کے پیچھے کیا ہے‘‘ سروش خان ایک لیجنڈ تھیں، لیجنڈ رہیں گی‘‘