عوام شخصیت پرستی کے سحر سے کب نکلیں گے؟

312

اے وطن کیسے یہ دھبّے در و دیوار پہ ہیں
کس شقی کے یہ طمانّچے ترے رُخسار پہ ہیں
ایسا محسوس ہوتا ہے اس ملک کو ایک منصوبے کے تحت لوٹا گیا تاکہ اسے دیوالیہ کر کے نحیف و نزار، بے دست و پا کر دیا جائے کہ یہ کسی سے مقابلہ کرنے کے قابل نہ رہے، گھٹنے ٹیک دے اور غنیم کی جھولی میں جا گرے، کیایہ غدار لوگ بھارت میں انویسٹمنٹ کر کے ملک لوٹ کر پیسہ باہر لے جانے والے بھارت کا اکھنڈ بھارت کا خواب تو پورا نہیں کرنا چاہ رہے تھے۔ محسن پاکستان محترم عبدالقدیر خان صاحب نے شکوہ کیا کہ ڈاکو نہ تو بیلسٹک میزائل کے فائر کے وقت آیا اور نہ ایٹمی دھماکہ کرنے کے لئے بٹن دبانے آیا، خان صاحب یہ اس وجہ سے نہیں آیا کہ کلنٹن کے سامنے کہہ سکے کہ ’’مائی باپ ہاتھ جوڑ کر معافی چاہتا ہوں میرا اس دھماکہ سے کوئی تعلق نہیں‘‘ بھارت بھی مجھے بری الذمہ قرار دے دے گا۔ یہ فقیر تو پاکستانی بنکوں سے ڈالر غیر ممالک میں ٹرانسفر کروارہا تھا، اس نے اپنے لوگوں کے ڈالر نکلوا دئیے، بنک چھٹی کے روز بھی 24گھنٹے کھلے رہے، پبلک ڈیلنگ بند تھی، دیار غیر سے کچھ ڈالر جو لوگ اپنے گھر والوں کو بھیجتے تھے وہ پاکستانی 46روپے میں تبدیل ہو گئے، لینے ہیں تو لے لو کہیں اس سے بھی ہاتھ نہ دھونے پڑیں، بینکوں کا جواب تھا، سونے کا کاسہ لئے یہ گداگروں سے بھی بھیک لے گیا۔
نوجوان نسل کے اعلیٰ تعلیم یافتہ شعلہ بار نگاہوں سے ہمیں گھور رہے ہیں، ان کی نظروں میں طنز، تحقیر،ہراس کا طعنہ ہے، آنکھیں شرمندگی سے جھک گئی ہیں، زبان گنگ ہے، جواب نہیں بن پڑ رہا، ان کا کاغذی پیرہن انہوں نے تار تار کر دیا ہے، وجود کی ستر پوشی مشکل ہو گئی ہے، کیا یہاں آندھیاں آئی تھیں جو سب کچھ اڑا کر لے گئیں یا سیلاب آیا تھا جو سب کچھ بہا کر لے گیا، ٹڈی دل نے حملہ کر کے یہاں کی ساری ہریالی کو چاٹ لیا، کچھ بولنا مشکل ہے، لب تھرتھرا کر آپس میں چپک گئے ہیں۔زبان خشک ہو کر تالو سے جا لگی ہے، بمشکل یہ کہتے ہیں زندگی کو ایک جہاد ہی سمجھو، اپنے نفس سے جہاد کرو، راتوں رات امیر بننے کے خواب دیکھنا چھوڑنا پڑیں گے۔ جو پچھلی نسل نہ کر سکی وہ یہ راہ فرار ہے، سامنا کرنے کی سکت نہیں، ان کہی سی آواز کانوں میں گونجتی رہی، یہ منافق ہیں سب کچھ اژدھوں، مگر مچھوں کو نگلوا دیا، یہ چپ رہے، انہیںان کا پردہ منظور تھا، کیونکہ ان کا اپنا مفاد بھی اسی چشم پوشی سے وابستہ تھا اور جاتے جاتے کہتے گئے۔
وفا سرشت میں ہوتی، تو سامنے آتی
وہ کیا فلک سے نبھائیں گے جو زمیں کے نہیں!(افتخار عارف)
سنو!تم سچے ہو، تم میں ریاکاری ،مکاری، مصلحت پرستی نہیں، ایک نصیحت اگر مان سکو تو
مَیں تجھ کو بتاتا ہُوں، تقدیرِ اُمَم کیا ہے
شمشیر و سناں اوّل، طاؤس و رباب آخر
تمہیں اپنا حق چھیننا پڑے گا، اپنے زور بازو سے، یہ نہیں کہ اپنے ہم وطنوں کا خون بہا دو یا عمارتوں کو نذر آتش کر دو تمہاری تلوار تمہارا قلم ہے، تمہاری تحریر، تمہاری تقدیر تمہارے الفاظ تیر ہیں، ان کا استعمال کرو، اپنا حق جنگ و جدل سے جدوجہد سے حاصل کیا جاتا ہے۔
موت سے جو ڈر جاؤ زندگی نہیں ملتی
جنگ جیتنا چاہو تو کشتیاں جلا دینا
جب تک عوام لیڈران کی شخصیت پرستی کے سحر سے نہیں نکلیں گے، بار بار دھوکہ کھانے پر بھی ان پر اعتبار کر لیں گے، چند سکوں کے عوض، چند کھانے کی پلیٹوں کے لئے اپنے ضمیر کا سودا کرنا موقف نہیں کریں گے، ان ہوس پرستوں سے جو اربوں کھربوں ملکی دولت ہڑپ کر گئے ہیں نجات ملنا ناممکن ہے، ان بے غیرتوں پر تو اتنے گناہوں کا انبار ہے، پھر بھی یہ عوام کے سامنے بے حیائی سے تقریریں کرتے پھرتے ہیںعوام کو تنگ کرتے ہیں ان کا جینا حرام کرتے ہیں کبھی آٹا غائب کروا دیتے ہیں کبھی چینی غائب، کبھی پٹرول ناپید، یہ مافیا والے پیسے کے بل بوتے پر اس طرح کے اذیت ناک حملے کرتے رہیں گے، ان کو تو خلائی مخلوق کے حوالے کیا جائے جو انہیں جیلوں میں ڈال کر عام قیدیوں کا سا سلوک کرے، سخت سزائیں تجویز کی جائیں اور ان پر فوری عملدرآمد ہونا چاہیے ورنہ اسی بدمعاشیہ پر لگام ڈالنا ناممکن ہے یہ کینسر کی طرح اپنی جڑیں پورے معاشرے میں پھیلا چکی ہے، وہ اسی طرح عوام کو اذیت میں مبتلا رکھے گی تاکہ حکومت کو کمزور کر سکے۔
ظلم و ستم کے شہر میں وہ ڈر کے چھپ گیا
انصاف کے خدا کا کہیںپتہ نہیں!(حکیم منظور)
بائولا بھٹو وینٹی لیٹر کے لئے شور مچارہا ہے، شاید اس کا دم گھٹ رہا ہے، اپنی پھوپھو عذرا پلیچوہو سے پوچھو جو سندھ حکومت کی وزیر صحت ہیں تو صاحب 171وینٹی لیٹر دستیاب ہوئے بعد میں وہ 203(302 نہیں)تھے۔ آپ کو معلوم ہے یہ نئے پرائیویٹ ہسپتالوں کو فروخت کر دئیے گئے اور ان کے پرانے ناکارہ قسم کے سرکاری ہسپتالوں میں لگا دئیے گئے چونکہ غریب کے مرنے کی خبر تو اخباروں میں نہیں آئے گی نہ میڈیا دکھائے گا، وہ ادارہ جس نے ان چوروں کو وینٹی لیٹرفراہم کئے تھے انہیں ان سے وصولیوں کی رسید بھی لینی تھی، فردوس نقوی نے صحیح کہا ہے کہ سندھ حکومت چور ہے اور دروغ گو بھی، یہ سب صفات انہیں ورثے میں ملی ہیں، ان کے اجداد کو جو جاگیریں، زمین عطاکی ہوئی تھیں وہ انگریزوں کی مہربانی تھی جنہوں نے اپنے وطن سے غداری پر انہیں خطابات، مراعات سے نوازا تھا، بگٹی، سردار، مزاری، بھٹو، تالپور، سومرو جنہوں نے اپنے آقائوں کے لئے فوج بنائی اور اسے انگریزوں کی فوج میں داخل کر دیا جو 1857 کی جنگ آزادی لڑرہی تھی، اپنے مفاد کی خاطر انہوں نے مادر وطن کو فروخت کر دیا اور وڈیرے، جاگیردار نواب بن بیٹھے، مخدوم بن گئے، پوچھئے ان مخدوموں کے اجداد کیا تھے؟ کون تھے۔
قائم علی شاہ جب مختصر مدت کے لئے اپنے عہدے سے فارغ ہوئے اور گائوں جانے کی تیاریاں کرنے لگے تو 26سرکاری گاڑیاں بھی ساتھ لے گئے، بیٹی نفیسہ شاہ ڈاکٹر ہے پھر بھی بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ جو خالصتاً بیوہ ،نادار خواتین یا لوگوں کے لئے تھے وہ بھی اپنے کھاتے میں سمیٹ لئے، یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے لئے کہا جاتا ہے ’’سنار اپنی ماں کی نتھ سے بھی سونا چرا لیتا ہے‘‘ بے ایمانی ،لوٹ مار، زمین سے غداری تو ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے، ان کی چوریوں، ڈکیتیوں پر کتنی قدغن لگائی جائے یہ ہیرا، پھیری سے باز آنے والے نہیں، ویسے تو موصوف ہر وقت بھنگ کے نشے میں چور رہتے ہیں لیکن چلتے وقت سمیٹنے سے باز نہ آئے۔
شہر در شہر گھر جلائے گئے
یوں بھی جشنِ طرب منائے گئے
اک طرف جھوم کر بہار آئی
اک طرف آشیاں جلائے گئے!
روشن سبطین