افغان طالبان نے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ انویسٹمنٹ کنسورشیئم قائم کردیا

65

افغان طالبان حکومت نے روس، ایران اور پاکستان کی کمپنیوں پر مشتمل ایک کنسورشیئم قائم کردیا ہے تا کہ توانائی، کان کنی اور انفرا اسٹرکچر سے متعلق سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا جاسکے۔وزارت صنعت و تجارت کے قائم مقام وزیر حاجی نور الدین عزیزی نے کہا کہ کنسورشیئم میں 14 افغان کاروباری شخصیات شامل ہیں اور وزارت تجارت نے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جو ایک ارب ڈالر مالیت کے منصوبوں کی دیکھ بھال کے لیے وفود بھیجیں گی۔سال 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کی معیشت شدید متاثر ہے، کیوں کہ طالبان کے قبضے کے بعد بین الاقوامی برادری نے زیادہ تر ترقیاتی فنڈنگ روک دی تھی اور بینکنگ سیکٹر پر پابندیاں لگادی تھیں۔اس کے علاوہ داعش کی جانب سے غیر ملکی اہداف پر سلسلہ وار حملوں نے بھی سرمایہ کاروں کو پریشانی میں مبتلا کیا۔افغان وزیر نے بتایا کہ حکومت کی توجہ طویل المدتی کاروباری منصوبوں پر ہے جس میں کنسورشیئمز، خصوصی اقتصادی زونز شامل ہیں اور سیکیورٹی یقینی بنانے پر بھی کام کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’کابینہ کے اجلاس میں سیکیورٹی کے حوالے سے کافی بات چیت ہوئی اور کمیشن بھی قائم کیا گیا ہے جبکہ (دہشت گردوں) کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ہے‘۔