عالمی انعام یافتہ موسیقار یووان شنکر راجہ کے قبول اسلام کی سچی کہانی

277

ممبئی: یووان شنکر راجہ کا کہنا ہے کہ میں نے دنیا کے زہریلے ترین کیڑوں مکوڑوں، سانپوں اور بچھوؤں سمیت ہر ایک کے خلاف اللہ تعالیٰ کو اپنا ساتھی بنا لیا ہے، اب مجھے کسی کا کوئی ڈر نہیں ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میری ماں بیمار تھی، میں ہسپتال میں ان کے بیڈ کے کنارے بیٹھا تھا۔ کمزور اور بیمار سا ہاتھ میری طاقتور مٹھی میں تھا۔ بہت مطمئن تھا کہ میں ماں کو مرنے سے روک لوں گا۔ ابھی یہ سوچ آئی ہی تھی کہ اسی لمحے ماں بے دم ہوگئیں۔ چونک کر ان کا چہرہ دیکھا، کوئی جنبش نہ تھی۔ رگ ٹٹولنے کی کوشش کی، مگر جسم ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ گھبراہٹ کے عالم ہسپتال کے کمرے میں چاروں طرف دیکھا، کرسی سے اٹھا، کھڑکی اور دروازے کو گھورا۔ کیا چیز تھی جو ماں کے جسم سے نکل گئی تھی۔ کمرے میں ایسے گھوما جیسے جانے سے روک لوں گا۔ کچھ نہ کر سکا، مجبوری اور بے بسی کے عالم میں مردہ ماں کے سرہانے لگ کر دیر تک آنسو بھرتا رہا، ماں نے واپس آنا تھا نہ آئی‘‘۔

یووان شنکر راجہ نے کہا کہ عین اسی وقت سعودی عرب میں مقیم ایک دوست کی یاد آئی۔ وہ مسلمان تھا اور کئی بار اللہ تعالیٰ کی طاقت اور بڑائی بیان کر چکا تھا۔ میں نے اسے فون گھمایا اور ماں کی موت سے آگاہ کیا۔ میرے دوست نے اسلام کو سمجھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’موت اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ روحیں اللہ کی طرف سے آتی ہیں اور وہیں واپس چلی جاتی ہیں۔ تمہارے تمام سوالوں کا جواب قرآن مجید میں مل جائے گا‘۔

میں تیزی سے اٹھا۔ میرا گھر میری منزل تھی۔ اس روز منظر ہی کچھ اور تھا۔ عجیب سی بے چینی تھی، کچھ کچھ خوف بھی طاری تھا۔ گھر میں دوست کی دی ہوئی جائے نماز اور قرآن پاک کو تلاش کیا۔ نہا دھو کر جائے نماز پر بیٹھ گیا۔ صرف ایک ہی جملہ منہ سے نکلتا رہا۔

یا اللہ مجھے معاف کر دے
یا اللہ مجھے معاف کر دے
یا اللہ مجھے معاف کر دے

ان کا کہنا تھا کہ گناہوں کی معافی کا طلب گار ہونے کے بعد اٹھا۔ قرآن پاک کھولا، پڑھنے کی کوشش کی، ترجمہ سمجھنے میں دیر نہ لگی۔ قرآن پاک کا ایک ایک لفظ بھاری لگا۔ میں شاید اٹھا نہ سکوں۔ صراط مستقیم شاید میرے بس میں نہ ہو۔ لیکن پتا نہیں کہاں سے مجھ میں طاقت عود کر آئی۔ میں نے اسی لمحے اسلام لانے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ دن اور آج کا دن، اسلام ہی میری زندگی کا مرکز ہے۔ میں قبول اسلام کے بعد سے بہت خوش ہوں، مجھے اللہ تعالیٰ نے وفا دار بیوی اور چاند سا بیٹا عطا کیا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ روح اور موت کیا ہوتی ہے؟ میں جانتا ن